دوتاغی کو ییل لاء اسکول اور لا اینڈ پولیٹیکل اکانومی پروجیکٹ سے ایک صہیونی ویب سائٹ کے ذریعے مہم چلائے جانے کے بعد برطرف کر دیا گیا۔ دوتاغی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں `فاشسٹ طرز حکمرانی کو معمول بنا دیا گیا ہے۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 8:34 PM IST | Washington
دوتاغی کو ییل لاء اسکول اور لا اینڈ پولیٹیکل اکانومی پروجیکٹ سے ایک صہیونی ویب سائٹ کے ذریعے مہم چلائے جانے کے بعد برطرف کر دیا گیا۔ دوتاغی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں `فاشسٹ طرز حکمرانی کو معمول بنا دیا گیا ہے۔
ایرانی نژاد اسکالر ہیلیہ دوتاغی نے اسرائیل کی تنقید کے سبب برطرف کیے جانے کے بعد امریکہ پر اختلاف رائے کو دبانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ معروف یونیورسٹیوں میں’’فاشسٹ حکمرانی‘‘ کو معمول بنانے کی کوشش ہے۔ ہیلیہ دوتاغی کو جمعے کے روز ییل لا اسکول (وائی ایل ایس) اور لا اینڈ پولیٹیکل اکانومی پروجیکٹ سے نکال دیا گیا تھا۔انہوں نے منگل کو ایک بیان میں کہا، "نہ تو وائی ایل ایس اور نہ ہی کسی صہیونی رپورٹ (یا دونوں!) نے میرے خلاف کوئی ثبوت پیش کیا ہے جو کسی غیر قانونی تعلق یا عمل کو ظاہر کرے۔" انہوں نے خبردار کیا کہ ان کی برطرفی ایک ’’خوفزدہ کر دینے والی نظیر قائم کر سکتی ہے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: عید کیلئے تیار ہوکر بیٹھے ہوئے بچے اسرائیلی حملے میں شہید
ان کا کہنا تھا کہ ان کی برطرفی امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو خاموش کرانے کے وسیع رجحان کی عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ ییل، کارنل، کولمبیا اور ہارورڈ جیسے اداروں میں جو کچھ ہو رہا ہے، وہ فاشسٹ حکمرانی کو معمول بنانےکی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا، مغربی جبر اور غلبے کو چیلنج کرنے والے گلوبل ساؤتھ ایکٹز کو منظم کرنے اور سزا دینے کیلئے تیار کی گئی قانونی ٹیکنالوجی اب تیزی سے اندرونی طور پر استعمال ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ’’ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ جمہوریت کی ناکامی نہیں ہے – یہ خود مغربی لبرل جمہوریت ہےجس میں انہوں نے نسل کشی پر پلنے والے نظام اور فلسطین کی آزادی کے درمیان واضح انتخاب پیش کیا۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ہارورڈ یونیورسٹی پر۹؍ ارب ڈالر کے وفاقی فنڈ منسوخ ہونے کا خطرہ
دوتاغی کی برطرفی کے بعد محکمہ تعلیم نے۶۰؍ یونیورسٹیوں کو اینٹی سیمٹزم ( یہود مخالف)کی شکایات پرامداد میں کمی کے ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا ہے۔ یہ کارروائی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے امریکی کیمپس میں یہودی مخالف رویوں کے خلاف اقدامات کا حصہ ہے۔ انتظامیہ نے امدادکا جائزہ لینے کو اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کے خلاف احتجاج سے جوڑا ہے۔جس میں اسرائیل نے وحشیانہ بمباری میں ۶۲؍ ہزار فلسطینیوں کو ہلاک، ایک لاکھ ۱۵؍ ہزار افراد کو زخمی،اور ۲۳؍ لاکھ افراد کو بے گھر کردیا ہے۔