Inquilab Logo Happiest Places to Work
Ramzan 2025 Ramzan 2025

اسرائیل نے غزہ کو بھوک کے شدید بحران کے قریب پہنچا دیا ہے: یو این آر ڈبلیو اے

Updated: March 24, 2025, 10:00 PM IST | Gaza

یو این آر ڈبلیو اے چیف فلپ لازارینی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کر رکھا ہے جس کے سبب وہاں ۴؍ مارچ کے بعد سے کھانے پینے کی اشیاء نہیں پہنچی ہیں۔ ہر دن غزہ کی آبادی بھکمری کے مزید قریب ہوتی جارہی ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطینی پناہ گزینوں کیلئے اقوام متحدہ کی ایجنسی (یو این آر اے ڈبلیو، اُونروا) کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ میں رسد اور خوراک کے داخلے پر پابندی انکلیو کو بھوک کے شدید بحران کے قریب دھکیل رہی ہے۔ فلپ لازارینی نے اتوار کو کہا کہ ’’اسرائیلی حکام کی طرف سے غزہ میں رسد کے داخلے پر پابندی کو تین ہفتے ہو چکے ہیں۔ نہ خوراک، نہ دوائیں، نہ پانی، نہ ایندھن۔ جنگ کے پہلے مرحلے سے زیادہ طویل محاصرہ۔‘‘ واضح رہے کہ اسرائیل نے حماس کے ساتھ جنگ ​​بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے کے پہلے مرحلے کی میعاد ختم ہونے کے بعد ۴؍ مارچ سے غزہ میں انسانی امداد کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ: مہلوکین کی تعداد ۵۰؍ ہزار سے تجاوز کرگئی

لازارینی نے خبردار کیا کہ غزہ کی آبادی اپنی بقا کیلئے اسرائیل کے ذریعے درآمدات پر منحصر ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر دن جو کہ امداد کے بغیر گزرتا ہے اس کا مطلب ہے کہ زیادہ بچے بھوکے سوتے ہیں، بیماریاں پھیلتی ہیں اور محرومی گہری ہوتی جاتی ہے۔ یو این آر ڈبلیو اے کے سربراہ نے کہا کہ ’’کھانے کے بغیر ہر روز غزہ بھوک کے شدید بحران کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ امداد پر پابندی غزہ پر ایک اجتماعی سزا ہے: اس کی آبادی کی اکثریت بچوں، خواتین اور عام مردوں پر مشتمل ہے۔‘‘لازارینی نے اسرائیلی محاصرہ ختم کرنے، تمام مغویوں کی رہائی اور انسانی امداد اور تجارتی سامان تک رسائی بلا تعطل اور بڑے پیمانے پر"پر زور دیا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ سے ملک بدر کئے گئے جنوبی افریقہ کے سفیر ابراہیم رسول کا زبردست استقبال

اسرائیلی فوج نے منگل سے غزہ پر اچانک فضائی حملہ شروع کر دیا ہے، جس میں ۷۰۰؍ سے زیادہ فلسطینی ہلاک اور ۱۲۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے غزہ پر اسرائیلی فوج کے وحشیانہ حملے میں ۵۰؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں اور ایک لاکھ ۱۳؍ ہزار سے زیادہ زخمی ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK