Inquilab Logo Happiest Places to Work

مسلمانوں کی اصل بیماری تو شریعتِ مصطفیٰ ؐ کو چھوڑدینا ہے

Updated: April 03, 2025, 10:58 PM IST | Mufti Ahmed Yar Khan Naeemi | Mumbai

دنیاوی تمام ترقیاں بلبلیں تھیں اور دولت ایمان چمن، اگر چمن آباد ہے ہزارہا بلبلیں پھر آجائیں گی مگر چمن ہی اجڑ گیا تو اب بلبلوں کے آنے کی کیا امید ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

آج کون سا درد رکھنے والا دل ہے جو مسلمانوں کی موجودہ پستی اور ان کی موجودہ ذلت وخواری اور ناداری پر نہ دکھتا ہو اور کون سی آنکھ ہے جو ان کی غربت، مفلسی،بیروزگاری پر آنسو نہ بہاتی ہو، حکومت ان سے چھنی، دولت سے یہ محروم ہوئے، عزت و وقار ان کا ختم ہو چکا،زمانہ کی ہر مصیبت کا شکار مسلمان بن رہے ہیں ،ان حالات کو دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے مگر دوستو ! فقط رونے اور دل دکھانے سے کام نہیں چلتا بلکہ ضروری ہے کہ اسکے علاج پر خود مسلمان قوم غور کرے،علاج کے لئے چند چیزیں سوچنا چاہئیں : اول یہ کہ اصل بیماری کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ اس کی وجہ کیا ؟ کیوں مرض پیدا ہوا؟ تیسرے یہ کہ اس کا علاج کیا ہے؟ چوتھے یہ کہ اس علاج میں پرہیز کیا ہے؟ اگر ان چار باتوں کو غور کرکے معلوم کر لیا گیا تو سمجھو کہ علاج آسان ہے۔اس سے پہلے بہت سے لیڈرانِ قوم اور پیشوایان ملکنے بہت غور کئے اور طرح طرح کے علاج سوچے۔کسی نے سوچا کہ مسلمانوں کاعلاج صرف دولت ہے۔ مال کماؤ ترقی پاؤگے۔ کسی نے کہا: اس کا علاج عزت ہے۔کونسل کے ممبر بنو آرام ہو جائے گا۔کسی نے کہاکہ تمام بیماریوں کا علاج صرف بیلچہ ہے۔بیلچہ اٹھاؤ بیڑا پار ہو جائے گا۔ان سب نادان طبیبوں نے کچھ روز بہت شور مچایا مگر مرض بڑھنے کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ ان کی مثال اس نادان ماں کی سی ہے جس کا بچہ پیٹ کے درد سے روتا ہے اور وہ خاموش کرنے کے لئے اس کے منہ میں دودھ دیتی ہے جس سے بچہ کچھ دیر کے لئے بہل جاتا ہے مگر پھر اور بھی زیادہ بیمار ہو جاتا ہے کیونکہ ضرورت تو اس کی تھی کہ بچہ کو مسہل( پیٹ صاف کرنے والی دوائی) دے کر اس کا معدہ صاف کیا جائے،اسی طرح میں دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ آج تک کسی لیڈر معالج نے اصل مرض نہ پہچانا اور صحیح علاج اختیار نہ کیا اور جس اللہ کے بندے نے مسلمانوں کو ان کا صحیح علاج بتایا تو مسلم قوم نے مذاق اڑایا،اس پر آوازے کسے(طنز کیا)،زبان طعنہ دراز کی غرض یہ کہ صحیح طبیبوں کی آواز پر کان نہ دھرا۔

یہ بھی پڑھئے: نماز اور زکوٰۃ یہی دو چیزیں دین کی اصل عملی بنیادیں ہیں

بعینہ آج ہمارا بھی یہی حال ہے مسلمانوں کی بادشاہت گئی،عزت گئی،دولت گئی،وقار گیا،صرف ایک وجہ سے وہ یہ کہ ہم نے شریعت مصطفیٰ کی پیروی چھوڑدی،ہماری زندگی اسلامی نہ رہی۔ ہمیں خدا کا خوف،نبی کی شرم، آخرت کا ڈر نہ رہا،یہ تمام نحوستیں صرف اسی لئے ہیں، مسجدیں ہماری ویران،مسلمانوں سے سنیما،تماشے آباد،ہر قسم کے عیوب مسلمانوں میں موجود، غیروں کی رسمیں ہم میں قائم ہیں … ہم کس طرح عزت پاسکتے ہیں۔ دنیاوی تمام ترقیاں بلبلیں تھیں اور دولت ایمان چمن، اگر چمن آباد ہے ہزارہا بلبلیں پھر آجائیں گی مگر چمن ہی اجڑ گیا تو اب بلبلوں کے آنے کی کیا امید ہے۔ مسلمانوں کی اصل بیماری تو شریعتِ مصطفیٰؐ کو چھوڑنا ہے۔ اب اس کی وجہ سے اور بہت سی بیماریاں پیدا ہوگئیں۔ مسلمانوں کی صدہا بیماریاں تین قسم میں منحصر ہیں : اول روزانہ نئے نئے مذہبوں کی پیداوار اور ہر آواز پر مسلمانوں کا آنکھیں بند کر کے چل پڑنا۔دوسرے مسلمانوں کی خانہ جنگیاں اور مقدمہ بازیاں اور آپس کی عداوتیں۔تیسرے ہمارے جاہل باپ داداؤں کی ایجاد کی ہوئی خلاف شرع رسمیں۔ان تین قسم کی بیماریوں نے مسلمانوں کو تباہ کر ڈالا،برباد کر دیا،گھر سے بے گھر بنا دیا،مقروض کر دیا غرضیکہ ذلت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اللہ نے انسان کو جس صحیح فطرت پر پیدا کیا ہے، اُس سے ہٹنے کی وجہ خدا کو بھول جانا ہے

اکثر فتنہ و فساد کی جڑ دو چیزیں ہیں ایک غصہ اور اپنی بڑائی اور دوسرے حقوق شرعیہ سے غفلت۔ ہر شخص چاہتا ہے کہ میں سب سے اونچا ہوں اور سب میرے حقوق ادا کریں، مگر میں کسی کا حق ادا نہ کروں۔ اگر ہماری طبیعت میں سے ’’خود‘‘ نکل جائے عاجزی اور تواضع پیدا ہو،ہم میں سے ہر شخص دوسرے کے حقوق کا خیال رکھے تو ان شاءاللہ کبھی جنگ و جدال اور مقدمہ بازی کی نوبت ہی نہ آئے۔ بہت لوگ ان شادی بیاہ کی رسموں بیزار تو ہیں مگر برادری کے طعنوں اور اپنی ناک کٹنے کے خوف سے جس طرح ہوسکتا ہے قرض ادھار لے کر ان جہالت کی رسموں کو پورا کرتے ہیں۔۔کوئی ایسا مرد میدان نہیں بنتا جو بلا خوف ہر ایک کے طعنے برداشت کر کے تمام رسموں پر لات مار دے اور سنت کو زندہ کر کے دکھائے۔ جو شخص سنت مؤکدہ کو زندہ کرے اس کو سو شہیدوں کا ثواب ملتا ہے کیونکہ شہید تو ایک دفعہ تلوار کا زخم کھا کر مرجاتا ہے مگر یہ اللہ کا بندہ عمر بھر لوگوں کی زبانوں کے زخم کھاتا رہتا ہے۔ واضح رہے کہ مروجہ رسمیں دو قسم کی ہیں ایک تو شرعاً جائز ہیں دوسری وہ جو تباہ کن ہیں اور بہت دفعہ ان کے پورا کرنے کے لئے مسلمان سودی قرض لیتے ہیں اور سود دینا بھی حرام ہے اور لینا بھی۔ اس لئے یہ رسمیں حرام کا ذریعہ ہیں۔
(یہ مضمون اسلامی زندگی نامی رسالہ سے لیا ہے جو ۱۳۶۳ھ میں شائع ہؤا تھا۔یہ آج بھی مسلم معاشرے سے متعلق فٹ بیٹھتا ہے۔ مرسلہ:مرتضیٰ خان )

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK