Inquilab Logo Happiest Places to Work

آج امریکہ ’تمام ممالک‘ کیلئے ٹیرف کا اعلان کریگا، عالمی معیشت تہہ و بالا

Updated: April 02, 2025, 11:06 AM IST | Washington

ٹیکس اور جوابی ٹیکس کی وجہ سے کساد بازاری اور تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ گیا ، غیر یقینی صورتحال کے بیچ یورپی یونین نے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کا منہ توڑ جواب دینے کا اعلان کیا۔

The US tariff plan has caused turmoil in markets around the world. Photo: INN
امریکہ کے ٹیرف منصوبہ کی وجہ سے پوری دنیا کے بازاروں میں اُتھل پتھل ہے۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  نے دنیا کے’’تمام ممالک‘‘ پر جوابی ٹیکس کا اعلان کرکے عالمی معیشت کو تہہ وبالا کرکے رکھ دیا ہے۔ اس کی وجہ سے جہاں تجارتی جنگ کا خطرہ یقین میں بدلنے لگا ہے وہیںماہرین معاشیات نے کساد بازاری  کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے۔  ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ نے بدھ (۲؍ اپریل )کوتمام ممالک کیلئے ’ٹیرف‘ کا  اعلان کیا ہے ،اس سے دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال ہے اور بازاروں  میں ہاہار سا مچ گیا ہے۔اس بیچ  یورپی یونین نے اعلان کیا ہے کہ اس  کے پاس بھی ٹرمپ  انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں کا جواب دینے کیلئے منصوبہ  تیار ہے۔ امریکی اخبار’واشنگٹن پوسٹ ‘ نے  اپنے ذرائع کے حوالے سے خبر دی ہے کہ اس کے مطابق وہائٹ ہاؤس  نے  جو مسودہ تیار کیا ہے اس میں امریکہ میں دنیا بھر سے جو چیزیں درآمد کی جاتی ہیں ان میں سے زیادہ تر پر۲۰؍ فیصد ٹیکس عائد کیا جائےگا۔   

