Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

گلوبل ۱۹۵:عالمی عدالتوں میں "اسرائیلی فوج اور جنگی مجرموں" کے خلاف قانونی چارہ جوئی کیلئے وکلاء متحد

Updated: March 19, 2025, 5:32 PM IST | Inquilab News Network | London

عالمی اداروں نے علاقہ میں حملوں اور امداد کی ترسیل کو روکنے کے اسرائیلی احکامات کو غزہ کی آبادی کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این۔

قانونی ماہرین اور تنظیموں کا ایک عالمی اتحاد، جسے ۱۳۵ عینی شاہدین کی گواہی اور اوپن سورس انٹیلی جنس (او ایس آئی این ٹی) کی حمایت حاصل ہے، غزہ میں ممکنہ جنگی جرائم انجام دینے والے اعلیٰ اسرائیلی فوجی حکام، جونیئر افسران اور شہریوں کے خلاف عالمی عدالتوں میں مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کررہا ہے۔ وکلاء، سیاست دانوں اور ماہرین تعلیم کی ایک آزاد تنظیم، بین الاقوامی مرکز برائے انصاف برائے فلسطینی (آئی سی جے پی) کی جانب سے منگل کو فلسطین حامی ایک نئے اتحاد گلوبل ۱۹۵ کا قیام عمل میں آیا۔ تنظیم کا مقصد بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عالمی قانونی اتحاد یقینی بنائے گا کہ جنگی جرائم کے شبہ والے افراد کو مجرم ٹھہرانے کیلئے ملکی اور بین الاقوامی قانونی طریقہ کار کو بروئے کار لایا جائے اور بیک وقت پرائیویٹ گرفتاری کے وارنٹ کیلئے درخواست دینے اور ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کرنے کیلئے مختلف دائرہ اختیار میں کام کرے گا۔

آئی سی جے پی نے مزید بتایا کہ غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کرنے والے مجرمین پر مقدمہ چلانے میں بین الاقوامی اداروں اور ریاستوں کی کوتاہیوں کو دور کرنے گلوبل ۱۹۵ کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ اس اتحاد میں، جن ممالک کی نمائندگی کی گئی ان میں ملائیشیا، ترکی، ناروے، کینیڈا، بوسنیا اور ہرزیگووینا اور برطانیہ شامل ہیں۔ آئی سی جے پی نے کہا کہ گلوبل ۱۹۵ کے فہرست میں اسرائیلی فوجی اور سیاسی قیادت سمیت سینئر پالیسی سازوں سے لے کر آپریشنل اسٹاف کی سطح کے افراد شامل ہیں، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ہیں۔ برطانیہ میں ان برطانوی شہریوں کے خلاف قانونی کارروائی کیلئے پیشگی تیاریاں کی جا چکی ہیں جن پر اسرائیلی فوج میں شمولیت یا محصور غزہ، اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کا شبہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ۲؍مارچ کے بعد سے غزہ میں خوراک داخل نہیں ہوئی، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ

لندن میں آئی سی جے پی کے ڈائریکٹر طیب علی نے بتایا کہ فلسطین میں جنگی جرائم کے ذمہ دار افراد کے تعاقب میں بین الاقوامی قانونی اداروں کی رکاوٹوں، قومی پولیس کے انسانی ہمدردی کے قوانین اور عالمی دائرہ اختیار کے اصولوں کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکامی کی وجہ سے اسرائیلی مشتبہ جنگی مجرم، کارروائی سے بچے ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی قانون کے تحت، ریاستوں کو جنگی جرائم کی تحقیقات اور مجرمین پر مقدمہ چلانا چاہئے، پھر بھی ان فرائض کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ گلوبل ۱۹۵ کا آغاز اس ناکامی کے تدارک کیلئے ایک ضروری قانونی مداخلت کے طور پر سامنے آیا ہے۔ ورلڈ وائیڈ لائرز ایسوسی ایشن کے نائب صدر حسین دسلی نے کہا کہ ہم اسرائیل کے استثنیٰ کو ختم کرنے کیلئے ایک اہم قدم کے طور پر ترکی میں شکایت درج کر کے گلوبل ۱۹۵ کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ 

ملائیشیا کے وکیل آوانگ آرماداجایا بن اوانگ محمود نے بتایا کہ آئی سی جے پی نے غزہ میں جنگی جرائم کے متعدد شواہد اکٹھے کئے ہیں۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ شکایت میں شناخت کئے گئے مبینہ جنگی مجرموں کی تحقیقات اور ان پر مقدمہ چلانے کیلئے ریاستوں کے درمیان ضروری قانونی اور سفارتی ہم آہنگی کو بڑھایا جائے۔ ہم نے حکومت سے سرحدی پابندی، مجرمین کے اثاثوں کو منجمد کرنے اور ممکنہ طور پر مالی پابندیوں عائد کرنے کے حوالے سے بھی سفارشات پیش کی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: کیا غزہ میں اسرائیلی جنسی تشدد پر یو این کی رپورٹ عالمی عدالتوں کو کارروائی پر مجبور کریگی؟

