ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ مہاتما گاندھی کو اُن پر بننے والی فلم سے قبل تک کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم ان کی شخصیت کے متعلق دنیا کو بتاتے اور ان کے خیالات کو فروغ دیتے۔
EPAPER
Updated: May 29, 2024, 4:38 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ مہاتما گاندھی کو اُن پر بننے والی فلم سے قبل تک کوئی نہیں جانتا تھا۔ یہ ہماری ذمہ داری تھی کہ ہم ان کی شخصیت کے متعلق دنیا کو بتاتے اور ان کے خیالات کو فروغ دیتے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے آج دعویٰ کیا کہ موہن داس کرم چند گاندھی یا مہاتما گاندھی کو ان کی زندگی پر فلم بننے سے پہلے ہندوستان سے باہر کوئی نہیں جانتا تھا۔ ٹیلی ویژن نیوز چینل کے ساتھ ایک انٹرویو میں وزیر اعظم نے کہا کہ ’’گزشتہ ۷۵؍ سال میں، کیا یہ ہماری ذمہ داری نہیں تھی کہ ہم پوری دنیا کو مہاتما گاندھی کے بارے میں بتاتے؟ مَیں معذرت خواہ ہوں لیکن ان کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔ فلم ’’گاندھی‘‘ بننے کے بعد لوگوں میں اس شخصیت کے بارے میں تجسس پیدا ہونے لگا۔‘‘ وزیر اعظم مبینہ طور پر ہدایت کار رچرڈ ایٹنبرو کی ۱۹۸۲ء میں گاندھی جی کی زندگی پر مبنی سوانح حیات پر مبنی فلم کا حوالہ دے رہے تھے۔
مودی نے کہا کہ گاندھی جی کا کام جنوبی افریقہ کے مخالف نسل پرستی کے کارکن نیلسن منڈیلا اور امریکی شہری حقوق کے کارکن مارٹن لوتھر کنگ کے برابر تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’مَیں ایسا دنیا گھومنے کے بعد کہہ رہا ہوں۔ ہندوستان کو گاندھی کے ذریعے توجہ حاصل کرنی چاہئے تھی۔ گاندھی کا فلسفہ آج کی دنیا کو درپیش کئی مسائل کا حل ہو سکتا ہے۔‘‘ واضح رہے کہ منڈیلا اور کنگ دونوں نے اپنی سرگرمیوں پر گاندھی کے اثر کے بارے میں لکھا ہے۔ گاندھی جی کو ہندوستان میں برطانوی راج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے ایک شخصیت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہیں ’’بابائے قوم‘‘ بھی قرار دیا جاتا ہے۔