موجودہ عہد کی ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ سچائی اپنی قدر و قیمت کھوتی جا رہی ہے اور مصلحت پسندی کے نام پر جھوٹ کو سہارا دیا جا رہا ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 11:01 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai
موجودہ عہد کی ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ سچائی اپنی قدر و قیمت کھوتی جا رہی ہے اور مصلحت پسندی کے نام پر جھوٹ کو سہارا دیا جا رہا ہے۔
موجودہ عہد کی ایک بڑی ستم ظریفی یہ ہے کہ سچائی اپنی قدر و قیمت کھوتی جا رہی ہے اور مصلحت پسندی کے نام پر جھوٹ کو سہارا دیا جا رہا ہے۔ انسان کی اخلاقی بصیرت مادہ پرستی کے غبار میں دھندلا چکی ہے، اور اصولوں کی روشنی کو ذاتی مفادات کی تاریکی نگلتی جا رہی ہے۔ حق و باطل کی تمیز کرنے والے بھی بسا اوقات وقتی منفعت یا دنیاوی مقام و مرتبے کی ہوس میں سچائی سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ضمیر کی آواز کو دبانے اور خودفریبی کے جال میں الجھنے کو ہی زندگی کی حکمت سمجھا جانے لگا ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ وقتی فائدے کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے والے خود کو بھی دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں، کیونکہ حقیقت کی روشنی کو زیادہ دیر تک ظلمت کی چادر میں نہیں چھپایا جا سکتا۔ اس تعلق سے جب ہم اسلام کی تعلیمات کا جائزہ لیتے ہیں تو یہ پا تے ہیں کہ اسلام میں حق گوئی اور حق کی حمایت کو بڑی فضیلت دی گئی ہے۔ اسلامی تناظر میں حق کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کی جائے اور حق دار کو اس کا حق دلانے میں مدد کی جائے؛ کیونکہ ظلم کے خلاف خاموش رہنا خود ایک طرح کا ظلم ہے۔ ایک مومن کی پہچان یہی ہے کہ وہ ہر حال میں سچ کا ساتھ دیتا ہے، چاہے وہ اس کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں سچ بولنا اور حق کی حمایت کرنا آسان نہیں رہا، لیکن جو لوگ اللہ پر بھروسہ رکھتے ہیں اور حق پر استقامت اختیار کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے لئے کامیابی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ لہٰذا، ہمیں چاہئے کہ ہمیشہ حق کا ساتھ دیں، خواہ حالات جیسے بھی ہوں، کیونکہ حق ہی ہمیشہ غالب رہنے والا ہے۔قرآن و حدیث میں بارہا سچ بولنے اور حق پر قائم رہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور حق کی آمیزش باطل کے ساتھ نہ کرو اور نہ ہی حق کو جان بوجھ کر چھپاؤ۔‘‘ (البقرہ:۴۲) یعنی حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور نہ ہی حق کو چھپاؤ جبکہ تمہیں علم ہو۔ اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمران کے سامنے حق بات کہنا ہے۔‘‘ (ابن ماجہ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حق گوئی محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایک عظیم دینی فریضہ بھی ہے، جس پر اجر عظیم کی بشارت دی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: قرآن نے بار بار انسان کو فطرت کے مظاہر پر غور کرنے کی دعوت دی ہے
یہ ایک عجیب اور افسوسناک حقیقت ہے کہ کچھ ناسمجھ لوگ محض جذباتی وابستگی، گروہی تعصب یا لاعلمی کی بنیاد پر غلطی پر قائم لوگوں کا ساتھ دیتے ہیں، حالانکہ نہ انہیں اس کا کوئی دنیاوی فائدہ ہوتا ہے اور نہ ہی دینی۔ مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص کسی ظالم حکمراں یا بدعنوان رہنما کی اندھی تقلید کرتا ہے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ اس کی پالیسیاں ناانصافی پر مبنی ہیں، تو وہ نہ صرف سچائی کا گلا گھونٹ رہا ہوتا ہے بلکہ اپنی آخرت بھی برباد کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے لوگ اس امید میں ظلم کا ساتھ دیتے ہیں کہ شاید انہیں کوئی فائدہ پہنچے، مگر انجام کار وہ نہ دنیا میں عزت حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی آخرت میں کامیابی۔ تاریخ میں فرعون کے درباریوں اور ابو جہل کے ساتھیوں کی مثالیں اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ ناحق کا ساتھ دینے والے بالآخر خسارے میں ہی رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نبی کریمؐ کی حیات ِمبارکہ بے مثال قائدانہ قابلیت اور مہارت سے منوّر ہے
موجودہ دور میں سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جسے سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے بڑی مہارت سے استعمال کیا جا رہا ہے۔ فیک نیوز، گمراہ کن بیانیے اور جھوٹی شہادتوں کے ذریعے کسی بھی غلط بات کو اتنے زور و شور سے پھیلایا جاتا ہے کہ لوگ اسے حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ کئی بار ایسے افراد یا نظریات کی بے جا حمایت کی جاتی ہے جو سراسر غلط ہوتے ہیں، مگر مسلسل پروپیگنڈے اور جذباتی نعروں کے ذریعے عوام کو ان کے حق میں کر دیا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر، سیاست میں بعض ناپسندیدہ افراد یا ادارے اپنے مفادات کے لئے سوشل میڈیا کا استعمال کر کے عوام کو گمراہ کرتے ہیں، جبکہ کسی مظلوم یا حق پرست کی آواز کو دبانے کے لئے اسے منفی طریقے سے پیش کیا جاتا ہے۔ اس منفی رجحان نے سماج میں سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک خطرناک دھند پیدا کر دی ہے، جس میں سادہ لوح لوگ حقیقت کو پہچاننے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم سچائی کو اپنے قول و عمل میں جگہ دیں اور کسی بھی صورت میں باطل کا ساتھ نہ دیں۔ وقتی مفاد، ذاتی مصلحت یا معاشرتی دباؤ ہمیں حق سے دور نہ کر سکے، بلکہ ہمارا کردار اس روشنی کی مانند ہو جو اندھیروں میں بھی اپنی روشنی برقرار رکھتی ہے۔ انسانی عظمت بھی اسی میں ہے کہ ہم اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہیں، حق کا ساتھ دیں اور ظلم و باطل کے خلاف ڈٹ کر کھڑے ہوں، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔ یاد رہے، سچائی ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو مٹاتا ہے اور حق کی حمایت ہی وہ راستہ ہے جو حقیقی کامیابی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