میانمار نے بنگلہ دیش میں مقیم ۱۸۰۰۰۰؍روہنگیاؤں کو واپسی کے لیے ’’اہل‘‘ قرار دے دیا ، جبکہ بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں۱۳؍ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں، جو۲۰۱۷ء میں میانمار کی فوجی کارروائی سے بچنے کیلئے فرار ہوئے تھے ۔
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 10:04 PM IST | Dhaka
میانمار نے بنگلہ دیش میں مقیم ۱۸۰۰۰۰؍روہنگیاؤں کو واپسی کے لیے ’’اہل‘‘ قرار دے دیا ، جبکہ بنگلہ دیش کے کاکس بازار میں۱۳؍ لاکھ سے زائد روہنگیا پناہ گزین موجود ہیں، جو۲۰۱۷ء میں میانمار کی فوجی کارروائی سے بچنے کیلئے فرار ہوئے تھے ۔
میانمار کی عبوری حکومت کے سربراہ نے جمعے کو کہا کہ میانمار نے بنگلہ دیش میں مقیم روہنگیا پناہ گزینوں کےایک لاکھ ۸۰؍ ہزار ارکان کو واپسی کیلئے ’’ اہل‘‘ قرار دے دیا ہے۔بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے کہاکہ ’’میانمار کے حکام نے بنگلہ دیش کو تصدیق کی ہے کہ بنگلہ دیش میں پناہ لینے والے۸؍ لاکھ روہنگیاؤں کی فہرست میں سے انہوں نےایک لاکھ ۸۰؍ ہزار روہنگیاؤں کو میانمار واپس آنے کے اہل شناخت کیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: میانمار: زلزلے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد ۳؍ہزار سے تجاوز کرگئی
یونس نے یہ بیان تھائی لینڈ کے دورے کے دوران ایکس پر پوسٹ کیا، جہاں وہ بین الاقوامی تعاون کیلئے سربراہی اجلاس میں شرکت کیلئے بنکاک گئے تھے۔ میانمار کے فوجی بغاوت کے سربراہ من آنگ لائن بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ واپسی کے ’’اہل‘‘ روہنگیا ارکان کی تعداد جمعے کو بنکاک میں میانمار کے وزیر خارجہ یو تھان شیو نے یونس کے مشیر خلیل الرحمٰن کو بتائی۔ یونس کے دفتر کے مطابق، میانمار کی حکام نے مطلع کیا ہے کہ ’’ابتدائی فہرست میں شامل باقی۵؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روہنگیاؤں کی تصدیق جلد از جلد کی جائے گی۔‘‘
گزشتہ نومبر میں، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر نے من آنگ لائن کے خلاف ۲۰۱۷ءکی سفاکانہ فوجی کارروائی پر، جس کے نتیجے میں تقریباً۷؍ لاکھ ۵۰؍ ہزار روہنگیا بنگلہ دیش فرار ہو گئے تھے۔ حقوق انسانی گروپوں کے مطابق یہ میانمار کی فوج کی جانب سے نسل کشی تھی۔واضح رہے کہ روہنگیا میانمار کے راخائن ریاست کے اصل باشندے ہیں، لیکن بدھ مذہب کی پیرو کار میانمار کی مسلسل آنے والی حکومتوں نے انہیں شہریت سمیت دیگر حقوق سے محروم رکھا ہے۔