• Thu, 27 February, 2025
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

روس یوکرین جنگ کا جلد ہی خاتمہ ہوگا، میکرون اور ٹرمپ کا مشترکہ بیان

Updated: February 26, 2025, 11:28 AM IST | Washington

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا امریکہ دورہ ، وہائٹ ہاؤس میں امریکی صدرسے ملاقات، روس یوکرین جنگ پر اہم بات چیت

US President Trump and French President Macron can be seen at the joint press conference held at the White House. Photo: INN
وہائٹ ہاؤس میں منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی صدر ٹرمپ اور فرانسیسی صدر میکرون دیکھے جاسکتے ہیں۔ تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس یوکرین جنگ روکنے کیلئے اہم پیش رفت ہوئی ہے، امید ہے روس یوکرین جنگ کا جلد ہی خاتمہ ہوجائے گا۔ وہائٹ ہاؤس میں فرانسیسی ہم منصب صدر ایمانوئل میکرون کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں صدر ٹرمپ نے کہا یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق ہم معاہدہ کرنے کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ٹرمپ کی فرانسیسی صدر  میکرون سے وہائٹ ہاؤس میں خوشگوار ماحول میں ملاقات ہوئی، اوول آفس میں ہونے والی ملاقات سے قبل دونوں شخصیات نے میڈیا  کےنمائنوں سے  خصوصی بات چیت کی۔
 اس موقع پر امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ روس یوکرین جنگ روکنے پر بہت زیادہ پیشرفت ہوئی ہے، ہم اس جنگ کو ختم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہم ہفتوں کے مختصر عرصے میں اب تک ایک طویل سفر طے کرچکے ہیں اور ایک معاہدہ کرنے کے بہت قریب پہنچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے یوکرین پر۳۵۰؍ارب ڈالر خرچ کیے، یہ بہت بڑی رقم ہے، یہ جنگ بائیڈن انتظامیہ کی بہت بڑی غلطی تھی، یورپیوں نے یوکرین پر تقریباً ۱۰۰؍ بلین ڈالر خرچ کیے ہیں۔ صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ یورپ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ روس یوکرین جنگ مزید نہ ہو، افسوسناک بات ہے کہ ایسا ہوا۔ امریکی صدر نے کہا کہ اگر میں صدر ہوتا تو یہ جنگ کبھی نہ ہوتی، انسانی بنیادوں پر ہمیں اس انتہائی خونی اور وحشی مسئلے کو حل کرنا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر اس جنگ کو نہ روکا گیا تو یہ تیسری جنگ عظیم کا باعث بن سکتی ہے، اور ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ جنگ صرف ان دو ملکوں تک محدود نہیں رہے گی۔فرانسیسی صدر میکرون نے کہا کہ ہم یوکرین کے ساتھ امن قائم کرنا چاہتے ہیں، جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک یوکرین میں۱۰؍لاکھ افراد ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشترکہ مقصد یوکرین میں ٹھوس اور دیرپا امن قائم کرنا ہے، ہم ذاتی دوست ہیں اورمل کر کام کرتے ہیں، یورپ ایک قابل اعتماد پارٹنر بننے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: منترالیہ میں کسان کی خودکشی کی کوشش، ساتویں منزلہ سے حفاظتی جال پرگرا

