اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیوغطریس نےبتایا کہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ زخمی اور معذور بچے غزہ میں ہیں، جن کے جسم کا کوئی نہ کوئی عضو کاٹ کر نکالا جا چکا ہے۔انہوں نے خبر دار کیا کہ کہ غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات سب سے سنگین بین الاقوامی جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔
غزہ میں امداد کی کمی کی منہ بولتی تصویر۔ تصویر: ایکس
اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کو درپیش حالات سب سے سنگین بین الاقوامی جرائم کے مترادف ہو سکتے ہیں۔اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیوغطریس نے پیر کو قاہرہ کانفرنس میں اپنے نائب کی طرف سے پڑھے گئے ریمارکس میں کہا کہ غزہ میں اس وقت دنیا میں کہیں بھی فی کس معذور بچوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے- اور بے ہوشی کے بغیر سرجری کی جا رہی ہے۔محصور غزہ میں انسانی امداد کو تیز کیا جائے۔‘‘سکریٹری جنرل نے امداد کی فراہمی پر سخت پابندیوں پر بھی تنقید کی اور موجودہ سطح کو مکمل طور پر ناکافی قرار دیا۔ادارے کے مطابق گزشتہ مہینے میں روزانہ محض ۶۵؍ ٹرک ہی امداد کے کر غزہ میں داخل ہو سکے ہیں، جبکہ جنگ سے پہلے یہ تعداد ۵۰۰؍ تھی۔بین الاقوامی امدادی تنظیموں نے بارہا غزہ کے بگڑتے حالات پر خطرے کی گھنٹی بجاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ شہری قحط کے دہانے پر ہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اسرائیلی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک امدادی سامان کی ترسیل کم ترین سطح پر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی دھمکی، ۲۰؍ جنوری تک یرغمال رہا نہیں ہوئے تومشرق وسطیٰ جہنم بن جائے گا
غطریس نے مزید کہا کہ غزہ کی ناکہ بندی لاجسٹکس کا بحران نہیں ہے یہ سیاسی قوت ارادی اور بین الاقوامی انسانی قانون کے بنیادی اصولوں کے احترام کا بحران ہے۔ دریں اثناء شمالی غزہ تک امدا کی ترسیل کو شدید جنگ کے نتیجے میں روکا گیا ہے۔ حالانکہ یہ فلسطینیوں کی بقا؍ کی حیثیت رکھتا ہے، اگر اس کی خدمات بند ہوتی ہیں تو اس کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد ہو گی۔