اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے مقامات کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنانے کے بعد اقوام متحدہ نے غزہ میں اپنی موجودگی کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔
EPAPER
Updated: March 26, 2025, 1:58 PM IST | Gaza
اسرائیل کی جانب سے اقوام متحدہ کے مقامات کو براہ راست حملوں کا نشانہ بنانے کے بعد اقوام متحدہ نے غزہ میں اپنی موجودگی کو محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے پیر کو غزہ پٹی کے اندر امدادی کارروائیوں کو کم کرنے کا ’’مشکل فیصلہ ‘‘ کیا، جس کی وجہ اسرائیلی فضائی حملوں کی دوبارہ شروع ہونا ہےجو مہلک ثابت ہوئے۔ تاہم، انہوں نے یقین دلایا کہ ’’اقوام متحدہ غزہ کو نہیں چھوڑ رہا۔‘‘ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیل نے اقوام متحدہ کے ایک مقام کو نشانہ بنایا، جس میں بلغاریہ کا ایک اقوام متحدہ کا کارکن ہلاک اور چھ دیگر شدید زخمی ہو گئے۔انہوں نے کہا کہ ’’نتیجتاً، سیکرٹری جنرل نے یہ مشکل فیصلہ کیا ہے کہ تنظیم کی غزہ میں موجودگی محدود کی جائے، حالانکہ انسانی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ہماری تشویش بھی بڑھ گئی ہے۔‘‘ اقوام متحدہ نے زور دیا کہ وہ زندگی بچانے والی امداد فراہم کرنے کیلئے پوری طرح پرعزم ہے۔ غزہ میں کام کرنے والے تقریباً۱۰۰؍ بین الاقوامی عملے میں سے ایک تہائی کو عارضی طور پر منتقل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ جنگ کے اہم لمحات کی تصویر کشی کرنے والے صحافیوں کو شہید کر دیا
اقوام متحدہ کے ترجمان نے کہا کہ فی الحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر۱۹؍ مارچ کو دیر البلح میں اقوام متحدہ کے کمپاؤنڈ پر ہونے والے حملے ایک اسرائیلی ٹینک کے ذریعے کئے گئے تھے۔ترجمان اسٹیفن ڈوجارک کے بیان میں کہا گیا، ’’میں دہراتا ہوں کہ تنازعے کے تمام فریقین بین الاقوامی قانون کے پابند ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کے مقامات کی مکمل حرمت کی حفاظت کریں۔اس کے بغیر، ہمارے ساتھیوں کو ناقابل برداشت خطرات کا سامنا ہے جب وہ شہریوں کی جانیں بچانے کیلئے کام کر رہے ہیں۔‘‘
امدادی سربراہ ٹام فلچر نے ٹویٹ کیا کہ انہیں غزہ سے مزید خوفناک خبریںموصول ہو رہی ہیں، جس میں صحت کے کارکنوں، ایمبولینس اوراسپتالوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ وہ زندہ بچ جانے والوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ فلچر نے کہا کہ ہم سب کو مطالبہ کرنا چاہیے کہ اسپتالوں اور طبی عملے کو نشانہ نہ بنایا جائے۔ تاہم نیویارک میں روزانہ بریفنگ کے دوران ڈوجارک نے بتایا کہ اتوار کو جنوبی غزہ میں ناصر میڈیکل کمپلیکس کے سرجیکل وارڈ کو نشانہ بنانے اور آگ لگنے کے بعد متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ رفاح میں، طل السلطان میں ایمبولینس کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔ فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے کہا کہ اس کی چار ایمبولینس اور۱۰؍ رضاکاروں کو نشانہ بنایا گیا جو انسانی امدادی کام کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل نے غزہ کو بھوک کے شدید بحران کے قریب پہنچا دیا ہے: یو این آر ڈبلیو اے
اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ ’’ حالانکہ انسانی ضروریات بڑھ رہی ہیں اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے ہماری تشویش بڑھ گئی ہے، سیکرٹری جنرل نے تنظیم کی غزہ میں موجودگی کم کرنے کا مشکل فیصلہ کیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ زندگی بچانے والی امداد کے داخلے پر لگی پابندی ختم ہونی چاہئے۔