میکرون نے بھی جلد ہی جنگ بندی کی امید ظاہر کی 
 فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون کا بھی خیال ہے کہ یوکرینی تنازع میں جنگ بندی چند ہفتوں میں طے پا سکتی ہے۔ میکرون نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ، ’’مجھے امید ہے ۔‘‘ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کے تنازع کو چند ہفتوں میں حل کرنا ممکن ہو گا جیسا کہ امریکی صدر  ٹرمپ کو امید ہے۔ اس پر فرانسیسی صدرنے کہا کہ ٹرمپ کی آمد گیم چینجر ہے اور وہ روس کے ساتھ مشغول ہونے کی امریکہ کی روک تھام کی صلاحیت کو دوبارہ قائم کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا، ’’اس لئے مجھے لگتا ہے کہ یہ ممکن ہے۔ میری تشویش یہ ہے کہ ہمیں تیزی سے آگے بڑھنا ہوگا، لیکن ہمیں پہلے کچھ چاہیے، ایک ایسی جنگ بندی جس کا جائزہ لیا جا سکے اور جانچا جا سکے۔ ‘‘ میکرون نے تمام فریقوں کے لیے ٹھوس حفاظتی ضمانتوں کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا۔
یوکرینی صدر سے اگلے ہفتے ملاقات ہو سکتی ہے: ٹرمپ
 امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی قیمتی دھاتوں کے معاہدے پر دستخط کرنے کے لئے  رواں ہفتے یا اگلے ہفتے وائٹ ہاؤس جائیں گے۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی کی جبکہ دونوں نے اوول آفس میں پریس کے ارکان کے ساتھ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کیا۔  ٹرمپ نے کہا کہ میں صدر زیلنسکی سے ملاقات کروں گا درحقیقت وہ  اس ہفتے یا اگلے ہفتے  قیمتی دھاتوں کی تلاش کے معاہدے پر دستخط کرنے کےلیے  آسکتے ہیں فی الحال اس معاہدے پر کام کیا جا رہا ہے، ہم حتمی معاہدے کے بہت قریب ہیں ۔ ٹرمپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ امریکہ اور یوکرین دونوں کی معیشت میں اہم کردار ادا کرے گا۔
کنیڈاا اور میکسیکو پر ٹیرف کا اطلاق طے شدہ پروگرام کے مطابق ہوگا
 امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر مقررہ وقت پر اور شیڈول کے مطابق ٹیرف عائد ہوں گے۔ وہائٹ ہاؤس میں پیر کو فرانس کے صدر میکرون کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران ٹرمپ سے سوال کیا گیا کہ کیا کنیڈا اور میکسیکو نے امریکہ کے۲۵؍ فی صد ٹیرف کے اطلاق سے بچنے کیلئے مؤثر اقدامات کیے ہیں؟ جس پر انہوں نے کہا کہ ٹیرف کا اطلاق اپنے وقت پر اور شیڈول کے مطابق ہونے جا رہا ہے۔خیال رہے کہ امریکی صدر نے یکم فروری کو ایک انتظامی حکم نامے کے تحت کنیڈاا اور میکسیکو سے درآمد اشیا پر ۲۵؍ فی صد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایگزیکٹو آرڈر کے دو روز بعد میکسیکو اور کینیڈا نے غیر قانونی تارکین وطن کی امریکہ آمد اور غیر قانونی منشیات پر قابو پانے کیلئے  سرحد پر حفاظتی کوششوں کو بڑھانے پر اتفاق کیا تھا۔ بعدازاں  ٹرمپ نے دونوں ملکوں پر ٹیرف کے نفاذ کو۳۰؍ دن کیلئے روک دیا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: مودی سرکارنے پسماندہ طبقات اور اقلیتوں کی اسکالرشپ ہڑپ لی ہے: کھرگے

یوکرین سے روسی فوج کے انخلا کی قرارداد منظور 

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے یوکرین سے روسی فوجیوں کے فوری انخلا کا مطالبہ کرنے والی قرارداد کے مسودے کو ۱۸؍ کے مقابلے میں۹۳؍ ووٹوں کے ساتھ منظور کیا جس میں ترکی بھی شامل تھا۔ یوکرین روس جنگ کا تیسرا سال مکمل ہو گیا جس پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس بلایا گیا۔ اجلاس میں یوکرین کی جانب سے تیار کردہ قرارداد کا مسودہ پیش کیا گیا جس میں ’’روسی افواج کے فوری انخلا اور جنگ کے خاتمے‘‘ کا مطالبہ کیا گیا ہے اور جسے یورپی یونین کے ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ جنرل اسمبلی کی رائے دہی میں یوکرین کا بل۹۳؍ ووٹوں کے ساتھ منظور کیا گیا۱۸؍ مخالفت میں ووٹ پڑے جبکہ۶۵؍ممالک نے رائے دہی میں حصہ نہیں لیا۔ رائے دہی میں امریکہ اور روس نے قرارداد کے حق میں ’ مخالف‘ ووٹ دیا جبکہ ترکی ان ممالک میں شامل تھا جنہوں نے ’ حمایت‘ میں ووٹ دیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ روسی جنگ تین سال سے جاری ہے اور اس کے نہ صرف یوکرین بلکہ دیگر خطوں اور عالمی استحکام کے لیے بھی تباہ کن اور دیرپا نتائج مرتب ہوں گے۔ قرارداد، جسے یورپی یونین کے ممالک کی بھی حمایت حاصل ہے۔
امریکہ نے سلامتی کونسل سے ۲؍قرارداد منظور کرالی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) نے امریکی حکومت کی جانب سے روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے سے متعلق قرارداد منظور کرلی ہے۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کی۲؍ قراردادوں پر ووٹنگ میں روس کا ساتھ دیا۔ دونوں ممالک نے پیر کے روز اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک قرارداد کی مخالفت کی تھی جس میں یوکرین میں ماسکو کی جانب سے جنگ کی مذمت کی گئی تھی، اس کے بعد یو این ایس سی میں امریکی حمایت یافتہ قرارداد منظور کرلی گئی، جس میں تنازع کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرارداد میں روس کو جارح قرار دینے یا یوکرین کی علاقائی سالمیت کو تسلیم کرنے سے گریز کیا گیا ہے، امریکہ کے ساتھ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشستیں رکھنے والے برطانیہ اور فرانس کے علاوہ روس اور چین نے دوسری رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔

