Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

امریکہ: ۶۵ تنظیموں کا سینیٹ پر نسل کشی کے حامی مائیک ہکابی کو اسرائیل کیلئے سفیر مقرر نہ کرنے پر زور

Updated: March 26, 2025, 10:19 PM IST | Washington

تنظیموں نے سینیٹ سے اپیل کی کہ وہ مائیک ہکابی کی نامزدگی کی مخالفت کرے اور ایسے امیدوار کی حمایت کریں جو دیانت داری سے امریکہ کی نمائندگی کرے، بین الاقوامی قانون کا احترام کرے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو آگے بڑھانے کے عزم کا حامل ہو۔

Mike Huckabee. Photo: INN
مائیک ہکابی۔ تصویر: آئی این این

۶۵ سے زائد تنظیموں نے امریکی سینیٹ سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل میں امریکی سفیر کے طور پر مائیک ہکابی کی نامزدگی کو مسترد کردے۔ امریکہ میں سرگرم ترقی پسند، مذہبی اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے، جن میں امریکنز فار جسٹس ان پلسٹائن ایکشن، کوڈ پنک، جیوش وائس فار پیس ایکشن، مسلم پیس فیلوشپ، پروگریسیو ڈیموکریٹس آف امریکہ اور یو ایس کمپین فار پلسٹائنین رائٹس ایکشن شامل ہیں، سینیٹ کے اکثریتی لیڈر جان تھیون، اقلیتی لیڈر چک شومر، سینیٹ فارن ریلیشنز کمیٹی کے چیئرمین جیمز رش اور رینکنگ ممبر جینی شاہین کو ایک خط لکھ کر یہ اپیل کی ہے۔ تنظیموں نے خط میں کہا: "ہکابی اس اہم سفارتی کردار کیلئے نااہل ہیں کیونکہ وہ مسلم مخالف، فلسطین مخالف اور یہودی مخالف عقائد رکھتے اور بیان دیتے ہیں اور وہ غیر قانونی آباد کاریوں اور الحاق نیز فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی حکومت کی نسل کشی کی حمایت کرتے ہیں۔

تنظیموں نے مزید کہا کہ ہکابی، اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی "جارحانہ" پالیسیوں کی حمایت کرتے ہیں جس سے تشویش پیدا ہوتی ہے کہ آیا وہ امریکی مفادات کے "غیر جانبدار اور انصاف پسند نمائندے" کے طور پر خدمات انجام دے سکیں گے۔ ان کی تقرری تعمیری مکالمے اور تفہیم کو فروغ دینے کی بجائے ان لوگوں کو تقویت دے گی جو امن مخالف ہیں اور مزید تقسیم کو ہوا دے گی۔ تنظیموں نے سینیٹ سے اپیل کی کہ وہ مائیک ہکابی کی نامزدگی کی مخالفت کرے اور ایسے امیدوار کی حمایت کریں جو دیانت داری سے امریکہ کی نمائندگی کرے، بین الاقوامی قانون کا احترام کرے، تمام لوگوں کے انسانی حقوق کا دفاع کرے اور ایک منصفانہ اور پائیدار امن کو آگے بڑھانے کا عزم رکھتا ہو۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ جنگ کے اہم لمحات کی تصویر کشی کرنے والے صحافیوں کو شہید کر دیا

اس سے قبل منگل کو سینیٹ فارین ریلیشنز کمیٹی کے سامنے اپنی نامزدگی کی سماعت کے دوران، ہکابی نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی غزہ کے متعلق پالیسیوں کو نافذ کرنے کا عہد کیا اور کہا کہ حماس کا فلسطینی علاقہ میں کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حماس کوئی حکومت نہیں ہے۔ یہ کوئی باقاعدہ فوج نہیں ہے۔ یہ ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ انہوں نے دہشت گردوں کی طرح کام کیا ہے اس لئے ان کے ساتھ اسی طرح سلوک کیا جانا چاہئے۔ ڈیموکریٹ سینیٹر جینی شاہین نے سماعت کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے اسرائیلی الحاق کے منصوبوں کی حمایت کرنے کیلئے ہکابی پر سخت تنقید کی اور اسے انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا۔ اسرائیل نواز گروپ جے اسٹریٹ کے صدر جیریمی بین آمی، جو غزہ میں جنگی جرائم میں بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کی شمولیت پر تنقید کرچکے ہیں، نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہکابی کے خیالات "امریکی مفادات اور انتظامیہ کے طویل مدتی علاقائی امن اور سلامتی کے حصول کے اپنے اعلان کردہ عزم کو کمزور کریں گے۔"

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کی جانب سے نشانہ بنانے کے بعد اقوام متحدہ کا موجودگی محدود کرنے کا فیصلہ

ہکابی: ایک متنازع شخصیت

ہکابی نے مستقل طور پر اسرائیل اور فلسطین کے درمیان دو ریاستی حل کے خیال کو مسترد کیا ہے۔ ان کا یہ موقف سخت گیر اسرائیلی پالیسیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے لیکن وسیع تر بین الاقوامی سفارتی کوششوں سے مختلف ہے۔ ہکابی نے متعدد مرتبہ فلسطین مخالف بیانات دیئے ہیں جس نے امریکی مفادات کی غیر جانبدارانہ نمائندگی کرنے کی ان کی اہلیت کے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔ ہکابی اسرائیلی علاقوں کے الحاق اور انتہا پسند صیہونی آباد کاروں کی وکالت کرتے ہیں جس کے متعلق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK