Updated: April 05, 2025, 3:11 PM IST
| New Delhi
آر ایس ایس سے وابستہ ایک میگزین کے ویب پورٹل پر شائع شدہ ایک مضمون میں بالواسطہ طور پر نریندر مودی حکومت کی توجہ کیتھولک چرچ کی زیر ملکیت زمین کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی کامیاب منظوری ہو چکی ہے۔
آر ایس ایس کی رپورٹس کے مطابق کیتھولک چرچ کے پاس تقریباً۷؍ کروڑ ہیکٹر زمین ہے۔ تصویر: آئی این این۔
آر ایس ایس سے وابستہ ایک میگزین کے ویب پورٹل پر شائع شدہ ایک مضمون میں بالواسطہ طور پر نریندر مودی حکومت کی توجہ کیتھولک چرچ کی زیر ملکیت زمین کی جانب مبذول کرانے کی کوشش کی گئی ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پارلیمنٹ میں وقف ترمیمی بل کی کامیاب منظوری ہو چکی ہے۔
مضمون کی تفصیلات
’’ہندوستان میں کس کے پاس زیادہ زمین ہے؟ کیتھولک چرچ بمقابلہ وقف بورڈ کی بحث‘‘ کے عنوان سے آرگنائزر (Organiser) کے ویب پورٹل پر شائع مضمون میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیتھولک اداروں کے پاس۷؍ کروڑ ہیکٹر زمین ہے، جسے’’ملک کا سب سے بڑا غیر سرکاری زمین کا مالک‘‘قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: متھرا کی شاہی عیدگاہ میں نماز پر اعتراض، مسلم فریق سپریم کورٹ سے رجوع
وقف ترمیمی بل کیا ہے؟
یہ بل وقف املاک سے متعلق ۱۹۹۵ءکے قانون میں بڑی تبدیلیاں تجویز کرتا ہے جس کے تحت حکومت کو وقف املاک کے انتظام و انصرام اور تنازعات کے حل کیلئے وسیع اختیارات دیئے گئے ہیں۔ وقف کی زمین ایسی زمین ہوتی ہے جو کسی مسلمان کی طرف سے مذہبی، تعلیمی یا فلاحی مقاصدکیلئے وقف کی جاتی ہے۔ نقادوں کا کہنا ہے کہ اس ترمیم سے حکومت کو وقف بورڈز کی زمینوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا راستہ ہموار ہوتا ہے۔
کیتھولک چرچ پر توجہ
مضمون میں لکھا گیا ہے کہ’’فروری۲۰۲۱ء تک حکومتِ ہند کے زمین سے متعلق معلوماتی ویب سائٹ کے مطابق، ہندوستانی حکومت کے پاس تقریباً ۱۵؍ ہزار ۵۳۱؍مربع کلومیٹر زمین ہے جبکہ وقف بورڈ کے پاس بھی کئی ریاستوں میں وسیع زمین ہے، تاہم، یہ کیتھولک چرچ کی زمین سے کم ہے۔ ‘‘مزید دعویٰ کیا گیاکہ ’’رپورٹس کے مطابق، ہندوستان میں کیتھولک چرچ کے پاس تقریباً ۷؍ کروڑ ہیکٹر (۱۷ء۲۹؍ کروڑ ایکڑ) زمین ہے، جن کی کل مالیت تقریباً ۲۰؍ ہزار کروڑ روپے ہے جو چرچ کو ہندوستان کی رئیل اسٹیٹ دنیا کا ایک اہم کھلاڑی بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وقف ترمیمی بل کی منظوری پر ملک بھر میں احتجاج، نتیش اور نائیڈو کیخلاف سخت برہمی
سیاسی تناظر
بتا دیں کہ آر ایس ایس اور بی جے پی روایتی طور پر مسیحی مشنریوں کو مذہبی تبدیلی کے الزامات کے تحت نشانہ بناتے رہے ہیں۔ تاہم، حالیہ برسوں میں انتخابی حکمتِ عملی کے تحت خاص طور پر شمال مشرقی ریاستوں، کیرالا اور گوا میں مسیحی ووٹروں کو لبھانے کیلئے اس مسئلے کو پیچھے رکھا گیا ہے۔
تاریخی حوالہ
مضمون میں کہا گیاکہ ’’چرچ کی زیادہ تر زمین برطانوی دور میں حاصل کی گئی اور ان میں سے کئی زمینیں مشکوک ذرائع سے حاصل کی گئیں۔ ‘‘مزید یہ بھی لکھا گیا کہ’’۱۹۶۵ء میں حکومتِ ہند نے ایک سرکیولرجاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت کی جانب سے چرچ کو دی گئی لیز زمین اب چرچ کی ملکیت نہیں مانی جائے گی۔ تاہم، اس ہدایت پر موثر عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ سے کئی چرچ املاک کی قانونی حیثیت اب بھی غیر یقینی ہے۔ ‘‘