Inquilab Logo Happiest Places to Work

امتِ محمدیہ کا اتحاد، وحدت اور اخوت آپؐ کی بعثت، آمد اور فیض کا نتیجہ ہے

Updated: April 03, 2025, 9:28 PM IST | Dr Muhammad Tahir-ul-Qadri | Mumbai

اجتماعیت کے ساتھ آپس میں جڑے رہنے سے مسلمانوں کے ایمان کی بھی حفاظت ہو گی، عمل کی بھی حفاظت ہو گی، اخلاق کی بھی حفاظت ہو گی اور جملہ ظاہری، باطنی فوائد و مفادات کی بھی حفاظت ہو گی، ان شاء اللہ۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ مت ڈالو، اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جب تم (ایک دوسرے کے) دشمن تھے تو اس نے تمہارے دلوں میں الفت پیدا کر دی اور تم اس کی نعمت کے باعث آپس میں بھائی بھائی ہو گئے۔‘‘(آل عمران :۱۰۳)
’’اتحاد امت اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘‘ کے موضوع پر یہ گفتگو تین حصوں میں مشتمل ہو گی :
پہلا حصہ: حکم رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت اور تعمیل کے بیان پر مشتمل اس حصہ کا عنوان ’’اتحاد امت‘‘ ہے، قرآن و سنت میں صریحاً، بار بار مسلمانوں کو متحد ہونے، متحد رہنے اور ایک جسد واحد کی طرح جینے کا حکم موجود ہے۔
دوسرا حصہ: سیرت نبویؐ کی اتباع، آپؐ کے اسوۂ حسنہ کی پیروی اور سیرت نبویؐ سے متعلق اس حصہ میں گفتگو کا عنوان ’’مسلمان پیکرِ امن و رحمت‘‘ ہے اور اسے پیکر امن و رحمت بن کر رہنا چاہئے۔‘‘ اس حصہ میں گوشۂ سیرت نبویؐ سے راہنمائی لی جائے گی۔
تیسرا حصہ: ذات محمدیؐ سے مضبوط اور دائمی تعلق کی استواری پر مشتمل اس حصہ کا عنوان ’’حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور معرفت‘‘ ہے۔ اس حصہ پر پوری امت مسلمہ ایک ہو کر رہے، اس لئے کہ یہ ایمان کی بنیاد ہے۔اللہ رب العزت نے حکم دیا :
’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو۔ ‘‘
پھر اتنی بات پہ اکتفا نہیں کیا بلکہ فرمایا ’’اور ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جاؤ‘‘، جڑو اور اپنے اندر افتراق اور انتشار پیدا نہ کرو بلکہ اتحاد اور وحدت پیدا کرو۔ اس فرمان کے بعد اللہ رب العزت نے حضور اکرم ؐ کی بعثت سے پہلے حالت کفر اور بعثت محمدیؐ کے بعد دورِ اسلام کے زمانوں کا موازنہ فرمایا :
’’یاد کرو وہ نعمت جو تم پر ہوئی اس حال میں کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، باہم دست و گریباں تھے‘‘، ٹکڑوں میں بٹے ہوئے تھے اور تمہارے افتراق کی یہ حالت باہمی عداوت تک پہنچ گئی تھی اور تم ایک دوسرے کے دشمن بن گئے تھے۔ چھوٹی چھوٹی بات پر تمہارے مابین فساد ہوتے، قتل و غارت ہوتی، طویل مدت تک انسانوں کے طبقات کے درمیان جنگ رہتی اور نسلیں اس جنگ کی نذر ہو جاتیں۔
اس افتراق، انتشار اور نفرت و عداوت کی کیفیت کو قرآن مجید نے حالت کفر کے ساتھ تعبیر کیا ہے۔ پھر فرمایا کہ اللہ نے حضورنبیؐ اکرم کی صورت میں تم پر نعمت نازل فرمائی اور حضور ؐ کو تمہارے اندر مبعوث فرمایا۔اللہ نے حضورؐ اکرم کے واسطہ اور وسیلہ سے تمہارے دلوں میں باہمی الفت پیدا کر دی، نفرت کو الفت میں بدل دیا اور افتراق کو اتحاد میں بدل دیا۔ اور تم جو ایک دوسرے کے دشمن تھے، عداوت کو اخوت میں بدل کر بھائی بھائی بن گئے۔
آقا علیہ السلام کی بعثت اورآمد کے فیض اور نتیجے میں جو امت وجود میں آئی قرآن مجید نے اس کی حالت کو اتحاد اور وحدت و اخوت سے تعبیر کیا جبکہ بعثت محمدیؐ سے پہلے جو حالت تھی اس کو کفر، انتشار، افتراق اور عداوت کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے۔
اس پورے پیغام کو بیان کرنے کے بعد آخر پر ارشاد فرمایا کہ اب مسلمانو سنو!
’’اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے تھے اور جب ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکیں اس کے بعد بھی اختلاف کرنے لگے، اور انہی لوگوں کے لیے سخت عذاب ہے۔‘‘ (آل عمران:۱۰۶)
جس نعمت نبوت محمدیؐ، نعمت رسالت محمدی ؐاور نعمت ہدایت قرآن نے تمہاری نفرتوں کو محبتوں سے اور تمہارے تفرقوں کو وحدت سے بدل دیا ہے اس نعمت کو پا لینے کے بعد خبردار! دوبارہ ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو جانا، پھر نہ پھوٹنا اور ہدایت کی واضح نشانیاں آ جانے کے بعد اختلافات کی نذر نہ ہو جانا۔ پھر قرآن مجید نے سورۃ حجرات میں یہ ارشاد فرمایا :
’’بات یہی ہے کہ (سب) اہلِ ایمان (آپس میں ) بھائی ہیں سو تم اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کرایا کرو، اور اﷲ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔‘‘(الحجرات :۱۰)
پس اللہ رب العزت نے مسلمانوں کو باہمی بھائی چارہ اور اخوت کے رشتے میں منسلک کیا ہے کہ اگر تمہارے درمیان اختلاف یا افتراق ہو تو اصلاح، موافقت، باہمی مودت اور خیر خواہی کے ساتھ اس کو مٹایا کرو اور اس طرح یعنی اس عمل کے ذریعہ وحدت کی منزل کو پایا کرو۔
قرآن مجید کی آیات مبارکہ میں موجود انہی احکامات کی تعلیم حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جابجا امت مسلمہ کو احادیث طیبہ کے ذریعہ بھی دی۔ حضورؐ اکرم نے امت کو جہاں وحدت کا درس دیا وہاں حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت کے ساتھ جڑے رہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ہماری مشکلات و مصائب ہماری بدا عمالیوں کا نتیجہ ہیں

