کیرلا کے ایس این ڈی پی لیڈر ویلپلی نٹیسن نے مسلم اکثریتی ضلع مالاپورم کے تعلق سے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ایک متنازع بیان میں مالاپورم کو خصوصی ملک قرار دیا جہاں ہندو پسماندہ طبقات کیلئے آزادانہ طور پر سانس لینا مشکل ہے۔‘‘
EPAPER
Updated: April 05, 2025, 10:04 PM IST | Thiruvandpuram
کیرلا کے ایس این ڈی پی لیڈر ویلپلی نٹیسن نے مسلم اکثریتی ضلع مالاپورم کے تعلق سے اشتعال انگیزی کرتے ہوئے ایک متنازع بیان میں مالاپورم کو خصوصی ملک قرار دیا جہاں ہندو پسماندہ طبقات کیلئے آزادانہ طور پر سانس لینا مشکل ہے۔‘‘
کیرلا میں ’’اقلیتوں کی خوشنودی‘‘ کے حوالے سے اپنے متنازعہ بیان کے چند ماہ بعد، سری ناراین دھرم پریپالن (ایس این ڈی پی) یوگم کے جنرل سیکرٹری ویلپلی نٹیسن نے دعویٰ کیا کہ’’ پسماندہ طبقات مسلم اکثریتی ضلع مالاپورم میں آزادانہ سانس نہیں لے سکتے‘‘، جسے انہوں نے ایک خصوصی ملک اور خاص لوگوں کی ریاست قراردیا۔ مالاپورم کے چنگاتھارا میں ایس این ڈی پی یوگم کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نٹیسن نے کہاکہ ’’میں آپ کے مسائل اور پریشانیوں سے واقف ہوں۔ آپ دوسروں کے درمیان خوف میں رہتے ہیں۔ ان کی تنقیدی نظروں،حقارت آمیز رویوں کا سامنا کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘ نٹیسن نے سوال اٹھایاکہ ’تو کیا ہوا، آزادی کے کئی سال بعد بھی؟ کیا مالاپورم کے پسماندہ طبقات کو آزادی کے فوائد کا ذرہ برابر بھی حصہ ملا ہے؟‘‘انہوں نے کہاایژوا برادری کو سیاسی، معاشی یا تعلیمی انصاف نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ میں وقف بل کی منظوری کے بعد آر ایس ایس کی نظر کیتھولک چرچ کی زمین پر
مالاپورم کے مانجیری میں نائر سروس سوسائٹی (ایک اعلیٰ ذات ہندو گروپ) کے قائم کردہ کالج کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ’’آپ میں سے کچھ لوگوں کو تعلیم اسی ادارے کی وجہ سے ملی۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ کیا ہمارے پاس کم از کم ایک اسکول بھی ہے جہاں آپ پڑھ اور پڑھا سکیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’جب دوسرے ووٹ بینک کے طور پر متحد ہوئے، ہم ایک ووٹ بینک کے طور پر اکٹھے نہیں ہو سکے۔‘‘ کانفرنس میں شریک بھارت دھرم جانا سینا کے لیڈرا اور ویلپلی نٹیسن کے بیٹے تشار ویلپلی نے کہا، ’’کیرلا اس صورت حال کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں ایک منظم اقلیت اکثریت پر غلبہ حاصل کر رہی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: متھرا کی شاہی عیدگاہ میں نماز پر اعتراض، مسلم فریق سپریم کورٹ سے رجوع
واضح رہے کہ اس سے قبل جون میں، ایس این ڈی پی کے ترجمان میگزین یوگانندم میں ویلپلی نٹیسن کے ایک مضمون نے تنازعہ کھڑا کر دیا تھا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اقلیتی برادریاں، خاص طور پر مسلمانوں نے حکمران لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ ( ایل ڈی ایف )اور اپوزیشن یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ (یو ڈی ایف)کی مسلمانوں کی خوشنودی‘‘ کی پالیسیوں کی وجہ سے حالیہ برسوں میں نمایاں فوائد حاصل کیے ہیں۔