غیر منافع بخش ادارے یورومیڈمانیٹرنے انکشاف کیا ہے کہ ’’اسرائیل کے ذریعے رہا کئے گئے فلسطینی قیدی اور حراست میں لئے گئے افراد کی صحت کافی خراب ہے۔ انہوں نے جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کیا ہے جبکہ انہیں ٹارچر بھی کیا گیا ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: February 28, 2025, 4:19 PM IST | Gaza Strip
غیر منافع بخش ادارے یورومیڈمانیٹرنے انکشاف کیا ہے کہ ’’اسرائیل کے ذریعے رہا کئے گئے فلسطینی قیدی اور حراست میں لئے گئے افراد کی صحت کافی خراب ہے۔ انہوں نے جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کیا ہے جبکہ انہیں ٹارچر بھی کیا گیا ہے۔‘‘
انسانی حقوق کی تنظیم یورویورومیڈیٹیررنین ہیومن رائٹس مانیٹر نے ایک خطرناک انکشاف کیا ہے جس میں ادارے نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان یرغمالوں کی رہائی اور جنگ بندی کے معاہدے کے تحت رہا کئے گئے فلسطینیوں کو جسمانی اور ذہنی اذیت دی گئی ہے۔ جنیواپر مبنی غیر منافع بخش ادارے نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’’اسرائیل نے سیکڑوں فلسطینی قیدیوں اور حراست میں لئے گئے افراد کو رہا کیا ہے جن کی صحت کافی خراب ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اسرائیل نے فلسطینی قیدیوں اور حراست میں لئے گئے افراد کو ٹارچر اور خوفزدہ کیا ہے۔ صہیونی فوج نے ان کی حراست کے اختتام تک ان پر مظالم ڈھائے ہیں۔ ‘‘ ادارے نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’’غیر صحت مندقیدیوں کی مسلسل رہائی ان کے ساتھ ہوئے گھناؤنے ٹارچر اور طبی لاپرواہی کوظاہر کرتی ہے جسے انہوں نے حراست میں رہنے تک برداشت کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بیشتر ممالک میں کل پہلا روزہ
یورومیڈ مانیٹر نے مزید کہا کہ ’’حراست میں لئے گئے افراد کی اکثریت پر کسی مخصوص جرم کا الزام عائد کیا ہے پھر بھی ان میں سے زیادہ تر افراد نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ انہیں ماراگیا ہے، ان کے ساتھ بدسلوکی کی گئی اور رہا ہونےکے آخری چند منٹوں تک انہیں خوفزدہ کیا گیا ہے۔‘‘ ادارے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اسرائیل کو فوری طور پرغزہ پٹی میں فلسطینی قیدیوں اور حراست میں لئے گئے افراد کی جبری گمشدگی کے جرم کو ختم کرنا ہوگا۔ صہیونی فوج کو اپنے تمام خفیہ حراستی خیموں کے نام ، وہ کہاں ہے اور غزہ پٹی سے حراست میں لئے گئے تمام فلسطینیوں کی تفصیلات فراہم کرنی چاہئے۔‘‘ اسرائیل نے جمعرات کو حماس کے۴؍ اسرائیلی یرغمالوں کی لاشیں واپس کرنے کے بعد ۶۴۲؍ فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوازم کو ہندوتوا سے بچائیں: نئی کتاب میں ارون شوری کا جراتمندانہ مطالبہ
یاد رہے کہ ۱۹؍جنوری ۲۰۲۵ء کو جنگ بندی اور یرغمالوں کی رہائی کا معاہدہ عمل میں آیا تھا جس کے بعد غزہ میں اسرائیل کی تباہ کن جنگ کا خاتمہ ہوا ہے جس کے نتیجے میں ۴۸؍ہزار سے زائد فلسطینیوں نے اپنی جانیں گنوائی تھیں جبکہ ایک لاکھ سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ معاہدے کے تحت اب تک حماس نے اسرائیل کو ۲۵؍یرغمالوں اور ۸؍ لاشیں واپس کی ہیںجس کے بدلے میں اسرائیل نے ایک ہزار ۱۰۰؍ فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا تھا۔اسرائیل کے اندازے کے مطابق اب تک حماس کی قید میں ۵۹؍ اسرائیلی یرغمال ہیں جن میں سے تقریباً ۲۰؍ زندہ ہیںجنہیں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت رہا کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے تحت اسرائیل کو غزہ سے اپنی فوج کو مکمل طور پر ہٹانا ہوگا اور جنگ کوختم کرنا ہوگا۔نومبر ۲۰۲۴ءمیں بین الاقوامی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یووو گیلنٹ کے خلاف غزہ پٹی میں جنگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کیلئے حراستی وارنٹ جاری کیا تھا۔