مہاراشٹر کا موجودہ سیاسی ماحول ان دنوں انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے۔ حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔
EPAPER
Updated: March 29, 2025, 10:54 AM IST | Mumbai
مہاراشٹر کا موجودہ سیاسی ماحول ان دنوں انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے۔ حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔
مہاراشٹر کا موجودہ سیاسی ماحول ان دنوں انتہائی حساس دور سے گزر رہا ہے۔ حکمراں اور اپوزیشن جماعتوں کے درمیان بیانات کی جنگ تیز ہو گئی ہے۔ اس دوران راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر سنجے راؤت کا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے مہاراشٹر میں جاری سیاسی سرگرمیوں پر سخت ردعمل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی اور پٹنہ کے بعد آج آندھرا میں وقف بل کیخلاف مسلم تنظیموں کا احتجاج
سنجے راوت کے مطابق’’مذہب کی بنیاد پر لوگوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ `لاڈلی بہن اسکیم کے ذریعے ہر بوتھ پر ووٹ کا تناسب بڑھانے کی کوشش کی گئی۔‘‘سنجے راؤت نے رمضان کے دوران مرکزی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو دی جانے والی ’سوغاتِ مودی کِٹ‘ پر بھی تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اس سوغات کے ذریعے مسلم اکثریتی علاقوں میں یہ پروپیگنڈا کیا جائے گا کہ مسلمانوں نے حکومت کو ووٹ دیا ہے۔ اس حوالے سے انتخابی عمل میں گڑبڑ کے خدشات کی نشاندہی کی گئی ہے۔‘‘شیو سینا (یو بی ٹی) کے لیڈر نے اس حکمت عملی کو ایک سوچی سمجھی منصوبہ بندی قرار دیا ہے، جس کے ذریعے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساتھ ہی یہ خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ’’ `سوغاتِ مودی، کو `سوغاتِ گھوٹالا میں بدل دیا جا سکتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جائے گا کہ مسلمان اس سے خوش ہو کر بی جے پی کو ووٹ دے رہے ہیں۔‘‘دِشا سالیان معاملے پر سنجے راؤت نے کہا کہ ’’ پوسٹ مارٹم رپورٹ حال ہی میں سامنے آئی ہے، لیکن کیس پہلے ہی بند کیا جا چکا ہے۔‘‘ انہوں نے دِشا سالیان کے خاندانی یا معاشی حالات متعلق کہا، ’’مجھے نہیں معلوم کہ دِشا کے گھر میں کیا مسئلہ تھا، مالی پریشانی تھی یا کوئی اور مشکل۔‘‘ اس معاملے کے پس پشت انہوں نے سیاسی مقاصد پر بھی سوال قائم کئے ہیں۔