Updated: April 03, 2025, 8:04 PM IST
| Budapest
ہنگری نے نیتن یاہو کے متنازعہ دورے کے درمیان بین الاقوامی کریمنل کورٹ سے دستبرداری کا عمل شروع کردیا۔اس اعلان کے وقت اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپیسٹ پہنچ گئے، حالانکہ غزہ پٹی جنگ میں ان کے کردار پر ان کے خلاف بین الاقوامی گرفتاری کا وارنٹ جاری ہے۔
نیتن یاہو ہنگری کے دورے پر۔ تصویر: پی ٹی آئی
ہنگری کی حکومت نے جمعرات کو اعلان کیا کہ وہ بین الاقوامی کریمنل کورٹ ( آئی سی سی ) سے دستبردار ہونے کا فیصلہ کر رہی ہے۔ یہ اعلان اسرائیلی لیڈر نیتن یاہو کے ہنگری پہنچنے کے فوراً بعد کیا گیا، جن کے خلاف آئی سی سی نے گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ سیاسی طور پر محرک ہیں اور یہودی مخالف جذبات سے متاثر ہیں۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ آئی سی سی نے ایک جمہوری طور پر منتخب لیڈر کے خلاف، جو اپنے ملک کے دفاع کے حق کا استعمال کر رہا ہے، گرفتاری کا وارنٹ جاری کرکے اپنی تمام قانونی حیثیت کھو دی ہے۔ آئی سی سی کے بانی رکن ہونے کے ناطے، ہنگری پر نظریاتی طور پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کورٹ کے وارنٹ کے تحت کسی کو بھی گرفتار کرکے حوالے کرے۔ لیکن اوربان نے واضح کر دیا کہ ہنگری اس فیصلے کو تسلیم نہیں کرے گا، جسے انہوں نے ’’گستاخانہ، منافقانہ اور مکمل طور پر ناقابل قبول‘‘ قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: فلسطین حامی مظاہروں پرٹرمپ کے شکنجہ کے خلاف ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں زبردست ریلی نکالیں گی
واضح رہے کہ ہنگری نے۱۹۹۹ء میںآی سی سی کے قیامی دستاویز پر دستخط کیے تھے اور۲۰۰۱؍ میں اس کی توثیق کی تھی، لیکن اسے قانونی شکل نہیں دی گئی۔ جس کا مطلب ہے کہ عدالت کا کوئی بھی فیصلہ ہنگری میں نافذ نہیں ہو سکتا۔ اوربان نے فروری میں ہنگری کےآئی سی سی سے نکلنے کا امکان تب پیش کیا تھا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کورٹ کے پراسیکیوٹر کریم خان پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اوربان نے فروری میں ایکس پر لکھا تھا، ’’ہنگری کیلئے یہ وقت ہے کہ وہ اس بین الاقوامی تنظیم میں اپنی شمولیت کا جائزہ لے جو امریکی پابندیوں کے تحت ہے۔‘‘ آئی سی سی سے دستبرداری کا عمل، جو ایک سال تک جاری رہے گا، ہنگری کی پارلیمنٹ میں منظور ہونے کا امکان ہے، جہاں اوربان کی فیدز پارٹی کی اکثریت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو بدعنوانی کے مقدمے میں۲۱؍ ویں بارعدالت میں پیش
نیتن یاہو کو کئی سالوں سے ہنگری کے اوربان کی مضبوط حمایت حاصل رہی ہے، جو ایک اہم اتحادی ہیں اور ماضی میں اسرائیل کے خلاف ای یو کے تنقیدی بیانات یا اقدامات کو روکنےکیلئےسر گرم تھے۔ آئی سی سی کے ججوں نے گرفتاری وارنٹ جاری کرتے وقت کہا تھا کہ’’ معقول شواہد موجود ہیں کہ نیتن یاہو اور ان کے سابق دفاعی سربراہ جنگی جرائم کےمرتکب ہیں، جن میں قتل، ظلم اور جنگ کے ہتھیار کے طور پر بھوک شامل ہیں، جو غزہ کی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملےکا حصہ ہیں۔ ‘‘