خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’’۲۸؍ مارچ ۲۰۲۵ء کو میانمار میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 9:02 PM IST | Naypyidaw
خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’’۲۸؍ مارچ ۲۰۲۵ء کو میانمار میں آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ۳؍ ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔‘‘
خبررساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ’’۲۸؍ مارچ ۲۰۲۵ء کو آنے والے ’’مہلک زلزلے‘‘ کے نتیجے میں اموات کی تعداد ۳؍ ہزار ۰۸۵؍ سے تجاوز کرگئی ہے۔‘‘ اے ایف پی نے ملک کی فوج کی قیادت والی حکومت کے اعلان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ اطلاعا ت فراہم کی ہیں۔ خبر رساں ایجنسی دی اسوسی ایٹ پریس نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’میانمار کی قیادت والی جنتا پارٹی بدھ کو راحت رسانی کے کام کیلئے عارضی جنگ بندی کیلئے راضی ہوگئی تھی۔ جنگ بندی کا یہ معاہدہ ۲۲؍ اپریل ۲۰۲۵ء تک جاری رہے گا۔‘‘
جہاں میانمار قدرتی تباہی کے بعد کے مرحلے کا سامنا کررہا ہے وہیں حکام نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’زلزلے کے نتیجے میں ۴؍ ہزار ۷۱۵؍ زخمی ہوئے ہیں جبکہ قدرتی آفت کے بعد ۳۴۱؍ افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔‘‘ ۲۸؍ مارچ ۲۰۲۵ء کو زلزلے کے ابتدائی جھٹکوں کے بعد میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں ۵ء۷؍شدت کا طاقتور زلزلہ آیا تھا۔ بعد ازیں ۰ء۷؍ شدت کا دوسرا بڑا زلزلہ آیا تھا جس کے نتیجے میں علاقے میں تباہی آگئی تھی۔ امریکہ کے جیولوجیکل سروے نے اپنی رپورٹ میں مختلف اعداد و شمار پیش کئے ہیں جس کے مطابق پہلا زلزلہ ۷ء۷؍ شدت کا جبکہ آفٹرشاکس کی شدت ۶ء۶؍ تھی۔
یاد رہے کہ فروری ۲۰۲۱ء میں میانمار میں خانہ جنگی کی شروعات ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اب تک کئی افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ زلزلے کے بعد مسلح مزاحمتی گروپ نے میانمارمیں عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ بی بی سی نے رپورٹ کیا ہے کہ ’’اس کے باوجود میانمار کی جنتا فوج نے ملک کے مختلف علاقوں میں بمباری جاری رکھی ہے۔‘‘