امریکہ میں ۷۰؍ فیصد اقتصادی سرگرمیاں صارفین کے اخراجات سے ہوتی ہیں۔ اس سے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر پڑیگا۔
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 8:19 PM IST | New Delhi
امریکہ میں ۷۰؍ فیصد اقتصادی سرگرمیاں صارفین کے اخراجات سے ہوتی ہیں۔ اس سے نہ صرف امریکی بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر پڑیگا۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو مختلف ممالک پر محصولات کا اعلان کردیاہے تاہم اس وقت ان محصولات کی وجہ سے سب سے زیادہ نقصان امریکہ کو ہی ہو رہا ہے۔ ماہرین معاشیات کو خدشہ ہے کہ یہ محصولات امریکی معیشت کو کساد بازاری کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ ٹیرف کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ کو ایک ہی دن میں ۲؍ ٹریلین ڈالر سے زائد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے سے صارفین اخراجات میں کمی کر سکتے ہیں۔ امریکی مالیاتی منڈی میں تقریباً ہر شعبے کو نقصان ہوا ہے اور یہ نقصان اتنا بڑا ہے کہ کورونا وبا کے تقریباً ۵؍ سال بعد امریکی کمپنیوں کو ایک ہی دن میں کھربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ بینکوں، خردہ فروشوں، کپڑے، ایئر لائنس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ ٹیرف کی وجہ سے امریکی مارکیٹ میں اشیا اور خدمات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی جس کی وجہ سے صارفین اپنے اخراجات کم کر دیں گے۔
امریکہ کے ساتھ ساتھ عالمی معیشت بھی متاثر ہوگی بہت سے ماہرین اقتصادیات نے محصولات کو توقع سے زیادہ خراب قرار دیا ہے۔ ٹیرف کے نفاذ کے بعد سرمایہ کاروں کی ایک بڑی تعداد نے ان کمپنیوں کے حصص فروخت کئے جن کے ٹیرف سے سب سے زیادہ متاثر ہونے کی امید تھی۔ اقتصادی ماہرین کا خیال ہے کہ محصولات صارفین کو سب سے زیادہ متاثر کریں گے اور اگر صارفین اخراجات میں کمی کرتے ہیں، تو کمپنیاں کم سامان پیدا کریں گی جو اقتصادی ترقی کو روک سکتی ہے یا سکڑ سکتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ میں اقتصادی سرگرمیوں کا۷۰؍ فیصد صارفین کے اخراجات سے آتا ہے۔ فِچ ریٹنگز میں امریکی معیشت کی تحقیق کے سربراہ اولو سونولا کا کہنا ہے کہ اس سے نہ صرف امریکی معیشت بلکہ عالمی معیشت پر بھی اثر پڑے گا۔ ٹیرف منصوبے سے بہت سے صنعتی شعبے متاثر ہوں گے۔ خیال کیا جا رہا ہے کہ اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے امریکی لوگ اپنے اخراجات میں کمی کریں گے اور اس کی وجہ سے ہوائی سفر میں کمی کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ جمعرات کو امریکی اسٹاک مارکیٹ میں امریکن ایئرلائنس کے حصص کی قیمتوں میں زبردست گراوٹ ہوئی۔
امریکہ میں زیادہ تر کپڑے اور جوتے کے برانڈس ملک سے باہر تیار کرتے ہیں۔ ایسے میں اب انہیں امریکہ میں بھاری ٹیرف ادا کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے کپڑے اور جوتے مہنگے ہو جائیں گے اور ان کی فروخت متاثر ہونا یقینی ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نائیکی، راف اینڈ لورین وغیرہ کمپنیوں کے حصص بھی زبردست گر گئے۔ خردہ کمپنیاں امریکہ میں آن لائن خردہ کمپنیاں اپنی انوینٹری کا ایک بڑا حصہ بیرون ملک سے درآمد کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امیزون، بیسٹ بائے اور ڈالر ٹری جیسی خردہ کمپنیوں نے جمعرات کو اپنے اسٹاک میں دُہرے ہندسوں کی کمی دیکھی۔ ٹیکنالوجی کے شعبے کی ٹیکنالوجی کمپنیاں جو کمپیوٹر، اسمارٹ فون اور لیپ ٹاپ فروخت کرتی ہیں وہ بھی اپنی زیادہ تر مصنوعات امریکہ سے باہر بناتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں انہیں اپنی مصنوعات پر ٹیرف بھی ادا کرنا پڑے گا۔ یہی وجہ تھی کہ ایپل، ایچ پی، ڈیل، نیوڈیا جیسی کمپنیوں کے شیئرس گرگئے۔ ان کے علاوہ بینکوں، ریستوراں اور کار بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں بھی گراوٹ آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ٹیرف اعلان سے بازا روں میں ہلچل
امریکی ٹیرف بین الاقوامی معیشت کیلئے بڑا خطرہ ہے:آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عائد کردہ ٹیرف کو عالمی معیشت کیلئے خطرہ قرار دے دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے( آئی ایم ایف) کی سربراہ کرسٹالینا جارجیوا نے امریکی ٹیرف پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سست شرح نمو کے وقت امریکی ٹیرف بین الاقوامی معیشت کیلئے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو چاہیے اپنے تجارتی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرے، بین الاقوامی معیشت کو نقصان پہنچانے والے اقدامات سے گریز کرنا ضروری ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جمعرات کو دنیا کے مختلف ممالک پر بھاری ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے ٹیرف فیصلے کا نتیجہ، آئی فون کی قیمت اب ۲؍ لاکھ روپے ہو سکتی ہے
امریکی ٹیرف: عالمی مارکیٹس میں شدید مندی، تیل کی قیمتیں ۷؍فیصد گر گئیں
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے تجارتی جنگ چھیڑے جانے کے بعد وال اسٹریٹ سمیت دنیا بھر کی مارکیٹس میں شدید مندی نظر آئی، تاہم وائٹ ہاؤس نے اصرار کیا کہ امریکی معیشت فتحیاب ہوگی۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے کئی ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کئے جانے کے بعد ڈاؤ جونس ۳؍ فیصد سے زیادہ گرا جبکہ ایس اینڈ پی میں ۴؍ فیصد کی کمی دیکھی گئی۔ اسی طرح نیس ڈیک ۵؍ فیصد سے زیادہ گر گیا۔ڈونالڈ ٹرمپ کے بدھ کے اعلان کے بعد ایشیا اور یورپ کے مارکیٹ بھی صدمے میں تھے، جب کہ غیر ملکی لیڈروں نے مذاکرات کے لئے آمادگی کا اشارہ دیا لیکن جوابی محصولات کی دھمکی بھی دی۔امریکی صدر نے تمام ممالک پر۱۰؍ فیصد درآمدی ڈیوٹی عائد کی اور درجنوں مخصوص ممالک بشمول بڑے تجارتی شراکت دار چین اور یورپی یونین سے درآمدات پر کہیں زیادہ محصولات لگائے۔
یہ بھی پڑھئے: مالی سال۲۶ء میں ہندوستان کی جی ڈی پی ۶ء۵؍ فیصد ہوگی :فِچ
یو ایس ٹیرف: پہلے ۲۶؍پھر ۲۷؍ اور اب دوبارہ۲۶؍ فیصد
امریکہ نے ہندوستان پر جوابی ٹیرف لگانے کی تازہ ترین ٹیرف پہلے۲۶؍فیصد، پھر ۲۷؍فیصد اور اب دوبارہ۲۶؍فیصد کردی۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ہندوستان پر عائد درآمدی ڈیوٹی۲۷؍ فیصد سے کم کر کے دوبارہ۲۶؍ فیصد کر دی ہے۔ اس بات کی تصدیق وائٹ ہاؤس کی ایک دستاویز میں ہوئی ہے۔ یہ ڈیوٹیز ۹؍ اپریل سے نافذ ہوں گی۔ بدھ کو مختلف ممالک کے خلاف باہمی محصولات کا اعلان کرتے ہوئے، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک چارٹ دکھایا تھا جس میں ہندوستان پر۲۶؍ فیصد ٹیرف لگانے کا ذکر تھا۔ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ اب ہندوستان، چین، برطانیہ اور یورپی یونین کوٹیرف ادا کرنا ہوں گے۔