امریکہ اور یوکرین کے درمیان وسائل پر ممکنہ معاہدے کا روس سے کوئی تعلق نہیں، روس کے صدر پوتن کا بیان
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے پیر کو کہا کہ امریکہ اور یوکرین کے درمیان قدرتی وسائل پرممکنہ معاہدے کا روس سے کوئی لینا دینانہیں ہے۔ تاہم یوکرین کے وسائل کا بغور جائزہ لیا جانا چاہیے۔ پوتن نے کہا کہ ’’اس سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں اس کا بالکل بھی اندازہ نہیں لگارہا ہوں اورنہ ہی اس کے بارے میں سوچنا چاہتا ہوں۔ یقیناً، ان وسائل کا اندازہ لگانے کی ضرورت ہے کہ وہ کتنے حقیقی ہیں، ان میں سے کتنے ہیں، وہ کیا ہیں، ان کی لاگت کتنی ہے، وغیرہ۔ لیکن، میں دہراتا ہوں، یہ ہمارا کام نہیں ہے۔‘‘ صدر نے کہا کہ اس کے ساتھ ہی، روس امریکی شراکت داروں، نجی کاروباروں اور سرکاری ڈھانچے کو نایاب زمینی دھاتوں کے شعبے میں مل کر کام کرنے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار ہو گا۔  پوتن نے کہا کہ ’’نایاب زمین کی دھاتیں ترقی یافتہ معیشت والے خطوں کے لیے ایک بہت اہم وسیلہ ہیں  اور ہم اس سمت میں بہت کم کام کر رہے ہیں۔ ہمیں مزید کرنا چاہیے۔‘‘

روس یوکرین کے پرامن حل کے لئے شرائط پیش کرے: روبیو
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکہ یوکرین میں تنازع ختم کرنے کے لئے روس کی شرائط کا خاکہ پیش کرنے کیلئے  روسی مذاکرات کاروں کے ساتھ ایک اور میٹنگ کرنا چاہتا ہے۔  روبیو نے پیر کو بریٹ بارٹ نیوز ویب سائٹ کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ، ’’ہمیں ان دونوں کو روس سے شروع کرنا ہے ، لہٰذا ہم نے گزشتہ ہفتے ان سے ملاقات کی اور اس ملاقات کا بنیادی سوال یہ تھا کہ آیا وہ اس تنازعہ کو ختم کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں یا نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ وہ صحیح حالات میں ایسا کریں گے۔ ہم نے ان شرائط پر بات نہیں کی۔ اس لیے اگلا مرحلہ یہ ہے کہ لوگوں کے صحیح گروہ کے ساتھ دوبارہ ان سے ملاقات کی جائے اور اس بات کا خاکہ پیش کرنا شروع کیا جائے کہ روس کو جنگ کو روکنے کے لیے کیا کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ یوکرین کے ساتھ شرائط پر بھی بات کرے گا۔ وزیر دفاع نے یوکرین کے بارے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’مخالفانہ‘‘ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ منگل کو ریاض میں روس اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے تھے۔ 

یوکرین میں پائیدار امن صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب تمام شراکت دار  مذاکرات میں شامل ہوں: اردگان
 ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے پیر کو کہا کہ یوکرین میں دیرپا امن صرف اسی صورت میں حاصل کیا جا سکتا ہے جب تنازع کے تمام فریق مذاکرات کی میز پر آئیں۔ اردگان نے کابینہ کے اجلاس کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’عام طور پر، ہم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی مذاکرات کے ذریعے جنگ کے خاتمے کی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ تاہم، مندرجہ ذیل حقیقت پر غور کرنا ضروری ہے: ایک منصفانہ اور دیرپا امن کا راستہ صرف ایک مساوات کے ذریعے کھولا جا سکتا ہے جس میں تمام شراکت دار(اسٹیک ہولڈرز) کی نمائندگی ہو۔ استنبول عمل کو چھوڑ کر روس کو اب تک مذاکرات سے باہر رکھا گیا ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ یوکرین کو بھی شرکت کے لیے مدعو کیا جانا چاہیے۔‘‘ ترک لیڈر نے کہا کہ وہ پہلے ہی اس معاملے پر اپنے موقف سے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کو آگاہ کر چکے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK