ممبئی پولیس نے آج کنال کامرا کو سمن جاری کیا ہے۔ کامیڈین نے کہا کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں مگر وہ معافی نہیں مانگیں گے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2025, 1:52 PM IST | Mumbai
ممبئی پولیس نے آج کنال کامرا کو سمن جاری کیا ہے۔ کامیڈین نے کہا کہ وہ پولیس کے ساتھ مکمل تعاون کیلئے تیار ہیں مگر وہ معافی نہیں مانگیں گے۔
ممبئی پولیس نے منگل کو کہا کہ انہوں نے کنال کامرا کو مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے خلاف ان کے متنازع بیان کے سلسلے میں درج مقدمے میں پوچھ گچھ کیلئے طلب کیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق پدوچیری میں رہنے والے کامرا کو منگل کی صبح ۱۱؍ بجے تک کھار پولیس کے سامنے حاضر رہنے کو کہا گیا ہے۔ کامرا پر بھارتیہ نیا سنہتا (بی این ایس) کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں ۳۵۳ (۱) (بی)، ۳۵۳ (۲) (عوامی فساد کو ہوا دینے والے بیانات)، اور ۳۵۶ (۲) (ہتک عزت) شامل ہیں۔ ایم آئی ڈی سی پولیس اسٹیشن نے شیوسینا کے ایم ایل اے مرجی پٹیل کی شکایت کی بنیاد پر کامرا کے خلاف زیرو ایف آئی آر درج کی ہے۔ بعد ازاں انہوں نے زیرو ایف آئی آر کو کھار تھانے منتقل کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: کنال کامرا پر حکمراں محاذ چراغ پا، اپوزیشن حمایت میں اُترا
واضح رہے کہ شیوسینا نے کامیڈین سے بلا مشروط معافی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کنال کامرا نے سیدھے لفظوں میں کہہ دیا ہے کہ وہ معافی نہیں مانگیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہجوم سے نہیں ڈرتے اور مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کے بارے میں بظاہر اس مذاق کیلئے معافی نہیں مانگیں گے جس سے تنازع کھڑا ہو گیا۔ خیال رہے کہ ریاستی حکومت نے کامرا سے ان کے مذاق پر معافی مانگی تھی۔
My Statement - pic.twitter.com/QZ6NchIcsM
— Kunal Kamra (@kunalkamra88) March 24, 2025
کامرا کے بیان کا مکمل متن:
اس ہجوم کیلئے جس نے ہیبی ٹیٹ کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کیا:
تفریحی مقام محض ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہر طرح کے شوز کیلئے ایک جگہ۔ ہیبی ٹیٹ (یا کوئی اور مقام) میری کامیڈی کیلئے ذمہ دار نہیں ہے، اور نہ ہی اس کا میرے کہنے یا کرنے پر کوئی اختیار یا کنٹرول ہے۔ نہ ہی کسی سیاسی جماعت کا اس پر کنٹرول ہے۔ کسی کامیڈین کے الفاظ کیلئے کسی مقام پر حملہ کرنا اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ ٹماٹر لے جانے والی لاری کو الٹ دینا، کیونکہ آپ کو وہ بٹر چکن پسند نہیں تھا جو آپ کو پیش کیا گیا تھا۔
مجھے سبق سکھانے کی دھمکی دینے والے ’’سیاسی لیڈران‘‘ کو:
ہماری آزادی اظہار رائے کا حق صرف طاقتور اور امیروں پر طعنہ زنی کیلئے استعمال نہیں کیا جا سکتا حالانکہ آج کا میڈیا ہمیں دوسری صورت میں ماننے پر مجبور کرتا ہے۔ ایک طاقتور عوامی شخصیت کی قیمت پر مذاق اڑانے میں آپ کی نااہلی میرے حق کی نوعیت کو نہیں بدلتی۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، ہمارے لیڈروں اور ہمارے سیاسی نظام کا مذاق اڑانا قانون کے خلاف نہیں ہے۔
تاہم، میں اپنے خلاف کی جانے والی کسی بھی قانونی کارروائی کیلئے پولیس اور عدالتوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہوں۔ لیکن کیا قانون ان لوگوں کے خلاف منصفانہ اور یکساں سلوک کرے گا جنہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ توڑ پھوڑ مذاق سے ناراض ہونے کا مناسب جواب ہے؟ اور بی ایم سی (برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن) کے غیر منتخب ممبران کے خلاف، جو آج بغیر پیشگی اطلاع کے ہیبی ٹیٹ پہنچے ہیں، اور اس جگہ کو منہدم کردیا ہے؟ شاید اپنے اگلے مقام کیلئے میں ایلفنسٹن بریج، یا ممبئی میں کسی دوسرے ڈھانچے کا انتخاب کروں گا جسے تیزی سے مسمار کرنے کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کنال کامرا کے شو کا انعقاد کرنے والے ہوٹل پر شیوسینکوں کا حملہ
ان لوگوں کیلئے جنہوں نے میرا نمبر لیک کرنے یا مجھے مسلسل کال کرنے میں مصروف ہیں: مجھے یقین ہے کہ آپ اب تک جان چکے ہوں گے کہ تمام نامعلوم کالز میرے وائس میل پر جاتی ہیں، جہاں آپ کو وہی گانا سنایا جائے گا جس سے آپ نفرت کرتے ہیں۔ سرکس کی وفاداری سے رپورٹنگ کرنے والے میڈیا کیلئے: یاد رکھیں کہ ہندوستان پریس کی آزادی کے معاملے میں ۱۵۹؍ ویں نمبر پر ہے۔ میں معافی نہیں مانگوں گا۔ میں نے جو کہا وہ بالکل وہی ہے جو اجیت پوار (پہلے نائب وزیراعلیٰ) نے ایکناتھ شندے (دوسرے نائب وزیراعلیٰ) کے بارے میں کہا۔ میں اس ہجوم سے نہیں ڈرتا اور میں چھپ کر نہیں بیٹھوں گا۔