٭ حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان کی جو بڑی اور اکثریتی جماعت ہے اس کے ساتھ جڑے رہو چونکہ اسی جڑے رہنے میں تمہاری بقاء، خیر، سلامتی اور عافیت ہے۔‘‘ (أخرجه البخاري في الصحيح، کتاب : الفتن)
٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
’’مسلمانو! تمہارے اوپر واجب ہے کہ تم اجتماعیت کا ساتھ دو، مسلمانوں کی جو بڑی جماعت ہے اس کے ساتھ جڑے رہو اور تفرقہ سے ہمیشہ بچو۔‘‘
 کیوں ؟ اس لئے کہ اگر مسلمان تنہا و اکیلا رہ جائے تو شیطان کے قریب ہونا بڑا آسان ہو جاتا ہے اور اگر مسلمان جڑ جائیں، ایک ہو جائیں تو دو کے قریب شیطان کا جانا قدرے مشکل ہو جاتا ہے۔ جتنا زیادہ عدد ہو جائے شیطان کا ان کے قریب جانا مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ پس اگر مسلمان بکھرے رہیں تو ایک ایک کو گمراہ کرنا شیطان کے لئے آسان ہوتا ہے اور اگر مسلمان متحد ہو کر ایک اجتماعی وحدت میں منسلک ہو جائیں تو ان سب کو گمراہ کرنا شیطان کے لئے مشکل ہو جاتا ہے۔
 پھر آقا ﷺ نے فرمایا :جو شخص چاہتا ہے کہ جنت کا وسط یعنی جنت کے اعلیٰ درجات تک جا پہنچے تو اس کیلئے لازم ہے کہ وہ امت کی اجتماعیت کے ساتھ جڑ جائے۔ (أخرجه الترمذي في السنن، کتاب : الفتن)
اجتماعیت کے ساتھ آپس میں جڑے رہنے سے مسلمانوں کے ایمان کی بھی حفاظت ہو گی، عمل کی بھی حفاظت ہو گی، اخلاق کی بھی حفاظت ہو گی اور جملہ ظاہری، باطنی فوائد و مفادات کی بھی حفاظت ہو گی۔
٭معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ حضور ؐ نے فرمایا: ’’شیطان انسانوں کے لئے بھیڑیئے کی مانند ہے اسی طرح جیسے بکریوں کے ریوڑ کے لئے بھیڑیا ہوتا ہے، شیطان انسانوں کے ریوڑ کے لئے بھیڑیا ہے۔‘‘
 پھر فرمایا :’’شیطان اسی طرح اجتماعیت سے الگ ہو کر تنہا رہنے والے مسلمان کو پکڑ کر کھا جاتا ہے، گمراہ کر دیتا ہے، برباد کر دیتا ہے جس طرح بھیڑیئے کو تنہا تنہا بکریاں مل جائیں تو انہیں بھیڑیا اچک کر لے جاتا ہے۔ ‘‘(أخرجه أحمد بن حنبل في المسند،عبد الرزاق في المصنف)
اسی طرح مسلمان بھی اگر الگ مل جائے تو شیطان اسے گمراہ کر دیتا ہے۔ لہٰذا تم پر لازم ہے کہ بکری کی طرح نہ ہو جاؤ جو اپنے ریوڑ سے جدا ہو کر دور کنارے پر کھڑی ہوتی ہے اور پھر اسے بھیڑیئے سے کوئی بچا نہیں سکتا۔ مسلمان اگر اجتماعیت سے جدا ہو کر تنہا ہو جائے گا تو شیطان کے حملے سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا۔ پھر فرمایا : کہ تم ٹکڑوں اور گروہوں میں بٹ جانے سے بھی بچو۔ تمہارے اوپر جماعت کے ساتھ جڑ جانا لازم ہے، سواد اعظم کے ساتھ جڑ جانا لازم ہے اور مسجد کے ساتھ جڑ جانا لازم ہے کہ مسجد کی چار دیواری تمہارے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بنے گی۔
امت محمدیہؐ کی تین اہم خصوصیات
تین شرف و امتیازات ایسے ہیں جو بطور خاص امت محمدی ؐ کو عطا کئے گئے اور پہلے کسی امت کو نہیں ملے تھے۔
(۱) حضرت انس ابن مالک ؓ روایت کرتے ہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’میری امت کبھی بھی گمراہی پر مجتمع نہیں ہو گی۔‘‘ (اخرجه ابن ماجة في السنن، کتاب : الفتن، باب : السواد الاعظم)
یہ ضمانت کسی پیغمبر نے اپنی امت کو پہلے نہیں دی تھی، یہ شرف صرف امت ِ محمدیہؐ ہی کو حاصل ہے کہ قیامت تک کبھی گمراہی پر مجتمع نہ ہو گی۔ گویا حضورؐ فرما رہے ہیں کہ میری امت کی اکثریت کو جب کسی عقیدے، عمل، طریقہ اور شعار پر جمع ہوتے دیکھو تو سمجھ لینا کہ اسی اجتماعیت میں ہدایت کا راستہ ہے۔ اللہ نے امت کی اجتماعیت کو گمراہی سے بچایا ہے اور اگر امت میں پھوٹ پڑ جائے گی تو اللہ رب العزت کی حفاظت کی ضمانت اس پر نہیں ہے۔
(۲) دوسرا شرف جو اپنی امت کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عطا فرمایا اس کا اظہار صحیح مسلم کی اس حدیث مبارکہ سے ہوتا ہے کہ جب آپؐ نے شہداء احد کے قبرستان میں اُن پر فاتحہ پڑھی اور طویل خطاب میں خوشخبریاں دینے کے بعد فرمایا کہ لوگو! اب شرک کبھی پلٹ کر میری امت میں نہیں آئے گا۔ میں دنیا سے اس خوف سے بے نیاز ہو کر جا رہا ہوں کہ میرے بعد تم شرک میں مبتلا ہو جاؤ گے۔