یہ بھی پڑھئے: ییرکاڈ: تمل ناڈو میں غیرمعروف لیکن قدرتی نظاروں سے پر ہل اسٹیشن

 معاملہ کیا ہے؟ ڈونالڈ ٹرمپ نے کیا کہا ہے؟
ڈونالڈ ٹرمپ کا الزام ہے کہ امریکہ دنیا بھر کے ممالک  سے اشیاء درآمد کرتا ہے اور ان پر بہت زیادہ ٹیکس عائد نہیں کرتا جس کی وجہ سے مذکورہ ممالک کی تجارت کو فروغ ملتا ہے جبکہ وہی ممالک امریکی اشیاء پر بھاری ٹیکس عائد کرتے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ کیلئے وہاں اپنا سامان بیچنا مشکل ہوتا ہے اوراسے تجارتی خسارہ اٹھانا پڑتا ہے۔ اس سے نمٹنے کیلئے انہوں نے ان ممالک کی  درآمدات پر  ٹیرف (درآمدی ٹیکس) بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جو امریکی اشیاء پر بھاری ٹیکس عائد کرتے ہیں۔اس کیلئے  پہلے مرحلے میں ٹرمپ انتظامیہ  ہندوستان سمیت چین، کینیڈا اور دیگر کئی ملکوں پر۱۰۰؍ فیصد ٹیرف لگاچکاہے۔ ٹرمپ نے ۲؍ اپریل کو نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔اس کیلئے انہوں  نے ۲؍ اپریل کو امریکی معیشت کیلئے’’یوم آزادی‘‘ قرار دیا ہے۔    ٹرمپ کے مطابق ’’دنیا کا ہر ملک  امریکہ کو لوٹ رہا ہے‘‘ ،ان کی حکومت اس سے ’’آزادی‘‘دلائےگی۔  انہوں  نے حالانکہ ’’نرمی برتنے‘‘ کا اعلان کیا ہے تاہم اسٹاک مارکیٹس پر غیر یقینی صورتحال حاوی ہے اور وہ بری طرح  اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں۔  ٹرمپ کے  مطابق’’ہم بہت برم دلی کا مظاہرہ کریں گے۔‘‘ امریکی صدر نے اعلان کیا ہے کہ ۲؍ اپریل  کے اعلان کے بعد جو ملک امریکہ کے ساتھ معاملات طے کرنا چاہتے ہیں،ان سے بات چیت کیلئے ان کا انتظامیہ تیار رہے گا۔
یورپی ممالک  کا جوابی منصوبہ تیار
ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ ٹیرف کے نفاذ اور تجارتی جنگ کے امکانات  سے نمٹنے کیلئے  تمام ممالک نے کمر کس لی  ہے۔ برطانوی وزیراعظم کیر اسٹارمر نے کہا ہے کہ ان کی حکومت امریکہ کے کسی بھی اعلان  پر قومی مفادات کو مقدم رکھتے ہوئے جوابی قدم اٹھائے گی۔انہوں نے کہا کہ ’’ہم واضح طور پر سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کوئی بھی تجارتی جنگ نہیں چاہتا لیکن  قومی مفادات کے تحفظ کیلئے کام کرنا ہوگا۔‘‘
یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈر لائن  نے کہا ہے کہ  ٹرمپ انتظامیہ کے نئے ٹیرف کا جواب دینے کیلئے یورپی یونین کے پاس بھی ’’کئی کارڈز‘‘موجود ہیں۔ا نہوں نے کہا کہ ’’یہ ٹکراؤ یورپ نے نہیں شروع کیا۔ ہم  جوابی کارروائی لازمی نہیں سمجھتےلیکن ضرورت ہوئی توہمارے پاس جواب دینے کا بہت ہی مضبوط منصوبہ ہے اورہم اسے استعمال کریں  گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’تجارت سے تکنالوجی تک یورپی ممالک کے   پاس  بہت سے کارڈس   ہے۔ تمام  ضروری متبادلات ہمارے زیر غور ہیں۔‘‘
چین، جنوبی کوریا اور جاپان کا اتحاد
امریکہ میں ماہرین معاشیات نے ٹرمپ انتظامیہ کی جوابی ٹیرف کی پالیسی کو خود امریکہ کیلئے نقصاندہ قرار دیا ہے۔ یہ اندیشہ بھی ظاہر کیا جارہاہے کہ اس پالیسی کی وجہ سے تجارتی محاذ پر واشنگٹن اکیلا پڑ جائےگا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ امریکہ کے نئے ٹیرف پلان سے نمٹنے کیلئے چین، جنوبی کوریا اور جاپان نے اتوار کو ایک میٹنگ میں آپس میں ’’آزادتجارت‘‘کو تقویت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
اسے اس بات کی مثال کے طو رپر پیش کیا جارہاہے کہ امریکی اتحادیوں کا جھکاؤ چین کی طرف ہوسکتاہے تاہم ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ان کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کی وجہ سے’’گولڈ مین سچ‘‘  جیسے تھنگ ٹینک  نے امریکہ میں کساد بازاری کے اندیشوں کا بھی اظہار کیا ہے۔ 

’مائی فرینڈ ٹرمپ‘  کے انتظامیہ نے پھر ہندوستان کو نام لے کر نشانہ بنایا

ہندوستان میں امریکہ کی درآمدات پر ٹیکس میں غیر معمولی تخفیف کے باوجود  امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ  جنہیں  وزیراعظم مودی ’’مائی فرینڈ ٹرمپ‘‘ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں،  کے رویہ میں معاشی محاذ پر نرمی   نظر نہیں آرہی ہے۔  ان  کے دنیا بھر کے ممالک کیلئے بدھ کو ’’جوابی درآمدی ٹیکس‘‘ (ٹیرف)   جاری کرنے کا اعلان کرتے ہوئے  ایک بار پھر ہندوستان کو نام لے کر نشانہ بنایا ہے۔وہائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ ’’غیر منصفانہ تجارتی  طرز عمل‘‘ کے سد باب اور جوابی ٹیرف کو حق بجانب ٹھہراتے ہوئے  ان ممالک کی فہرست جاری کی ہے جو امریکی  اشیاء پر غیر معمولی ٹیکس عائد کرتے ہیں۔اس میں  ہندوستان کے تعلق سے کہاگیا ہے کہ ’’ہندوستان  امریکی زرعی مصنوعات پر ۱۰۰؍ فیصد  ٹیکس لگاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ جاپان  امریکی چاول پر ۷۰۰؍ فیصد ٹیکس عائد کرتا ہے۔ ٹرمپ ہندوستان  کے ذریعہ امریکی اشیاء پر ٹیرف کو  بار بار نشانہ بنا چکے ہیں تاہم مودی حکومت اس پر خاموش ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK