ایچ آر ایف دیگر یورپی ممالک میں قانونی ٹیموں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ نیتن یاہو کے کسی اور ریاست کے علاقے میں اترنے یا سفر کرنے پر عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت ان کی گرفتاری کے طریقہ کار پر فوراً عمل کیا جا سکے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 6:29 PM IST | Inquilab News Network | The Hague
ایچ آر ایف دیگر یورپی ممالک میں قانونی ٹیموں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ نیتن یاہو کے کسی اور ریاست کے علاقے میں اترنے یا سفر کرنے پر عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت ان کی گرفتاری کے طریقہ کار پر فوراً عمل کیا جا سکے۔
ہند رجب فاؤنڈیشن (ایچ آر ایف) نے منگل کو ایک اہم قانونی مہم کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کو ہنگری یا کسی بھی دیگر یورپی ملک کے سفر سے روکنا ہے۔ یہ مہم اس وقت سامنے آئی جب رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ نیتن یاہو ممکنہ طور پر بوداپیسٹ کا دورہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ ایچ آر ایف نے خبردار کیا کہ کوئی بھی یورپی ملک، خاص طور پر ہنگری جس کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کے نیتن یاہو کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، اگر نیتن یاہو کو داخلے یا سفر کی اجازت دیتا ہے تو وہ روم معاہدہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: بمباری ہمیں ختم کر سکتی ہے، بزورطاقت ہمیں کوئی آزاد نہیں کرا سکتا:اسرائیلی قیدی
ایچ آر ایف نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے پراسیکیوٹر کے دفتر کو آرٹیکل ۱۵ کے تحت ایک تفصیلی مکتوب جمع کرانے کا اعلان کیا جس میں ہنگری پر آئی سی سی کے وارنٹ کے تحت اس کے فرائض کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ مکتوب دیگر یورپی ممالک کی ذمہ داریوں کو بھی اجاگر کرتا ہے جو نیتن یاہو کے طیارے کو اپنے فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دے سکتے ہیں، حالانکہ ان پر قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ آئی سی سی کے مطلوب افراد کو گرفتار کریں۔ یاد رہے کہ آئی سی سی نے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا ہے۔
ایچ آر ایف نے ایک بیان میں کہا، "بنجامن نیتن یاہو کوئی عام سربراہ مملکت نہیں ہیں۔ وہ آئی سی سی کے ایک فعال گرفتاری وارنٹ میں مطلوب ہیں جو بڑے پیمانے پر مظالم کے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر جاری کیا گیا ہے۔ ان کی میزبانی کرنا یا ان کے طیارے کو اپنے فضائی حدود سے گزرنے دینا، غیر جانبداری نہیں بلکہ دھوکہ دہی ہے۔ ایسا کرنا بین الاقوامی انصاف، آئی سی سی کے اختیارات اور ہر اس متاثرہ شخص کے ساتھ دھوکہ دہی ہے جو نیتن یاہو کے احکامات کی وجہ سے تکلیف میں مبتلا ہوا ہے۔"
ایچ آر ایف دیگر یورپی ممالک میں قانونی ٹیموں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ اسرائیلی وزیر اعظم کے کسی اور ریاست کے علاقے میں اترنے یا سفر کرنے پر عالمی عدالت کے دائرہ اختیار کے تحت درخواستیں تیار کی جا سکیں اور نیتن یاہو گرفتاری کے طریقہ کار پر فوراً عمل کیا جا سکے۔ فاؤنڈیشن متعلقہ اداروں سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ آئی سی سی کے رکن ممالک کی ذمہ داریوں اور سابقہ مثالوں کی بنیاد پر نیتن یاہو کے طیارے کو اپنے فضائی حدود سے گزرنے سے روکنے کیلئے فوری اقدامات کریں۔
اس کے علاوہ، ایچ آر ایف نے ہنگری کے پبلک پراسیکیوٹر سے درخواست کی ہے کہ وہ ملک کے بین الاقوامی فوجداری قانون کے تحت نیتن یاہو کی گرفتاری کیلئے فوری کارروائی شروع کرے۔ ہنگری قانونی طور پر آئی سی سی کے ساتھ تعاون کرنے اور مطلوب افراد کو حوالے کرنے کا پابند ہے۔ اس سلسلے میں کوئی کارروائی نہ کرنا آئی سی سی کے ساتھ تعاون میں ناکامی اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: عید کیلئے تیار ہوکر بیٹھے ہوئے بچے اسرائیلی حملے میں شہید
واضح رہے کہ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں ۶۱ ہزار سے زائد فلسطینیوں، جن میں ۱۷ ہزار سے زائد بچے شامل ہیں، کی ہلاکت کے ذمہ دار نیتن یاہو پر عام شہریوں پر بے رحمانہ حملوں، بھوک کے ہتھکنڈوں اور بنیادی ڈھانچے کی منظم تباہی کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ آئی سی سی نے مئی ۲۰۲۴ء میں نیتن یاہو اور کئی دیگر اسرائیلی اہلکاروں کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ تاہم، نیٹن یاہو نے بین الاقوامی سطح پر سفر جاری رکھا۔ حال ہی میں انہوں نے امریکہ کا دورہ کیا جہاں صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے عالمی احتجاج کے باوجود ان کا استقبال کیا تھا۔