یہ بھی پڑھئے: ہجرت کے راستے کے انتخاب سے لے کر فتح مکہ تک آپؐ کی حکمت عملی اور دوراندیشی جابجا نظر آتی ہے

جو لوگ امت محمدیؐ کی اکثریت پر شرک کا طعنہ دیں یا شرک کا خیال کریں گویا انہوں نے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کو رد کر دیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت دنیا داری میں مبتلا تو ہو سکتی ہے، دنیاوی مفادات میں ایک دوسرے کے گلے تو کاٹ سکتی ہے یہ بدنصیبی ہو گی مگر جس شرک کی جڑیں میں کاٹ کر جا رہا ہوں وہ اب میری امت میں نہیں آئے گا۔ پس آقا ﷺکی امت مشرک نہیں ہو سکتی۔ حضور ؐکی امت کو کسی بھی اعتبار سے مشرک تصور کرنا آقاؐ کی اس ضمانت کو گویا رد کرنا ہے۔
(۳) امت محمدیہ ؐ کو جو تیسرا شرف دیا اس کا پس منظر یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بگاڑ آئیں گے، دین کی تعلیم، اخلاق، افکار، عقائد میں بگاڑ آئے گا۔ بگاڑ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آتے رہیں گے چونکہ حضور ﷺ کے بعد اب قیامت تک کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا، کتاب نہیں آئے گی، کوئی وحی نہیں آئے گی، کوئی نبوت و رسالت کا سلسلہ نہیں ہو گا۔ مگر قیامت تک ہر صدی کے ابتداء میں دین کی مٹی ہوئی قدروں اور احیاء دین کے لئے مجدد آئے گا اور اس مجدد کے ذریعے دین کی مٹتی ہوئی قدروں کو زندہ کیا جائے گا، عقائد میں جو خرابیاں آئیں گی ان کی اصلاح کی جائے گی، اخلاق، اعمال، احوال کی اصلاح کی جائے گی۔ حتیٰ کہ تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کی نسبت اور تعلق میں جو کمزوری آ رہی ہو گی مجدد اس ٹوٹے ہوئے تعلق کو بھی دوبارہ قائم کرے گا۔ پس ہر سو سال بعد دین اسلام کی تعلیمات میں در آنے والی خرابیوں اور کمزوریوں کو دور کرے گا اور امت کے، اپنے آقا محمدؐ سے ٹوٹے ہوئے عشق، محبت اور غلامی کے تعلق کو مضبوط تر کرے گا۔ 
پہلے جب بگاڑ آتا توان کی اصلاح کے لئے ایک پیغمبر کے بعد دوسرے پیغمبر تشریف لاتے اور سوسائٹی میں موجود بگاڑ کی اصلاح کر دیتے مگر جب آقا ؐ کی بعثت ہوئی تو نبوت و رسالت کا سلسلہ بند ہو گیا۔ برائیوں، خرابیوں اور اخلاق و عقائد کے باب میں آنے والے نقائص کو دور کرنے کے لئے نبوت و رسالت کا بدل اللہ نے حضور ؐ کی امت کے لئے مجدد کی صورت میں رکھ دیا۔ اب قیامت تک پہلی امتوں کے جو کام انبیاء کرتے تھے امت محمدیہؐ کا وہ کام آپ ؐ کی امت کے مجدد کرتے رہیں گے۔

(جاری)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK