جبل پور،مدھیہ پردیش کے ایک اسکول کے پرنسپل کی ’’رام‘‘کے متعلق مبینہ توہین آمیز پوسٹ کے بعد ہندوتواگروپ نے اسکول میں توڑ پھوڑ کی اور پرنسپل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس نے اس کیس میں تفتیش شروع کر دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 3:38 PM IST | Bhopal
جبل پور،مدھیہ پردیش کے ایک اسکول کے پرنسپل کی ’’رام‘‘کے متعلق مبینہ توہین آمیز پوسٹ کے بعد ہندوتواگروپ نے اسکول میں توڑ پھوڑ کی اور پرنسپل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔پولیس نے اس کیس میں تفتیش شروع کر دی ہے۔
جبل پور، مدھیہ پردیش میں ایک ہندوتوا گروپ نے ایک اسکول کے پرنسپل کے ’’رام‘‘ کے متعلق مبینہ توہین آمیز وہاٹس ایپ اسٹیٹس کے بعد اسکول میں توڑ پھوڑ کی۔ دی انڈین ایکسپریس نے رپورٹ کیا ہے کہ انہوں نے پرنسپل سے معافی کا مطالبہ کیا تھا اور دھمکی دی تھی اگرپولیس نے پرنسپل کے خلاف کارروائی نہ کی تو و ہ مظاہرہ کریں گے۔ دی انڈین ایکسپریس کے مطابق وشو ہندو پریشد گروپ کے ایک لیڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ ’’یہ احتجاج پرنسپل کےوائرل وہاٹس ایپ اسٹیٹس کے خلاف تھا جس میں رام کے خلاف توہین آمیز مواد ہے۔‘‘
#Hindutva group vandalises school in #JabalpurMP after principal’s allegedly derogatory post about Ram pic.twitter.com/XQgT6b3dwd
— 𝐕𝐢𝐤𝐚𝐬 𝐊𝐮𝐦𝐚𝐫 (@Vikas0207) April 2, 2025
وشوہندو پریشد ہندوتوا اداروں کا حصہ ہے جس کی قیادت آر ایس ایس کرتی ہےجو بی جے پی کاماتحت ادارہ ہے۔ ہندوتوا گروپ کے لیڈر نے مزید کہا کہ ’’پرنسپل کے خلاف پولیس میں شکایت بھی درج کروائی گئی ہے۔‘‘ اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پروائرل ہوئی ہے جس میں ہندو توا گروپ کے کارکنان کواسکول کی کھڑکیوں اور پوسٹر کو نقصان پہنچاتے دیکھا جاسکتا ہے۔دی انڈین ایکسپریس نے ایک نامعلوم سینئر آفیسر کاحوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’انہوں نے پولیس اوراسکول کے عملے کی موجودگی کے باوجود اسکول کے احاطے میں گندگی کی۔ مظاہرین نے اپنے غصے کا اظہار کرنے کیلئے اسکول کی دیواروں پر سیاہ پینٹ بھی پھیکا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’اسمارٹ سٹی مشن‘ کے خاتمے پرمودی سرکار سے کانگریس کا سوال
مظاہرین ۳؍ گھنٹے تک اسکول ہی میں تھےا ور پولیس کی کارروائی کی یقین دہانی کروانے کے بعد ہی وہ واپس گئے تھے۔ پولیس نے کہا کہ’’اب تک ایف آئی آر درج نہیں کی گئی ہے۔‘‘ایک نامعلوم پولیس آفیسر نے بتایا کہ ’’یہ جاننے کیلئے تکنیکی تفتیش جاری ہے کہ ملزم نے ہی یہ تصویر پوسٹ کی تھی یا یہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ذریعے تیار کردہ تصویر تھی۔جلدہی پرنسپل سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔‘‘