ہندوستان اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں مشکوک شخص کی پہچان تہور رانا کےطور پر کی گئی ہے، جو شکاگو کا تاجر اور کنیڈا کا شہری ہے۔
EPAPER
Updated: February 14, 2025, 5:07 PM IST | Washington
ہندوستان اور امریکہ کے مشترکہ بیان میں مشکوک شخص کی پہچان تہور رانا کےطور پر کی گئی ہے، جو شکاگو کا تاجر اور کنیڈا کا شہری ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ نے ہندوستان کے مالیاتی دارالحکومت ممبئی میں ۲۰۰۸ءکے دہشت گردانہ حملوں کے ایک مشتبہ شخص کی حوالگی کی منظوری دے دی ہے جس میں ۱۶۰؍سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔یہ حملے، ۲۶؍ نومبر کو ہوٹلوں، ایک ریلوے اسٹیشن، اور ایک یہودی مرکز پر ہوئے تھے، جن میں کل ۱۶۶؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، کہ ’’مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکی انتظامیہ نے ہندوستان میں مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے ۲۰۰۸ءکے ممبئی دہشت گردانہ حملے سے تعلق رکھنے والے کی حوالگی کی منظوری دے دی ہے۔ اس لیے وہ مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے ہندوستان واپس آ رہا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: امریکی ایڈ کے ملازمین نے جج سے ٹرمپ کے فیصلے کو روکنے کی درخواست کی
ٹرمپ نے پریس کانفرنس میں اس شخص کا نام نہیں لیا لیکن بعد میں دونوں فریقوں کے مشترکہ بیان میں اس شخص کی شناخت شکاگو کے تاجر اور کینیڈا کے شہری طہور رانا کے طور پر کی گئی۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ کے آخر میں، امریکی سپریم کورٹ نے رانا کی حوالگی کے خلاف نظرثانی کی درخواست مسترد کر دی تھی۔رانا فی الحال امریکی وفاقی جیل میں قید ہے۔