اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بدھ کو تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں چل رہے اپنے بدعنوانی کے مقدمے میں۲۱؍ ویں بار پیش ہوئے، جبکہ اسی دوران انہوں نے اسرائیلی اندرونی سلامتی ایجنسی شین بیٹ کے برطرف شدہ سربراہ کے عارضی متبادل کا نام بھی تجویز کر دیا۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 6:03 PM IST | Telaviv
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو بدھ کو تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں چل رہے اپنے بدعنوانی کے مقدمے میں۲۱؍ ویں بار پیش ہوئے، جبکہ اسی دوران انہوں نے اسرائیلی اندرونی سلامتی ایجنسی شین بیٹ کے برطرف شدہ سربراہ کے عارضی متبادل کا نام بھی تجویز کر دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بدھ کو تل ابیب ڈسٹرکٹ کورٹ میں چل رہے اپنے بدعنوانی کے مقدمے میں۲۱؍ ویں بار پیش ہوئے، جبکہ اسی دوران انہوں نے اسرائیلی اندرونی سلامتی ایجنسی شین بیٹ کے برطرف شدہ سربراہ کے عارضی متبادل کا نام بھی تجویز کر دیا۔نیتن یاہو، جو ہفتے میں دو بار عدالت حاضر ہوتے ہیں، مقدمہ ۱۰۰۰؍، مقدمہ ۲۰۰۰؍ اور مقدمہ ۴۰۰۰؍ کہلانے والے تین الگ مقدمات میں رشوت، بد عنوانی اور اعتمادشکنی کے الزامات کا دفاع کرتے ہوئے کل ۲۴؍سماعتیں مکمل کریں گے۔ انہوں نے تمام الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ ۲۴؍ مئی۲۰۲۰ء کو شروع ہونے والے اس مقدمے میں کسی اسرائیلی وزیراعظم کا پہلی بار مجرمانہ مدعا علیہ کے طور پر کٹہرے میں کھڑے ہونے کا موقع ہے۔ اسرائیلی قانون کے تحت نیتن یاہو کو سپریم کورٹ کی جانب سے سزا سنائے جانے تک استعفیٰ دینے کی ضرورت نہیں، جو کہ کئی ماہ تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا غزہ کے بڑے حصے پر قبضے کا اعلان، زمینی حملوں میں شدت
حالیہ دنوں میں جاری سیاسی کشمکش کے درمیان نیتن یاہو کے دفتر نے شین بیٹ کے ڈپٹی چیف جسے صرف ’’شین‘‘ کے نام سے شناخت کیا گیا کو سلامتی ایجنسی کا قائم مقام سربراہ مقرر کرنے کا اعلان کیا۔ یہ اقدام نیتن یاہو کی جانب سے گزشتہ ماہ شین بیٹ کے سربراہ رونین بار کے متنازعہ برطرفی کے بعد سامنے آیا۔ تاہم، اسرائیلی سپریم کورٹ نے۸؍ اپریل کو اس فیصلے کے خلاف قانونی درخواستوں کا جائزہ لینے تک بار کی برطرفی کو روک کر دیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کسی اسرائیلی حکومت نے شین بیٹ کے سربراہ کو برطرف کیا ہو۔ نیتن یاہو کا اصرار ہے کہ یہ فیصلہ ان کے اختیارات کے دائرے میں آتا ہے اور عدالتی جائزے کے تابع نہیں ہونا چاہیے۔
منگل کو نیتن یاہو نے شین بیٹ کے نئے سربراہ کے طور پر سابق نیوی چیف ایلی شارویٹ کو مقرر کرنے کے اپنے منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی، جس کی وجہ حکمران اتحاد کی جانب سے دباؤ بتایا جا رہا ہے، جس نے۲۰۲۳ء میں شارویٹ کی حکومت مخالف مظاہروں میں شرکت کی وجہ سے ان کی نامزدگی کی مخالفت کی تھی۔ نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ وزیراعظم اس عہدے کے ممکنہ امیدواروں کے انٹرویو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور۱۰؍ اپریل سے قبل کسی حتمی تقرری کی توقع نہیں، جب بار کی مدت سرکاری طور پر ختم ہو جائے گی۔علاوہ ازیں، نیتن یاہو کو بین الاقوامی قانونی چیلنج کا بھی سامنا ہے، جہاں نومبر۲۰۲۴ء میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ ( آئی سی سی )نے غزہ میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