Inquilab Logo Happiest Places to Work

راز کی حفاظت کا تعلق عزت اور آبرو کی حفاظت سے ہے

Updated: April 03, 2025, 10:59 PM IST | Musab Bin Abrar | Mumbai

اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ لوگوں کے رازوں کو پوشیدہ رکھتا ہے اور ان کےعیوب کو ظاہر نہیں کرتا،ورنہ ہر شخص اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کتنا پاک و صاف ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

ریاض الصالحین میں کتاب الادب کا دوسرا باب ہے ’’باب حفظ السر‘‘ (راز کی حفاظت کرنا)۔ یہ صفت اعلیٰ اخلاق میں سے ہے کہ انسان کسی کے راز کی حفاظت کرے۔راز کی حفاظت کرنے میں دو باتیں شامل ہیں:

(۱)انسان اپنے راز کی حفاظت کرے کہ اس کو ہر کسی سے ذکر نہ کرے بالخصوص ایسی باتیں جو معیوب ہوں یا گناہ ہوں۔ اگر انسان سے کوئی گناہ سرزد ہو جائے تو اس کو کسی سے ذکر نہ کرے بلکہ اس کو پوشیدہ رکھے یہ بھی راز کی حفاظت میں شامل ہے۔
(۲) لوگوں کے راز کی حفاظت کرنا یعنی اگر انسان کو کوئی شخص کوئی راز کی بات بتاتا ہے تو اسکو کسی اور سے ذکر نہ کرے۔ یہ بھی ” حفظ السر“میں آتا ہے اور یہ بھی اعلیٰ اخلاق میں سے ہے کہ انسان لوگوں کے راز کی حفاظت کرے کیونکہ اس کا تعلق لوگوں کی عزت و آبرو کے ساتھ ہے۔
دینِ اسلام جن چیزوں کی حفاظت کا درس دیتا ہے اور جن چیزوں کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے ان میں انسان کی جان کی حفاظت، اس کے مال کی حفاظت، اس کی عزت کی حفاظت، اس کی عقل کی حفاظت اور اس کے دین کی حفاظت ہے۔ تو یہ پانچ امور ایسے ہیں جن کی حفاظت کا اسلام درس بھی دیتا ہے اور اسلامی تعلیمات کا خلاصہ بھی یہی ہے یعنی اسلام کی تعلیمات ان پانچ امور کے گرد گھومتی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کارِ نبوت تفویض کرنے سے پہلے آپؐ کے اندر جذبۂ خدمت ِانسانی پیدا کردیا گیا تھا

راز کی حفاظت کا تعلق عزت اور آبرو کی حفاظت سے ہے۔
انسان جب کسی کے راز کو افشاں کرتا ہے تو اسکے دو بنیادی نقصانات سامنے آتے ہیں جو کہ درج ذیل ہیں :
راز کو افشاں کرنے کے دو بنیادی نقصانات:
٭ایک نقصان تو یہ ہوتا ہے کہ اس کے اور آپ کے درمیان دشمنی قائم ہو جاتی ہے یعنی آپ کے دل میں اس کے لئے یا اس کے دل میں آپ کے لئے نفرت قائم ہو جاتی ہے یا منفی جذبات اس کے دل میں آجاتے ہیں جبکہ اسلام یہ نہیں چاہتا کہ کسی بھی مسلمان کے لئے آپ کے دل میں کوئی منفی جذبات ہوں اور اگر کوئی شخص کسی کے راز کو افشاں کرتا ہے تو یقینی طور پر اس شخص کو یہ بات اچھی نہیں لگے گی کہ اس نے میرے راز کو کیوں پھیلا دیا اورمیری یہ (فلاں )بات کسی اور کو کیوں بتائی، تو اس سے دلوں میں نفرت پیدا ہوگی۔
٭ اس کا دوسرا نقصان ’’ رسوائی ‘‘ہے یعنی انسان کو رسوائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے یعنی اگر آپ کسی کے راز کو افشاں کر رہے ہیں ( بتا رہے یا پھیلا رہے ہیں )تو اس شخص کی عزت مجروح ہوگی کیونکہ بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جن کا تعلق پوشیدہ باتوں سے ہوتا ہے اور یہ ایسے پوشیدہ معاملات ہوتے ہیں کہ اگر وہ لوگوں کے سامنے آجائیں تو انسان کی عزت غیر محفوظ ہو جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے کہ وہ لوگوں کے رازوں کو پوشیدہ رکھتا ہے اور ان کےعیوب کو ظاہر نہیں کرتا،ورنہ ہر شخص اپنے بارے میں جانتا ہے کہ وہ کتنا پاک و صاف ہے۔ اگر لوگوں کے عیوب لوگوں کے سامنے آجائیں تو لوگ ایک دوسرے کا سامنا نہ کر سکیں، شاعر کہتا ہے کہ: ’’ اگر میرے عیوب لوگوں کے سامنے آ جائیں تو لوگ مجھے سلام کرنا بھی چھوڑ دیں۔‘‘
 جناب انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ کھیل رہا تھا بچوں کے ساتھ تو نبی ﷺ نے مجھے سلام کیا اور مجھے ایک کام سے بھیجا، جب میں کام سے گیا تو واپسی میں میں مجھے تاخیر ہو گئی اپنی والدہ کے پاس لوٹنے میں، جب میں آیا تو انہوں نے پوچھا کہ کیوں دیر ہوگئی، تو میں نے کہا کہ مجھے نبی ﷺ نے ایک کام سے بھیجا تھا۔ والدہ نے پوچھا: کیا کام؟ میں نے کہا: یہ تو راز کی بات ہے یہ راز ہے (میں بتا نہیں سکتا کہ کس کام سے بھیجا تھا)، تو ان کی والدہ نے (بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے) کہا کہ: نبی ﷺ کے راز کسی کو نہیں بتانا۔ــ‘‘یعنی یہ تم نے راز کی حفاظت کر کے بہت اچھا کام کیا۔پھر انس بن مالک ؓ اپنے شاگرد ثابت البنانی کو کہتے ہیں :’’اگر میں کسی کو بتاتا وہ راز تو میں آپ کو ضرور بتا دیتا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: انسان کی طرح انسانی معاشرے کو بھی عزت و تکریم عطا کی گئی ہے

اس میں ہمارے لیے جو درس ہے وہ یہی ہے کہ راز کی حفاظت کرنا انسان کے اعلیٰ اخلاق سے متصف ہونے کی ایک علامت ہے۔
یہاں پہ ایک بات میں ذکر کروں گا کہ راز کی حفاظت کرنے میں یہ بات بھی شامل ہے کہ انسان لوگوں کی نجی زندگی میں زیادہ دلچسپی نہ لے، لوگوں کے نجی امور ہوتے ہیں، جیسے: ان کے گھر میں کون آرہا ہے کون جارہا ہے، وہ کیا کر رہے ہیں ،کہاں جا رہے ہیں ، کہاں سے آ رہے ہیں ، کون کتنا کماتا ہے، کس کی کتنی تنخواہ ہے تو اس طرح کے امور بھی راز ہوتے ہیں لہذا لوگوں سے یہ باتیں اگلوانا اور یہ باتیں پوچھتے رہنا اور اس میں دلچسپی لینا یہ بھی ان کے راز میں دخل اندازی کے مترادف ہے تو اس سے بھی بچنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK