سپریم کورٹ نے ایک پی آئی ایل کو مسترد کی ہے جس میں ۱۳؍ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے درخواست کنندہ کو مرکزی حکومت سے رجوع کی اجازت دی ہے۔
EPAPER
Updated: April 05, 2025, 8:35 PM IST | New Delhi
سپریم کورٹ نے ایک پی آئی ایل کو مسترد کی ہے جس میں ۱۳؍ سال سے کم عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔‘‘ عدالت عظمیٰ نے درخواست کنندہ کو مرکزی حکومت سے رجوع کی اجازت دی ہے۔
بار اور بینچ نے رپورٹ کیا ہے کہ سپریم کورٹ نے جمعہ کو ایک پی آئی ایل مسترد کی ہے جس میں ۱۶؍ سال سے کم عمر کے بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک رسائی پر پابندی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ میں جسٹس بی آر گوائی اور جسٹس اے جی مسیح کی بینچ نے اس معاملے میں حکم جاری کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ ’’پالیسی کا فیصلہ حکومت کے دائرہ ٔ اختیار میں ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے درخواست کنندہ کو اپنی درخواست کے تعلق سے مرکزی حکومت سے رجوع کی اجازت دے دی ہے۔ درخواست کنندہ نے دلیل پیش کی ہے کہ ’’بچوں کیلئے سوشل میڈیا تک غیر محدود رسائی آئین کے آرٹیکل ۲۱؍ کے تحت دیئے گئے ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی جو زندگی کے حق کی ضمانت دیتا ہے جس میں ’’صحت اور شناخت‘‘ کا حق بھی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ٹیرف سے کساد بازاری کا خطرہ بڑھا
بار اور بینچ نے رپورٹ ’’باقاعدگی سے نگرانی کی عدم موجودگی نے سوشل میڈیا کو ’’نفسیاتی جنگ کے میدان‘‘ میں تبدیل کردیا ہے جہاں کم سن افراد کو نقصان دہ اگلورتھمز، مواد اور غیر حقیقی موازنے کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔‘‘ اپیل میں درخواست کی گئی تھی کہ مرکزی حکومت کو یہ حکم جاری کیا جائے کہ ’’وہ ۱۳؍ سے ۱۸؍سال کی عمر کے بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال کیلئے ’’والدین کے اختیاریا کنٹرول‘‘ کو یقینی بنائے جن میں ’’نگرانی کرنے والے ٹولز‘‘ اور ’’مواد پر پابندیاں‘‘وغیرہ شامل ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پارلیمنٹ میں وقف بل کی منظوری کے بعد آر ایس ایس کی نظر کیتھولک چرچ کی زمین پر
اپیل میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ان اصول و ضوابط کو نہیں اپناتے ہیں ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔‘‘مزید برآں اپیل میں حکومت سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ والدین، اساتذہ اور طلبہ میں سوشل میڈیا کے استعمال کے خطرات کے تعلق سے آگاہی پھیلانے کیلئے ’’ڈجیٹل خواندگی کی مہم‘‘ کی شروعات کرے۔‘‘ ۳؍ جنوری ۲۰۲۵ء کو مرکزی حکومت نے ’’ڈجیٹل پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن رولز‘‘ کا مسودہ جاری کیا تھا جس میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بنانے کیلئے بچوں کیلئے والدین کی اجازت ضروری ہوگی۔‘‘ یہ مسودہ قوانین مرکزی وزارت برائے الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی فار پبلک کنسلٹیشن نے شائع کئے تھے۔ ان میں کہا گیا تھا کہ ’’والدین یا قانونی سرپرست کی طرف سے فراہم کردہ رضا مندی کو حکومت سے منظور شدہ شناختی ثبوت کے ذریعے رضاکارانہ طور پر توثیق کرنا ضروری ہے۔‘‘