اترپردیش کے سابق ایم ایل اے سنگیت سوم نے ایک تقریب میں مغل حکمران اورنگزیب کے خلاف زہر اگلا، ان پر ہندوؤں پر مظالم ڈھانے اور مندروں کو گرانے کا الزام لگایا ، ساتھ ہی بابری مسجد کی طرز پر متھرا، وارانسی کی مساجد کو گرانے کی دھمکی دی ۔
EPAPER
Updated: March 20, 2025, 10:00 PM IST | Lukhnow
اترپردیش کے سابق ایم ایل اے سنگیت سوم نے ایک تقریب میں مغل حکمران اورنگزیب کے خلاف زہر اگلا، ان پر ہندوؤں پر مظالم ڈھانے اور مندروں کو گرانے کا الزام لگایا ، ساتھ ہی بابری مسجد کی طرز پر متھرا، وارانسی کی مساجد کو گرانے کی دھمکی دی ۔
ہندوتوا لیڈر اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے یوپی کے سابق قانون ساز، سنگیت سوم، نے متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات دیے ہیں۔ اس نے کہا کہ متھرا اور وارانسی کی تاریخی مساجد کو بھی گرایا جائے گا جیسے۱۹۹۲ء میں ہندوتوا کے ہجوم نے ایودھیا میں بابری مسجد کو گرایا تھا۔ سوم نے بدھ کو میرٹھ کے دشرتھ پور گاؤں میں ہولی کے جشن کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم عدالت کی مدد نہیں لیں گے۔ جیسے عوام نے بابری مسجد کو گرایا، ہم متھرا،کاشی کی مساجد کو گرا کر مندر بنائیں گے۔بیان دینے کے بعد، سوم نے مجمع سے پوچھا کہ کیا وہ ان کے بیان سے متفق ہیں اور سب نے ہاتھ اٹھا کر تصدیق کی اور `جے شری رام اور دیگر ہندوتوا نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھئے: بھنڈارہ: اورنگ زیب کے متعلق ’انسٹاگرام اسٹیٹس‘ رکھنے پر کشیدگی
ہندوتوا لیڈر نے مغل حکمران اورنگزیب پر ہندوؤں پر مظالم ڈھانے اور وارانسی اور متھرا میں مندروں کو گرانے کا الزام لگایا۔ اس نے اورنگزیب سے منسلک تمام چیزوں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جیسے مغل بادشاہ بابر کے نشانات بابری مسجد کو گراکر مٹا دیے گئے تھے۔ واضح رہے کہ بی جے پی لیڈر کیلئے اس طرح کے فرقہ وارانہ بیانات نئے نہیں ہیں۔۲۰۱۳ء میں، اس پر مظفر نگر میں پھوٹنے والے فرقہ وارانہ فسادات میں کردار ادا کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ۲۴؍ ستمبر۲۰۱۳ء کو اس کے خلاف قومی سلامتی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔۲۰۱۳ء کے مظفر نگر فسادات پر جسٹس وشنو سہائے کمیشن کی رپورٹ نے اسے فسادات کے ذمہ داروں کی فہرست میں سب سے اوپر رکھا ہے۔ ۱۸؍جنوری۲۰۱۷؍ کو، سوم پر فسادات کی کلپس کو دستاویزی فلم کے حصے کے طور پر پھیلانے کیلئے مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: برہانپور میں حساس مذہبی پوسٹ کے بعدفرقہ وارانہ تناؤ
اکتوبر۲۰۲۲ء میں، گوتم بدھ نگر کی ایک عدالت نے سوم کو نفرت انگیز تقریر کرنے کا مجرم پایا اور اسے سیکشن۱۸۸؍ (عوامی ملازم کے حکم کی نافرمانی) کے تحت سزا سنائی۔ اور جرمانہ ادا کرنے کے بعد رہا کر دیا گیا۔