Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: فلسطین حامی مظاہروں پرٹرمپ کے شکنجہ کے خلاف ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں زبردست ریلی نکالیں گی

Updated: April 03, 2025, 6:52 PM IST | Washington

اس احتجاجی مارچ میں تجارتی یونینوں، نسائی حقوق کی تنظیموں، امن پسند گروپس، مسلم تنظیموں اور ثقافتی اداروں سمیت ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں شریک ہوں گی جو امریکہ بھر میں فلسطینیوں کے حقوق کیلئے چلائی جا رہی تحریک کو مزید تقویت دینے کا عزم رکھتی ہیں۔

A View of Pro-Palestine Demonstration in US. Photo: INN
امریکہ میں فلسطین حامی مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں ۵؍ اپریل کو ہونے والے ایک بڑے مظاہرے کی تیاریاں عروج پر ہیں جس میں ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں، امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) کے صدر دفتر کے سامنے ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین حامی آوازوں پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کریں گی۔ مظاہرین خاص طور پر کولمبیا یونیورسٹی کے طالب علم محمود خلیل، جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ہندوستانی اسکالر بدر خان سوری اور ٹفٹس یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر رمیزہ اوزترک سمیت متعدد طلبہ کی رہائی کیلئے بھی آواز بلند کریں گے جنہیں حال ہی میں غزہ میں نسل کشی کے خلاف آواز اٹھانے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا غزہ کے بڑے حصے پر قبضے کا اعلان، زمینی حملوں میں شدت

ریلی کا انعقاد کرنے والے گروپس میں شامل پیپلز فورم نے ایک بیان میں کہا کہ "ٹرمپ اور ان کی ارب پتی انتظامیہ یہ سمجھتی ہے کہ ہمارے لیڈران کو نشانہ بنا کر اور آزادی اظہار پر تاریخی پابندیاں لگا کر وہ ہماری تحریک کو دبا سکتی ہے، لیکن ہم ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ۵؍ اپریل کو ہم اپنی اجتماعی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔" پیپلز فورم کی رکن لیان فلحان نے زور دے کر کہا کہ "یہ مظاہرہ ایک واضح پیغام دے گا کہ ہم ٹرمپ کی جانب سے احتجاج کے بنیادی حق پر لگائی گئی پابندیوں کو مسترد کرتے ہیں اور اپنے ٹیکس کے پیسوں سے غزہ میں ہو رہے فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف بھی آواز اٹھا رہے ہیں۔" 

فلسطینی یوتھ موومنٹ کے رکن طاہر دحلہ نے اس مظاہرے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ "ہر روز ہم نیتن یاہو اور ٹرمپ کے نئے مظالم دیکھ رہے ہیں اور غزہ میں امدادی کارکنوں، صحافیوں اور معصوم بچوں سمیت درجنوں افراد اسرائیل کے فضائی حملوں میں مارے جا رہے ہیں۔ غزہ کے مظلوم عوام اور احتجاج کے بنیادی حق کے تحفظ کیلئے ہمیں سڑکوں پر نکلنا ہوگا۔" اس احتجاجی مارچ میں تجارتی یونینوں، نسائی حقوق کی تنظیموں، امن پسند گروپس، مسلم تنظیموں اور ثقافتی اداروں سمیت ۲۰۰؍ سے زائد گروپس شریک ہوں گے جو امریکہ بھر میں فلسطینیوں کے حقوق کیلئے چلائی جا رہی تحریک کو مزید تقویت دینے کا عزم رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ:اسرائیل نے جبالیہ میں یو این آر ڈبلیو اے شفاخانےپر بمباری کی،۱۹؍ افراد شہید

ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینی حقوق کی حمایت کرنے والے طلبہ پر چھاپہ مار کارروائیوں کے درمیان اس عظیم احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ گزشتہ ماہ کولمبیا یونیورسٹی کے فلسطینی طالب علم محمود خلیل کو بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے گرفتار کرلیا گیا اور ان پر حماس سے تعلقات کا الزام لگایا گیا۔ محض چند دنوں بعد جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ہندوستانی اسکالر بدر خان سوری کو صرف اس بنیاد پر حراست میں لے لیا گیا کہ ان کی اہلیہ فلسطینی النسل ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین واقعہ ٹفٹس یونیورسٹی کی پی ایچ ڈی اسکالر رمیزہ اوزترک کا ہے جنہیں ۲۵؍ مارچ کو دن دہاڑے غزہ میں ہونے والے قتل عام پر تنقید کرنے پر امریکی حکام نے اغوا کر لیا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں `فاشسٹ حکمرانی ایک معمول: اسکالر ہیلیہ دوتاغی

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین نواز احتجاج کی اجازت دینے پر امریکی یونیورسٹیوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کو ۴۰؍ کروڑ ڈالر کی وفاقی امداد روکنے کی دھمکی دی گئی، جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی کو ۹؍ ارب ڈالر کی فنڈنگ واپس لینے کی وعید سنائی گئی۔ اس دباؤ کے نتیجے میں کئی یونیورسٹی انتظامیہ نے فلسطینی طلبہ کی حمایت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK