Inquilab Logo Happiest Places to Work

عید کی مبارکباد کے بینر لگانے والے غیر مسلم سیاستداں اظہار یکجہتی کے حامی

Updated: April 02, 2025, 11:27 AM IST | Mumbai

مالونی میں سندیپ گوڈسے نےکہا’’ ہم تمام تہوار مل جل کرمناتے ہیں‘‘،بائیکلہ کے جام سوتکر نے کہا’’ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے‘‘،چالیس گاؤ ں کے سوپنل داس کے مطابق ’’یہ ہماری تہذیبی روایت کا حصہ ہے۔‘‘

Bandra (East) MLA Varun Sardesai`s Eid greeting banner. Photo: INN
باندرہ (ایسٹ)کے ایم ا یل اے ورون سردیسائی کا عیدکی مبارکباد کا بینر۔ تصویر: آئی این این

 عید کے موقع پرمحلوں میں اور ناکوں پر چھوٹے بڑے کچھ غیر مسلم سیاستداں ہر سال  عید کی مبارکباد کے بینر لگا تےہیں۔امسال بھی لگایا ہے ۔ پولرائزیشن کی سیاست کے اس دور میں انقلاب کے نامہ نگاروں نے جب  ان سیاستدانوں اور لیڈروں سے جاننے کی یہ کوشش کی کہ آج جبکہ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کا نام لینے سے بھی ہچکچاتی ہیں آپ کو یہ حوصلہ کیسے ملتا ہے کہ آپ علی الاعلان مسلم نوازی کا اظہار کریں؟اس  سوال پر انہوں نے جو جواب دیاکہ اس سے یہی نتیجہ اور مفہوم نکلتا ہےکہ وہ ایسا اظہار یکجہتی کیلئے کرتے ہیں اوراسے وہ ہندوستانی تہذیب و ثقافت  کا حصہ اور ہر مذہب اورذات وفرقے  کے احترام کا جذبہ خیال کرتے ہیں۔
موجودہ وقت میں جب کہ سیاسی جماعتیںمسلمانوں کا نام لینے سے ہچکچاتی ہیں، آپ کوکیسے حوصلہ ملتا ہے کہ آپ نے عیدالفطر کی مبارکباد دینے کےلئے باقاعدہ بینر لگاکر مسلم نوازی کا ثبوت دیا؟ اس سوال پر شیوسینا (ادھو) ٹھاکرے گروپ کے مالونی کے شاکھا پرمکھ سندیپ گوڈسے نے جنہوں نے بس ڈپو گیٹ نمبر ۸؍پر عید کی مبارکباد کا بینر لگایا ہے،  نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ’’ مالونی ایسا علاقہ ہے جہاں سبھی مذاہب کے لوگ مل جل کررہتے ہیں اور تمام تہوار، ہولی دیوالی ،عید، بقرعید اورمحرم مل جل کرمناتے ہیں۔میں عید میں اپنے کئی مسلم بھائیوں کے گھروں پر گیا اور شیرخرما پیا۔ ہمارے اعلیٰ  لیڈران کی بھی یہی ہدایت ہے ۔ ہمارے یہاں سماج میں نفرت پھیلانے اور زہر بونے والوں کی گنجائش یا کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘
اورلیم (ملاڈمغرب )علاقے میں ناکے پر این سی پی (اجیت پوار گروپ )عید کی مبارکبا د کا بڑا بینر آویزا ں کرنے والے سابق کارپوریٹر سریل ڈیسوزا نے کہاکہ ’’ بینر لگانا اورمبارکباد دینا، یہ ہم سب کا فرض ہے اس لئے کہ ہم سب ہرمذہب اورذات کے لوگوں کااحترام کرتے ہیں اور ان کے تہواروں میںشامل ہوتے ہیں۔ جو لوگ نفرت اوربانٹنے کی سیاست کرتے  ہیں ہم ان کےمخالف ہیںاور وہ اپنے مقصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے کیونکہ بھائی چارہ اورامن وامان کے لئے کوشاں رہنے والوں کی تعداد نفرت اورسماج کوبانٹنے کی کوشش کرنے والوں سے کہیںزیادہ ہے ، ہم نےاپنی ذمہ داری ادا کرتے ہوئے مسلم بھائیوں کو مبارکباد دی ہے ۔‘‘
ری پبلکن پارٹی آف انڈیا ممبئی کے سیکریٹری سنجے بھالے راؤ نے دھاراوی کے الگ الگ علاقو ں میںعید کی مبارکباد کےبینر لگائے ہیں اورسب سےبڑابینر ۵۰؍فٹ کا اسکائی واک پرلگایا ہے۔ ان کے مطابق ’’ہمارا ماننا ہے کہ کھانے پینے ،پہننے ،ایک دوسرے کے تہوار اور دکھ درد میں شریک ہونے کیلئے بابا صاحب نے ہمیں سکھایا ہے اور آئین میںبھی اسے لکھا ہے۔ اس لئے نفرت یازہر گھولنے کی سیاست یا ایسی سوچ رکھنےوالوں کی کوئی گنجائش نہیںہے اورنہ ہی وہ اپنی کوشش میں کبھی کامیاب ہوںگے۔ ہم نے بینر لگاکراپنی ذمہ داری ادا کی ہے اوراپنا نظریہ سماج کے سامنے رکھا ہے،یہ طاقت ہمیں بابا صاحب کے آئین نے دی ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: عروس البلاد میں عیدالفطر جوش وخروش سے منائی گئی

میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے 
اُدھو سینا کے لیڈر و بائیکلہ حلقہ انتخاب کے ایم ایل اے منوج جام سوتکر نے  اس سوال پر کہا کہ ہم اُس ملک کے شہری ہیں جہاں علامہ اقبال نے بہت پہلے یہ پیغام دیا کہ 
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھا 
ہندی ہم وطن ہیں ہندوستان ہمارا 
میں اور اس ملک کے تمام لیڈران جسے عوام منتخب کرتے ہیں ،ہمارا مقصد صرف ایک ہی ہونا چاہئےکہ ملک ترقی کرے ۔ جب ملک ترقی کرے گا تب ہی ملک  کے عوام ترقی کریں گے ۔ہر مذاہب کے ماننے والوں کا احترام کرنا نہ صرف میرا دھرم ہے بلکہ ہمارا آئین بھی یہی سکھاتا ہے ۔میں سیاست داں ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندہ بھی ہوں اور اس لئے میںپوسٹر پر مبارکباد دینے کے ساتھ عید کے موقع پر اپنے ہم وطن مسلم بھائیوں سے گلے مل کر مبارکباد دیتا ہوں اور  ایک شاعرکی زبانی ہمیشہ کہتا ہوں کہ ’میرا پیغام محبت جہاں تک پہنچے‘۔
’’میں نے اپنا فریضہ سمجھ کر عید کی مبارکباد دی ہے‘‘
چالیس گائوں میں بھی مقامی غیر مسلم سیاستدانوںاور انکے حامیوں کی جانب سے عید الفطر کی مبارکباد کے بینرس پوسٹر شہر کے مختلف چوک چوراہوں پر آویزاں کئے گئے ہیں ۔ چالیس گائوں شہر میں ہوٹل سدا نند چوراہے پر آویزاں کئے گئے دو بینر شہریوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں ۔ان میں ایک بینر گڑی پاڑوا اور ہندو نئے سال کے آغاز کی مبارکباد کا ہے جبکہ دوسرا بینر عید الفطر کی مبارک باد کا   ہے۔ دونوںہی بینر مکیش مدھو کر چودھری نے آویزاں کئے ہیں ۔ مکیش پوار  بی جے پی سے وابستہ  ۔اس ضمن میں جب نامہ نگار نے مکیش مدھوکر سے رابطہ کیا تو وہ انہوں نے فون کال کا کوئی جواب نہیں دیا ۔ان سے ملاقات کی بھی کوشش کی گئی لیکن وہ اپنے دفتر پر نہیں تھے ۔‘‘تاہم سوشل میڈیا پر چالیس گائوں کے رہنے والے سوپنل دیوداس مورے جو بی جے پی پردیش اکائی کے ایگزیکٹیو ممبر ( گریجویٹ سیل ) ہیں ،انہوں نے بھی عید کی مبارک باد کا بینر شیئر کیا ہے۔ ان سے یہ سوال کرنے پر انہوں نے کہا کہ ’’ مقامی طور پرمسلم افراد سے میرے تعلقات ہیں۔وہ مجھے ہمارے مذہبی تہواروں پر مبارکباد پیش کرتے ہیں ،میں نے بھی اپنا فریضہ سمجھا کر انہیں مبارکباد پیش کی ہے ۔یہ ہمارے ملک کی تہذیبی روایت کا حصہ  ہے کہ ہم ایک دوسرے کے تہواروں میں  اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوتے ہیں۔‘‘ 
دادا بھسے اور انا کاندے کے عید کے بینر
عید کی مبارکباد دینے کیلئے مالیگاؤں اور منماڑ میں بینرز لگائے ۔ مالیگاؤں میں موسم پُل پر دادا بھسے کی تصویر کے ساتھ بینر لگا ۔ مالیگاؤں آؤٹر اسمبلی بھسے کا انتخابی حلقہ ہے اور ریاستی حکومت میں کابینی وزیر برائے اسکولی تعلیم بھی ہیں ۔ منماڑ ریلوے جنکشن کی سمت جانے والی مین روڈ پر سہاس انّا کاندے کے فوٹو کے ساتھ بینر آویزاں کیا گیا ہے ۔ عیاں رہے کہ بھسے اور کاندے شیوسینا شندے گروپ سے وابستہ ہیں ۔ مذکورہ سوال کا جواب جاننے کیلئے نمائندے نے ان سے رابطے کئے لیکن گفتگو نہیں ہو سکی۔ ان کے انتخابی حلقے میں رہنے والوں نے البتہ بتایا کہ ’’ عید مبارک کے بینرز لگنا معمول کی بات ہے ۔ جیسے عید مبارک کے بینرز لگے ویسے گڑی پاڑوا کی تہنیت کیلئے بھی بینرز لگے تھے ۔ مسلمانوں کو مبارک باد دینے کیلئے بینرز اس لئے لگائے جاتے ہیں کہ اپنے آپ کو سیکولر بتایا جائے ۔ مسلم رائے دہندگان کے جذبات کا خیال رکھا جائے ۔ برائے نام ہی صحیح مسلم نوازی کا مظاہرہ کر کے اپنے حلقے میں ووٹوں کا توازن برقرار  رکھا جائے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK