یو پی پولیس نے مظفرنگر میں ان سیکڑوں مسلمانوں کے خلاف ’’امن میں خلل ڈالنے‘‘ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جنہوں نے جمعہ اور عید کی نماز کے دوران وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا تھا۔
EPAPER
Updated: April 05, 2025, 10:00 PM IST | Lukhnow
یو پی پولیس نے مظفرنگر میں ان سیکڑوں مسلمانوں کے خلاف ’’امن میں خلل ڈالنے‘‘ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جنہوں نے جمعہ اور عید کی نماز کے دوران وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا تھا۔
یو پی پولیس نے مظفرنگر میں ان سیکڑوں مسلمانوں کے خلاف ’’امن میں خلل ڈالنے‘‘ کے الزام میں مقدمہ درج کر لیا ہے، جنہوں نے جمعہ اور عید کی نماز کے دوران وقف ترمیمی بل کی مخالفت میں سیاہ پٹیاں باندھ کر علامتی احتجاج کیا تھا۔شہر کے مجسٹریٹ نے سیکڑوں افراد کو نوٹس جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ’’مظاہرین نے عوام کو بھڑکایا اور قانون و نظم کو خطرے میں ڈالا۔ ‘‘ بھارتی سویلین ڈیفنس کوڈ کی دفعہ۱۳۰؍ کے تحت جاری نوٹس میں کہا گیاکہ ’’یہ چالان رپورٹ سول لائن پولیس اسٹیشن، مظفرنگر کے انچارج افسر سے موصول ہوئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ بالا مدعا علیہان نے وقف بورڈ بل کے خلاف احتجاج میں جمعہ اور عید کی نماز کے دوران سیاہ پٹیاں باندھی تھیں۔‘‘ نوٹس میں مزید کہا گیاکہ ’’یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مستقبل میں مدعا علیہان عوام کو بھڑکا سکتے ہیں اور غلط معلومات پھیلا سکتے ہیں، جس سے عوامی نظم و ضبط خراب ہو سکتا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: متھرا کی شاہی عیدگاہ میں نماز پر اعتراض، مسلم فریق سپریم کورٹ سے رجوع
انتظامیہ نے ان پر امن میں خلل ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے انہیں۱۶؍ اپریل۲۰۲۵ء کو عدالت میں حاضر ہونے اور دو لاکھ روپے کی ضمانت فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔مدرسہ محمودیہ کے پرنسپل نعیم تیاگی کو بھی نوٹس موصول ہوا ہے، حالانکہ انہوں نے سیاہ پٹی نہیں باندھی تھی۔ دوسری طرف، مظاہرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد کے اندر پرامن طریقے سے احتجاج کیا تھا، کسی کو اشتعال نہیں دلایا،اور نہ ہی کوئی قانون توڑا۔ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل پیش کیے جانے کے بعد دارالحکومت لکھنؤ، سنبھل، میرٹھ، مظفرنگر، مورادآباد، امروہہ، رامپور، فیض آباد، علی گڑھ، آگرہ، بریلی اور شاملی جیسے مسلم اکثریتی اضلاع میں الرٹ جاری کیا گیا ہے اور بڑی تعداد میں حفاظتی عملہ تعینات کیا گیا ۔
یہ بھی پڑھئے: ’غیر آئینی‘ وقف بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائیگا
تاہم پولیس انتظامیہ، جس میں سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ستیہ نارائن پرجاپت، ڈی آئی جی سہارنپور، ڈی آئی جی/ایس ایس پی مظفرنگر، اور اے ڈی ایم (ای) نریندر بہادر سنگھ شامل ہیں، نے جمعرات کو مسلم اکثریتی علاقوں میں قانون و نظم نسق برقرار رکھنے اور حفاظتی انتظامات کو مضبوط بنانےکیلئے فلیگ مارچ کیا۔