Inquilab Logo Happiest Places to Work

تمل ناڈو اسمبلی میں وقف بل کیخلاف قرارداد منظور، مرکز سے بل واپس لینےکا مطالبہ

Updated: March 28, 2025, 4:32 PM IST | Tamil Nadu

وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے کہاکہ اس بل سے مسلمانوں کے حقوق ختم ہوجائیں گے، یہ مرکز ی حکومت کاوقف ا ملاک پر قبضہ کرنے کا حربہ ہے۔

Tamil Nadu Chief Minister MK Stalin. Photo: INN
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن۔ تصویر: آئی این این

 تمل ناڈو میں ڈی ایم کے حکومت نے جمعرات کو وقف ترمیمی بل کے خلاف اسمبلی میں ایک قرارداد منظور کی۔ وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن نے  وقف ترمیمی بل کی مخالفت کی اور کہا کہ – اس بل سے مسلمانوں کے حقوق ختم ہو جائیں گے ۔ انہوں نےمرکزی حکومت  سےاس بل کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ۔ اسٹالن نے کہا کہ `مرکزی حکومت ایسی اسکیمیں لا رہی ہے جو ریاست کے حقوق ، ثقافت اور روایت کے خلاف ہیں۔ وقف ترمیمی بل مسلمانوں کے حقوق تلف کر نے والا ہے۔ مرکزی حکومت نے مسلمانوں کی بہبود اور ان کے حقوق کے بارے میں کبھی نہیں سوچا۔انہوں نے کہا کہ ترمیم میں کہا گیا ہے کہ دو غیر مسلم افراد کا وقف کا حصہ ہونا چاہیے۔ مسلمانوں کو خوف ہے کہ یہ حکومت کا وقف املاک پر قبضہ کرنے کا طریقہ ہے اور یہ مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔
 اس قرارداد کی اپوزیشن نے  مخالفت کی ا ور کہا کہ اسٹالن ووٹ بینک کی سیاست کر رہے ہیں۔ ریاستی حکومت نے اسمبلی میں وقف ترمیمی بل کے خلاف قرارداد پاس کرنے پر بی جے پی ایم ایل اے وناتھی سری نواسن نے کہا کہ بی جے پی اس قرارداد کی مخالفت کرتی ہے۔ مرکزی حکومت کے پاس ترمیم لانے کا اختیار ہے۔ وقف سے متعلق بہت سی شکایتیں تھیں جس کے بعد مرکزی حکومت اس میں ترمیم کر رہی ہے ۔تمل ناڈو کی مرکزی اپوزیشن  پارٹی اے آئی اے ڈی ایم کے  ترجمان کووئی ستین نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ڈی ایم کے مذہب اور زبان کی بنیاد پر بیانیہ ترتیب دینے میں عجلت میں ہے۔ جن پارٹیوں کے اراکین جے پی سی میں ہیں وہ وقف بل کو عدلیہ میں چیلنج کیوں نہیں کر رہے ہیں؟ اسمبلی میں قرارداد پاس کرانے کی جلدی کیوں ہے؟ ووٹ بینک کی سیاست کیلئے لوگوں کو اکسانے کی کوشش انتہائی قابل مذمت ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’آر پی ایف کانسٹبل چیتن سنگھ کو مزید ایک ماہ ’مینٹل ہاسپٹل‘ میں رکھنا ہوگا‘‘

واضح رہےکہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) وقف ترمیمی بل کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کر رہا ہے۔ تنظیم نے ۱۷؍ مارچ کو دہلی کے جنتر منتر پر بل کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔۲۶؍ مارچ کو پٹنہ میں مسلم تنظیموں نے احتجاج کیا، اس احتجاج کی آر جے ڈی، کانگریس اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حمایت کی۔ آر جے ڈی سپریمو لالو یادو اور اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو بھی شریک ہوئے ۔ اس کے علاوہ مسلم پرسنل لاء بورڈ ۲۹؍مارچ کو آندھرا پردیش کے وجے واڑہ میں احتجاج کرنے والا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK