امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۳۰ روزہ جنگ بندی کی تجویز کیلئے صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پوتن کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے قابل قبول ہونے کیلئے ہماری اہم شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
EPAPER
Updated: March 17, 2025, 10:01 PM IST | Inquilab News Network | Moscow
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۳۰ روزہ جنگ بندی کی تجویز کیلئے صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پوتن کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے قابل قبول ہونے کیلئے ہماری اہم شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔
روس نے یوکرین کے ساتھ امن معاہدہ میں "فولادی" ضمانتوں کا مطالبہ کیا۔ روسی نائب وزیر خارجہ نے بیان دیا کہ روس، یوکرین کے ساتھ کسی بھی امن معاہدے میں فولادی ضمانتوں کا مطالبہ کرے گا کہ ناٹو ممالک، کیف کو تنظیم کی رکنیت سے خارج کریں گے اور یوکرین غیر جانبدار رہے گا۔ واضح رہے کہ ماسکو یوکرین کی ناٹو میں شمولیت کے خلاف ہے۔ گرشکو نے بھی کریملن کے موقف کا اعادہ کیا۔
پیر کو روس کے ایک میڈیا آؤٹ لیٹ ازویسٹیا Izvestia کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں نائب خارجہ الیگزینڈر گرشکو نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ کسی بھی دیرپا امن معاہدے کیلئے ماسکو کے مطالبات کو پورا کرنا ضروری ہے۔ ایزویسٹیا نے گروشکو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ "روس مطالبہ کرے گا کہ فولادی حفاظتی ضمانتیں اس معاہدے کا حصہ بنیں۔ ان ضمانتوں میں یوکرین کی غیر جانبدار حیثیت اور ناٹو ممالک کا اسے اتحاد میں قبول کرنے سے انکار بھی شامل ہے۔ وزیر نے پورے انٹرویو میں جنگ بندی کی تجویز کا کوئی حوالہ نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھئے: یمن پر امریکہ کے فضائی حملے،۳۱؍ افراد جاں بحق
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ ۳۰ روزہ جنگ بندی کی تجویز کیلئے صدر ولادیمیر پوتن کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرین نے گزشتہ ہفتے اس تجویز کو قبول کر لیا تھا جبکہ پوتن کا کہنا ہے کہ اس تجویز کے قابل قبول ہونے کیلئے ہماری اہم شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ امریکی ایلچی اسٹیو وِٹکوف نے ماسکو میں پوٹن کے ساتھ ایک "مثبت" ملاقات سے واپسی کے بعد اتوار کو سی این این کو بتایا کہ ٹرمپ اس ہفتے پوتن کے ساتھ یوکرین میں تین سالہ جنگ کو ختم کرنے کے طریقوں پر بات کرسکتے ہیں۔