ٹورنٹو، کنیڈا کے قریب ایک لائبریری میں ایک باحجاب مسلم خاتون پر حملہ کیا گیا اور ان کا حجاب جلانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔
EPAPER
Updated: March 25, 2025, 4:10 PM IST | Toronto
ٹورنٹو، کنیڈا کے قریب ایک لائبریری میں ایک باحجاب مسلم خاتون پر حملہ کیا گیا اور ان کا حجاب جلانے کی کوشش کی گئی۔ پولیس نے اس معاملے میں ایک خاتون کو گرفتار کیا ہے۔
کنیڈا کی پولیس کے مطابق اتوار کو ٹورنٹو کے قریب ایک پبلک لائبریری میں ایک مسلمان خاتون پر حملہ کرنے کے ایک دن بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ خیال رہے کہ حملہ آور نے متاثرہ خاتون کے حجاب کو آگ لگانے کی کوشش کی تھی۔ ڈرہم ریجنل پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ’’(وہ) لائبریری میں پڑھ رہی تھی جب ایک نامعلوم خاتون نے اس سے رابطہ کیا۔ خاتون نے متاثرہ لڑکی کو گالیاں دیں اور اس کے سر پر چیزیں پھینکنا شروع کر دیں۔ اس کے بعد مشتبہ شخص نے متاثرہ لڑکی کا حجاب اتارنے کی کوشش کی، جبکہ اس پر ایک نامعلوم مائع ڈالا، اس کے بعد مشتبہ شخص نے لائٹر پکڑا اور حجاب کو جلانے کی کوشش کی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: واشنگٹن کیساتھ گفتگوسے انکار ضد نہیں بلکہ تجربہ کا نتیجہ ہے: ایران
متاثرہ نے مدد کیلئے آوازیں دینا شروع کیں تو لائبریری کے سیکوریٹی عملے نے مداخلت کی۔ پولیس نے بتایا کہ ملزمہ فرار ہوگئی گیا لیکن چند گھنٹوں بعد اسے گرفتار کر لیا گیا۔ نیشنل کونسل آف کنیڈین مسلمز (این سی سی ایم) نے ایک پریس ریلیز میں کہا کہ وہ اس واقعے سے خوفزدہ ہیں۔ تنظیم کے چیف ایگزیکٹیو آفیسرا سٹیفن براؤن نے کہا کہ ’’یہ پریشان کن ہے۔ اس قسم کا تشدد ہماری کمیونٹی میں معمول بن گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں اسلامو فوبیا کے واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ یہی وقت ہے کہ ہمارے منتخب کردہ لیڈران آگے بڑھیں اور اس مسئلے کو باہمی تعاون سے حل کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: سعودی حکام نےقواعد و ضوابط کی خلاف ورزی پر ۲۵؍ ہزار سے زائد افراد کو گرفتارکیا
ایجیکس کے میئر شان کولیر اور لائبریری بورڈ کی چیئر پیالی کوریا نے قصبے کی ویب سائٹ پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا کہ ’’اس خوفناک عمل کا شکار ہونے والے اور جو بھی اس حملے سے متاثر ہوا، اسے چوٹ پہنچی یا مایوس ہوا، خاص طور پر جیسا کہ رمضان کے دوران ہوا، جو امن اور خدا سے روحانی تعلق کا مہینہ ہے، ہم یہاں آپ کی حمایت کرنے اور ہر قسم کی نفرت اور عدم برداشت کے خلاف کھڑے ہونے کیلئے۔ ہیں۔ ‘‘ براؤن نے مزید کہا کہ این سی سی ایم نے پولیس سے کہا ہے کہ وہ اس واقعے کو نفرت پر مبنی جرم کے طور پر شمار کرے۔