Updated: April 04, 2025, 9:02 PM IST
| Washington
ٹرمپ کے نئے ٹیرف نے امریکی صارفین کیلئے اشیاء کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے عالمی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔ الیکٹرانکس سے لے کر کپڑوں تک کی روزمرہ کی اشیاء کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ آئی فون کی قیمت۲۳۰۰؍ ڈالر (تقریباً ۲؍ لاکھ روپے) تک پہنچ سکتی ہے۔
صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نئے ٹیرف کے فیصلے نے امریکی صارفین پر مہنگائی کے شدید خدشات پیدا کر دیے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تنقید ہوئی ہے اور تجارتی جنگ کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔بدھ کو ٹرمپ نے تمام درآمدات پر۱۰؍ فیصد بنیادی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جبکہ اہم تجارتی شراکت داروں پر زیادہ شرحیں نافذکیں۔ اس فیصلے کے بعد عالمی مالیاتی منڈیوں میں بھاری کمی دیکھی گئی اور دنیا بھر کے لیڈروں نے تنقید کی، جنہوں نے دہائیوں کی تجارتی آزادی کے خاتمے کے خطرے سے آگاہ کیا۔ امریکی صارفین پر فوری اثرات ایک بڑا تشویشناک پہلو ہے۔ ٹیرف کے نتیجے میں مختلف اشیاء، جیسے کہ کینابس، رننگ شوز اور ایپل کے آئی فون، کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ روزن بلیٹ سیکیورٹیز کے مطابق، اگر ایپل اضافی اخراجات صارفین پر منتقل کرتا ہے تو ایک ہائی اینڈ آئی فون کی قیمت تقریباً۲۳۰۰؍ ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔جو ہندوستانی روپئے میں تقریباً ۲؍ لاکھ روپئے بنتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ ٹیریف‘ کے نرغے میں کئی ممالک ، ہندوستان پر ۲۶؍ فیصد ٹیریف عائد
کاروباری ادارے پہلے ہی ردعمل دے رہے ہیں۔ آٹو میکر اسٹیلانٹس نے کینیڈا اور میکسیکو میں عارضی ملازمین کی برطرفی اور پلانٹس کی بندش کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنرل موٹرز نے امریکہ میں پیداوار بڑھانے کا اشارہ دیا ہے۔کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے امریکی اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی معاشی تعاون سے دستبرداری کی علامت ہے۔ کینیڈا نے جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے، جبکہ چین اور یورپی یونین نے بھی جوابی کارروائی کا عہد کیا ہے۔ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے یورپی سرمایہ کاری کو امریکہ میں معطل کرنے کی اپیل کی۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیرف افراط زر کادوبارہ سبب بن سکتے ہیں، جس سے ایک اوسط امریکی خاندان کو ہر سال ہزاروں ڈالر کا نقصان ہو سکتا ہے۔ عالمی اسٹاک مارکیٹ بھی تیزی سے گر گئیں، جس میں ڈاؤ، ایس اینڈ پی۵۰۰؍ اور نیسڈیک سبھی میں بھاری کمی دیکھی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: اطالوی اپوزیشن لیڈر کا اسرائیل پر ہتھیاروں کی مکمل پابندی کا مطالبہ
اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ ٹیرف امریکی مینوفیکچرنگ کو تحفظ دینے اور نئی برآمدی منڈیاں کھولنے کیلئے ضروری ہیں، جبکہ نقادوں نے عالمی تجارتی جنگ، اور صارفین پر قیمتوں کے اضافی بوجھ سے خبر دار کیا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹیرف پلان بین الاقوامی مذاکرات کے لیے مضبوط بنیادوں پر نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ٹیرف سے جاپان اور جنوبی کوریا جیسے امریکی اتحادیوں کے ساتھ تعلقات خراب ہونے کا بھی خطرہ ہے، جن پر بھاری ٹیرف عائد کیے گئے ہیں۔ صورتحال اس لیے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے کیونکہ کینیڈا اور میکسیکو سے درآمدات پر پہلے سے موجود ٹیرف کے ساتھ ساتھ گاڑیوں کی درآمدات پر نئے ٹیرف بھی عائد کیے گئے ہیں۔