Updated: April 02, 2025, 10:30 PM IST
| Berlin
جرمنی میں اسرائیل کے مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والےغیر ملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی گئی، رپورٹ کے مطابق برلن کی حکومت نے کوپر لانگ بوٹم، کاسیا ولاسزیک، شین اوبرائن اور رابرٹا مرے کو نسل کشی مخالف مظاہروں میں حصہ لینے پر نشانہ بنایا۔
فلسطین حامی مظاہرے کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این
ایک رپورٹ کے مطابق جرمن حکام نے فلسطین کے حق میں اور نسل کشی کے خلاف مظاہروں میں حصہ لینے پر چار غیرملکی شہریوں کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ فیصلہ امریکہ میں ٹرمپ انتظامیہ کی فلسطین نواز کارکنوں کو خاموش کرانے کی کوششوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ آن لائن میڈیا دی انٹرسیپٹ کے مطابق، برلن کی سینیٹ انتظامیہ نے امریکہ، پولینڈ اور آئرلینڈ کے شہریوں کے خلاف ملک بدری کے احکامات جاری کیے ہیں، حالانکہ ان میں سے کسی پر بھی کوئی مجرمانہ الزام ثابت نہیں ہوا۔ یہ احکامات ایک ماہ کے اندر نافذ ہونے والے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: عید کیلئے تیار ہوکر بیٹھے ہوئے بچے اسرائیلی حملے میں شہید
متاثرہ مظاہرین میں سے دو کے وکیل الیگزنڈر گورسکی نے کہا کہ’’ ہم یہاں جو دیکھ رہے ہیں وہ انتہائی دائیں بازو کے نظریات سے براہ راست متاثر ہےآپ اسے امریکہ میں بھی دیکھ سکتے ہیں: مظاہرین کے مائیگریشن اسٹیٹس کو نشانہ بنا کر سیاسی اختلاف رائے کو خاموش کیا جا رہا ہے۔‘‘ حکام کے الزامات کوپر لانگ بوٹم، کاسیا ولاسزیک، شین اوبرائن اور رابرٹا مرے پر ان کے فلسطین حامی مظاہروں میں حصہ لینے سے متعلق ہیں، جن میں ۲۰۲۴ءکے آخر میں برلن کی فری یونیورسٹی کی عمارت پر قبضہ بھی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جرمن مائیگریشن قانون کے تحت جاری کیے گئے یہ جلاوطنی کے احکامات برلن کی امیگریشن ایجنسی کے سربراہ کی داخلی مخالفت کے باوجود جاری کیے گئے ہیں اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اسرائیلی ناکہ بندی کو ایک ماہ مکمل، رسد اور ادویات کی شدید کمی، انسانی بحران شدید، دنیا تماشائی
ان افراد پر ’’دہشت گردی اور یہود مخالفت‘‘کی حمایت کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، جس میں ممنوع نعرے لگانا یا پولیس کے ساتھ معمولی جھڑپیں شامل ہیں۔ وہ اس فیصلے کو چیلنج کر رہے ہیں اور اس کی مذمت کر رہے ہیں جسے وہ جرمنی کا ’’مائیگریشن قانون کو ہتھیار بنانا‘‘قرار دے رہے ہیں۔ توقع ہے کہ یہ احکامات ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں نافذ ہو جائیں گے۔ اس فیصلے نے شدید ردعمل کو جنم دیا ہے، جس میں تنقید کرنے والوں نے اسے آزادی اظہار پر حملہ قرار دیا ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ کیا جرمنی ٹرمپ انتظامیہ کے نقش قدم پر چل رہا ہے۔