Updated: April 03, 2025, 10:14 PM IST
| Ankara
ترکی نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی وزیر کے داخلے کی مذمت کرتے ہوئے کشیدگیمیں اضافے کی تنبیہ کی ہے۔انقرہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کے اشتعال انگیز اقدامات بین الاقوامی قانون کی اسرائیل کی طرف سے کھلم کھلا خلاف ورزی اور امن کی تلاش سے مکمل لاتعلقی کا ایک اور مظہر ہے۔
مسجد الاقصیٰ۔ تصویر: ایکس
ترکی کے وزارت خارجہ نے اسرائیلی حکومت کے ایک رکن کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں داخلے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے ایک ’’خطرناک قدم‘‘ قرار دیا ہے جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھنے کا خطرہ ہے۔ بدھ کو جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی انتظامیہ پر عدم استحکام کو ہوا دینے کا الزام لگایا، خاص طور پر غزہ میں فوجی کارروائیوں کی توسیع اور ویسٹ بینک میں آبادکاری کی سرگرمیوں کی روشنی میں۔ ترکی نے تناؤ میں کمی کیلئے دیگر ممالک کے ساتھ آوازبلند کی ہے، جبکہ جاری تنازعے کے حل کیلئے بین الاقوامی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ سفارتی کوششیں جاری ہیں، لیکن زمینی حالات نازک ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بدعنوانی کے مقدمے میں۲۱؍ ویں بارعدالت میں پیش
ترکی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ایسے اشتعال انگیز اقدامات کے خلاف سخت موقف اپنائے، جس میں مقدس مقامات کے تحفظ اور قبضے کے ذریعے مزید علاقائی توسیع کو روکنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔واضح رہے کہ یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں تناؤ عروج پر ہے، اور غزہ میں اسرائیلی جارحیت اور غیر قانونی اسرائیلی آباد کاری کی پالیسیوں کے وسیع تر اثرات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مذہبی مقامات پر مزید اشتعال انگیز کارروائیاں وسیع پیمانے پر بے امنی کو جنم دے سکتی ہیں، جو پہلے سےغیر مستحکم خطے میں امن کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہیں۔