Inquilab Logo Happiest Places to Work

یادداشت کمزور ہورہی ہے، نام تو یاد ہی نہیں رہتا: شبانہ اعظمی

Updated: April 03, 2025, 10:08 PM IST | Mumbai

اپنےحالیہ انٹرویو میں ہندوستانی سنیما کی تجربہ کار اداکارہ شبانہ اعظمی نے بڑھاپے کے بارے میں کھل کر بات چیت کی۔ انہوں نے ایسے نکات بیان کئے جو عالمگیر تجربے کی عکاسی کرتے ہیں مگر ان کے بارے میں بات چیت نہیں کی جاتی۔

Former Bollywood actress Shabana Azmi with her husband Javed Akhtar. Photo: INN
بالی ووڈ کی سابق اداکارہ شبانہ اعظمی اپنے شوہر جاوید اختر کے ہمراہ۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی سنیما کی تجربہ کار اداکارہ شبانہ اعظمی نے حال ہی میں بڑھاپے کی حقیقتوں کے بارے میں کھل کر بات کی۔انڈیا ٹوڈے کے ساتھ ایک انٹرویو میں، ’’ڈبہ کارٹیل‘‘ میں مرکزی کردار ادا کرنے والی اداکارہ نے بتایا کہ وہ اور ان کے شوہر، معروف نغمہ نگار جاوید اختر، عمر کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کو محسوس کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم دونوں تخلیقی ہیں، اور شکر ہے کہ ہمارے پاس اب بھی کام ہے جو ہمارے جوش میں اضافہ کرتا ہے۔ لیکن ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ کچھ چیزیں اب ختم ہونے لگی ہیں، خاص طور پر یادداشت، جو کمزور ہورہی ہے۔ نام تو کسی کا یاد ہی نہیں رہتا ہے۔‘‘ ان کی یہ بات بڑھاپے کے ایسے عالمگیر تجربے کی عکاسی کرتی ہے جس کے بارے میں بہت کم لوگ کھل کر بات کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: سارہ علی خان اپنی ماں کی اجازت کے بغیرایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرتیں

شبانہ اعظمی نے بڑھاپے کو ایک ’’دوسرا بچپن‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ بڑھاپا ہمارا دوسرا بچپن ہے؛ مگر یہ بچپن جتنا حسین نہیں ہے۔ بچوں میں بوڑھے والدین کیلئے ہمدردی شاذ و نادر ہی پائی جاتی ہے۔‘‘ انہوں نے بزرگوں کو دیکھ بھال کی آڑ میں الگ تھلگ کرنے کے بجائے انہیں خاندانی زندگی میں ضم کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ اپنی والدہ شوکت اعظمی کی دیکھ بھال کے اپنے تجربے کو یاد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہمیں انہیں (بزرگوں) روزمرہ کے فیصلوں میں شامل کرنا چاہئے۔ صرف کھانا اور پناہ گاہ فراہم کرنا کافی نہیں ہے۔ وقار، شمولیت اور گفتگو اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: گوری خان نے دادر میں واقع اپنا اپارٹمنٹ ۱۱ء ۶۱؍ کروڑ روپے میں فروخت کیا

شبانہ اعظمی اپنے والد شاعر اور نغمہ نگار کیفی اعظمی پر فالج کا حملہ یاد کرکے جذباتی ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’لوگ اچھے کام کیلئے ہاتھ ضرور بڑھاتے ہیں مگر ان کا طریقہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وہ کمزوروں کو بااختیار بنانے کے بجائے مایوسی کا باعث بنتا ہے۔ کسی ایسے شخص کیلئے کسی کے سہارے زندگی گزارنا مشکل ہوجاتا ہے جو ہمیشہ سے مضبوط رہا ہو، اور اسے اچانک مدد کی ضرورت پڑ جائے۔‘‘ اداکارہ نے ثقافتی تبدیلی پر زور دیا کہ معاشرہ کس طرح بزرگوں کو دیکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اپنے بزرگوں کا احترام کرتے ہیں، لیکن ہم انہیں شاذ و نادر ہی روز مرہ کی زندگی میں بامعنی طور پر شامل کرتے ہیں۔ ‘‘
خیال رہے کہ شبانہ اعظمی کی نیٹ فلکس پر حال ہی میں نئی سیریز ’’ڈبہ کارٹیل‘‘ ریلیز ہوئی ہے۔ ان کی اگلی فلم ’’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ ہے جس میں سنی دیول مرکزی کردار ادا کررہے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK