سلیم درانی ایک ایسے ذہین کھلاڑی تھے جن کے تعلق سے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ کب کیسا کھیلیں گے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 10:41 AM IST | Mumbai
سلیم درانی ایک ایسے ذہین کھلاڑی تھے جن کے تعلق سے یہ نہیں کہا جاسکتا تھا کہ وہ کب کیسا کھیلیں گے۔
سلیم درانی ایک ایسے ذہین کھلاڑی تھے جن کے تعلق سے یہ نہیںکہا جاسکتا تھا کہ وہ کب کیسا کھیلیں گے۔ وہ کبھی اپنے بیٹ تو کبھی اپنے بال کی مدد سے ٹیم کو میچ جتا دیتے تھے۔وہ ان چند کرکٹرز میں سے ایک تھے جو ایک اوور میں چند خطرناک شاٹس سے یا محض دو وکٹوں سے میچ کا رخ موڑ سکتے تھے۔ بائیں ہاتھ کےایک جارحانہ بلے باز، جو بہترین گیند بازوں کوپچھاڑ سکتےتھے اورلوگوں کے مطالبہ پرچھکےمارسکتے تھے،اسی بات سے انہوں نے شہرت حاصل کی تھی۔درانی کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر دیکھنے والا جوش سے بھر جاتا تھا۔ لیکن انہوں نے سب سے پہلے ایک بالرکےطور پر ہندوستانی کرکٹ میں اپنی شناخت بنائی۔
سلیم عزیز درانی۱۱؍دسمبر۱۹۳۴ءکو پیدا افغانستان میں ایک پشتون خاندان میں پیدا ہوئےتھے۔ انہوں نے ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۳ء تک ہندوستان کے لیے ۲۹؍ٹیسٹ میچ کھیلے۔وہ ایک دھیمے لیفٹ آرم آرتھوڈوکس گیند باز تھے۔ ان کی شہرت چھکے لگانےکی تھی جو بائیں ہاتھ کے بلے باز کی نماِیاں خوبی ہوتی ہے۔ وہ واحد ہندوستانی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی تھےجو افغانستان میں پیدا ہوئے۔
یہ بھی پڑھئے: کرکٹر پالی امریگر نے کئی منفرد ریکارڈ قائم کئے ہیں
سلیم درانی۶۲۔۱۹۶۱ءمیں انگلینڈ کے خلاف سیریز میں ہندوستان کی فتح کے ہیرو تھے۔ انھوں نےکولکتہ اور چنئی میں بالترتیب ۸؍ اور ۱۰؍ وکٹ حاصل کئے۔ایک دہائی کے بعد ،پورٹ آف اسپین میں ویسٹ انڈیزکے خلاف ہندوستان کی فتح کیلئے کلیو لائیڈ اور گیری سوبرس کےوکٹ حاصل کرکے ویسٹ اینڈیز کے خلاف ہندوستان کو پہلی مرتبہ جیت دلائی۔ اپنی ۵۰؍ ٹیسٹ اننگزمیں، انھوںنے۱۹۶۲ء میں ویسٹ انڈیزکےخلاف صرف ایک سنچری (۱۰۴) بنائی تھی۔وہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں گجرات، راجستھان اور سوراشٹرا کے لیے کھیلتے تھے۔انھوں نے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ۱۴؍ سنچریاں بنائیں جسمیں وہ۳۳ء۳۷؍کے اوسط پر ۸۵۴۵؍ رن بناسکے۔انہیں واحد کرکٹ کھلاڑی ہونے کا اعزاز حاصل ہے جو بھیڑ کی طرف سے ایک چھکا لگانے کے مطالبے کا جواب دیتے تھے۔بھیڑ خوش ہوکر کہتی ،’ہمیں چھکا چاہیے!‘اور درانی چھکا مارتے۔ درانی کاتماشائیوں کے ساتھ ایک خاص رشتہ تھا۔یہاں تک کہ ایک مرتبہ ۱۹۷۳ء میں جب انہیں کانپور ٹیسٹ کے لیے ٹیم سے نکال دیا گیاتھا تو تماشائی مشتعل ہو گئے تھے جب نعرے لگائے گئے تھے ’اگر درانی نہیں تو، ٹیسٹ میچ بھی نہیں!‘
وہ ۱۴؍جون ۲۰۱۸ء کو ہندوستان بمقابلہ افغانستان ہوئے تاریخی ٹیسٹ میچ کے دوران بھی موجودتھے۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء میں پروین بابی کے ساتھ ایک فلم چَرِترام میں اداکاری بھی کی تھی۔ وہ ارجن ایوارڈ جیتنے والےپہلےکرکٹ کھلاڑی تھے۔ انھیں بی سی سی آئی نے ۲۰۱۱ء میںسی کے نائیڈو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔۲؍اپریل ۲۰۲۳ء کو جام نگر میں ان کاانتقال ہوگیا تھا۔