Updated: April 03, 2025, 9:40 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ میں جیا پردہ ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن میں خوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔عظیم فلمساز ستیہ جیت رے جیا پردہ کی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ جیا پردہ کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتے تھے۔
جیا پردہ۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ میں جیا پردہ ان چنندہ اداکاراؤں میں شمار ہوتی ہیں جن میں خوبصورتی اور اداکاری کا منفرد سنگم دیکھنے کو ملتا ہے۔عظیم فلمساز ستیہ جیت رے جیا پردہ کی خوبصورتی اور اداکاری سے اتنے زیادہ متاثر تھے کہ وہ جیا پردہ کو دنیا کی خوبصورت ترین خواتین میں سے ایک سمجھتے تھے۔ ستیہ جیت رےانہیں لے کر ایک بنگلہ فلم بنانے والےتھے لیکن صحت خراب ہونے کی وجہ ان کا یہ منصوبہ ادھورا ہی رہ گیا۔جیا پردہ کا اصل نام للیتا رانی ہے، ان کی پیدائش آندھرا پردیش کے ایک چھوٹے سے گاؤں راجامندري میں ۳؍ اپریل ۱۹۶۲ءکو ایک متوسط خاندان میں ہوئی تھی۔ان کے والد کرشنا تیلگو فلموں کے ڈسٹری بیوٹر تھے۔بچپن سے ہی جیا پردہ کا رجحان رقص کی جانب تھا ان کي ماں نيلاوني نے رقص کی طرف ان کے بڑھتے رجحان کو دیکھ لیا اور انہیں رقص سیکھنے کے لیے داخلہ دلا دیا۔ ۱۴؍ برس کی عمر میں جیا پردہ کو اپنے اسکول میں رقص کا پروگرام پیش کرنے کا موقع ملا جسے دیکھ کر ایک فلم ڈائریکٹر ان سے کافی متاثر ہوئے اور اپنی فلم ’بھومی كوسم‘ میں ان سے رقص کرنے کی پیشکش کی لیکن انہوں نےاس تجویز کو مسترد کر دیا۔بعد میں اپنے والدین کے زور دینے پر جیا پردہ نے فلم میں رقص کرنا قبول کر لیا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’سکندر‘‘ چوتھے ہی دن کریش، گھریلو باکس آفس پر ۱۰۰؍ کروڑ کمانے میں ناکام
۱۹۷۷ءمیں جیا پردہ فلم’اداوی راماڈو‘میں منظر عام پر آئیں جس نے باکس آفس کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے اورمستقل طور پر انہیں اسٹار کا درجہ دے دیا۔اس فلم میں انہوں نےاداکار این ٹی راما راؤ کے ساتھ کام کیا اور شہرت کی بلندیوں پر جا پہنچیں۔ انھوں نے تیلگو فلموں کے علاوہ تمل، ملیالم اور کنڑ زبان کی فلموں میں بھی قسمت آزمائی اور وہ سبھی فلموں میں کامیاب رہیں۔
۱۹۷۹ءمیں کے وشوناتھ نے فلم ’سری سری موا‘ (۱۹۷۶ء) کا ہندی ریمیک ’ سرگم‘ نام سے بنا کر جیا پردہ کو بالی ووڈمیں متعارف کرایا۔ یہ فلم زبردست ہٹ ہوئی اور وہ راتوں رات یہاں بھی اسٹار بن گئیں اور بطوربہترین اداکارہ پہلی بار فلم فیئر ایوارڈ کے لئے نامزد بھی کی گئیں۔ سرگم کی کامیابی کے بعد انہوں نے لوک پرلوک، ٹکر، ٹیکسی ڈرائیوراور پیارا ترانہ جیسی کئی فلموں میں کام کیا لیکن ان میں سے کوئی فلم باکس آفس پر کامیاب نہیں ہوئی۔ہدایت کار کے وشوناتھ نے ۱۹۸۲ء میں فلم ’کام چور‘کے ذریعہ انہیں ہندی فلموں میں دوبارہ لانچ کیا۔ اس فلم کی کامیابی کے بعد وہ ایک مرتبہ پھر ہندی فلموں میں اپنی کھوئی ہوئی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں اور اس فلم میں پہلی بار وہ فراٹے دار ہندی بولتی نظر آئیں۔۱۹۸۴ءمیں پرکاش مہرہ کی سپرہٹ فلم ’شرابی‘ جلوہ گر ہوئی جس میں انہوں نے سپراسٹار امیتابھ بچن کےساتھ اداکاری کے جوہردکھائے۔ ان پر فلمایا نغمہ ’دے دے پیار دے‘ ناظرین کے درمیان ان دنوں کریز بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امیزون پرائم ویڈیو نے ’’چھوری ۲‘‘ کا ٹریلر ریلیز کیا
۱۹۸۶ءمیں انھوں نے فلمساز سری کانت نہاٹا سےشادی کرلی لیکن فلموں میں کام کرنا جاری رکھا اس دوران ان کی گھرانہ، اعلان جنگ، مجبور اور شہزادے جیسی فلمیں منظرعام پر آئیں جن میں جیا پردہ کے مختلف انداز شائقین کو دیکھنے کو ملے۔ان کی جوڑی جیتندر اور امیتابھ کے ساتھ کافی پسند کی گئی۔انہوں نےتقریبا ۳؍دہائی تک اپنے طویل کریئرمیں ۲۰۰؍ سے زائد فلموں میں کام کیا ہے۔ ہندی فلموں کے علاوہ تیلگو، تمل، مراٹھی، بنگلہ، ملیالم اور کنڑ فلموں میں بھی کام کیا ہے۔جیا پردہ ان دنوں سیاسی حلقے میں سرگرم ہیں۔