واضح رہے کہ غزہ میں اکتوبر ۲۰۲۳ء سے شروع ہوئی اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ میں ۶۲ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق، ایک لاکھ ۱۵ ہزار سے زائد افراد زخمی اور لاکھوں افراد بے گھر اور نقل مکانی پرمجبور ہوئے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ غزہ سے تمام فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

غزہ جنگ کے دوران جنگی جرائم

بنجامن نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت کے براہ راست احکامات کے تحت اسرائیلی فوج نے غزہ میں محلوں کو تباہ کیا، اجتماعی قبریں کھودیں، قبرستانوں کو تباہ کیا، دکانوں اور بازاروں کو بموں سے اڑا دیا، اسپتالوں اور مردہ خانوں کو مسمار کیا، لاشوں پر ٹینک اور بلڈوزر چلائے، جیلوں میں بند فلسطینیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا، بجلی کاٹ کر فلسطینیوں کو بجلی سے محروم کیا، یہاں تک کہ کئی فلسطینیوں کی عصمت دری کی اور انہیں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: اسرائیل کا غزہ کے طبی نظام پر حملہ اور اسکی تباہی منظم، نسل کشی کے مترادف: اقوام متحدہ

نسل کشی کے دوران افسوسناک رویے کا مظاہرہ کرتے ہوئے، اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینی قیدیوں کو یہ کہہ کر طعنہ دیا کہ وہ غزہ میں فلسطینی بچوں کے سروں سے فٹ بال کھیل رہے تھے۔ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے گھروں کو لوٹنے، بچوں کے بستروں کو تباہ کرنے، گھروں کو آگ لگانے اور ہنسنے، بے گھر فلسطینیوں کے زیر جامے پہننے اور بچوں کے کھلونے چوری کرنے کی سینکڑوں ویڈیوز کو لائیو اسٹریم کیا ہے۔ فلسطین کو مٹانے کے اپنے مشن میں، اسرائیلی فوجیوں نے ریکارڈ تعداد میں بچوں، طبیبوں، کھلاڑیوں اور صحافیوں کو قتل کیا ہے جس کی مثال اس صدی کی کسی بھی جنگ میں نہیں ملتی۔

فلسطینی حکام کے مطابق تقریباً ۷۰ فیصد متاثرین، خواتین اور بچے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً ۱۸ ہزار فلسطینی بچوں اور بچوں کو قتل کیا ہے۔ غزہ میں خدمات انجام دینے والے تقریباً ۱۰۰ امریکی ڈاکٹروں کے ایک گروپ نے اکتوبر ۲۰۲۴ء میں ایک لاکھ ۱۸ ہزار سے زائد فلسطینی ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا تھا۔ برطانیہ کے طبی جریدے دی لانسیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، ۲۰۲۴ء کے وسط تک مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ ۸۰ ہزار سے زائد ہو سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ پٹی میں اسرائیلی حملے دوبارہ شروع، ۳۳۰؍ فلسطینی جاں بحق

حالیہ رپورٹس کے مطابق، اس سال ۱۹ جنوری سے نافذ ہوئے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسرائیل نے منگل کی صبح بے گھر فلسطینیوں کے خیموں اور گھروں پر اندھا دھند حملے کئے جس میں زمینی، فضائی اور سمندر سے سخت محاصرے کے دوران ۴۰۰ سے زائد ہلاک اور تقریباً ۷۰۰ فلسطینی قریب زخمی ہوئے۔ غزہ میں اسرائیل کی ۵۲۸ دن یا تقریباً ۱۸ ماہ جاری رہنے والی نسل کشی جنگ کے بعد بین الاقوامی سطح پر اس کی مذمت میں اضافہ ہوا ہے۔ عالمی اداروں نے علاقہ میں حملوں اور امداد کی ترسیل کو روکنے کے اسرائیلی احکامات کو غزہ کو تباہ کرنے کی دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔ انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے اسرائیل پر غزہ میں جنگی جرائم اور نسل کشی کا الزام عائد کیا ہے۔ بین الاقوامی عدالت انصاف، جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر کردہ نسل کشی کے الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے جبکہ بین الاقوامی فوجداری عدالت، نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کی گرفتاری کا وارنٹ جاری کر چکی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK