Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ انتظامیہ نے یو ایس ایڈ کے تمام عہدوں کو ختم کردیا، تمام مقامی اور امریکی ملازمین برطرف ہوں گے

Updated: April 02, 2025, 5:31 PM IST | Inquilab News Network | Washington

سابق یو ایس ایڈ سربراہ سمانتھا پاور نے اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے امریکہ کی قومی سلامتی اور عالمی حیثیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ ہم امریکی تاریخ کی بدترین اور مہنگی ترین خارجہ پالیسی کی غلطیوں میں سے ایک کے گواہ بن رہے ہیں۔

US President Donald Trump. Photo: INN
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ صویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے مشیر ایلون مسک کی قیادت میں امریکی ایجنسی برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ USAID) کے خاتمے کے عمل کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جس کے تحت ایجنسی کے ہزاروں مقامی ملازمین اور بیرون ملک تعینات امریکی سفارتکاروں اور سرکاری ملازمین کو برطرف کردیا جائے گا۔ یو ایس ایڈ کے ۲ سابق اعلیٰ اہلکاروں اور ذرائع کے مطابق، ایجنسی کے تقریباً تمام ملازمین کو رواں سال ستمبر تک برطرف کر دیا جائے گا، تمام بیرون ملک دفاتر بند کر دیئے جائیں گے اور کچھ افعال کو محکمہ خارجہ میں ضم کر دیا جائے گا۔ محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈاج) کی یہ تازہ ترین کارروائی عملاً یو ایس ایڈ کی باقی ماندہ افرادی قوت کو ختم کر دے گی۔ ایک سابق اعلیٰ اہلکار نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "یہ یقینی طور پر حتمی خاتمہ ہے۔"

یہ بھی پڑھئے: آج امریکہ ’تمام ممالک‘ کیلئے ٹیرف کا اعلان کریگا، عالمی معیشت تہہ و بالا

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرتے ہوئے ذرائع نے بتایا کہ یو ایس ایڈ کے انسانی وسائل کے دفتر نے علاقائی دفاتر کو ایک کانفرنس کال میں اطلاع دی کہ ۱۰ ہزار سے زائد مقامی ملازمین کو اگست میں برطرفی کے نوٹس بھیج دیئے جائیں گے۔ سابق اہلکاروں کا کہنا ہے کہ امریکی سفارتکاروں اور سرکاری ملازمین کو بھی برطرفی کے نوٹس بھیجے جائیں گے جو ۶۰ سال سے زائد عرصے سے امریکی غیر ملکی امداد کی معروف فراہم کنندہ ایجنسی کیلئے بیرون ملک تعینات تھے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکیوں کی اکثریت، ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں سے خوش نہیں ہے: سروے میں انکشاف

واضح رہے کہ رواں سال فروری میں ٹرمپ اور مسک نے یو ایس ایڈ کو بند کرنے اور اس کے کام کو محکمہ خارجہ میں ضم کرنے کا عمل شروع کیا تھا تاکہ یہ ٹرمپ کی "امریکہ فرسٹ" پالیسیوں کے مطابق ہو۔ ٹرمپ نے یو ایس ایڈ پر دھوکہ دہی کا الزام لگایا ہے اور اسے "بائیں بازو کے انتہاپسند جنونیوں" کے زیر انتظام ایجنسی قرار دیا تھا، جبکہ مسک نے غلط طور پر اسے "مجرم" تنظیم بتایا ہے۔ فروری میں ایجنسی کے ہزاروں یو ایس ایڈ ملازمین کو انتظامی چھٹی پر بھیج دیا گیا، سیکڑوں ٹھیکیداروں کو برطرف کر دیا گیا، اور ایجنسی کے ۵ ہزار سے زائد پروگراموں کو ختم کر دیا گیا س کے نتیجے میں عالمی انسانی امدادی کوششیں متاثر ہوئی ہیں جس پر لاکھوں افراد انحصار کرتے ہیں۔ کانگریس کے نان پارٹیزن ریسرچ سروس کے مطابق، یو ایس ایڈ کے ۶۰ سے زائد ممالک میں مشنز فعال ہیں، جن میں زیادہ تر فنڈز انسانی امداد اور صحت کے پروگراموں پر خرچ ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ وصول کنندگان میں جنگ زدہ یوکرین، جمہوری جمہوریہ کانگو، اردن اور اسرائیلی مقبوضہ مغربی کنارہ اور نسل کشی کا شکار غزہ شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: معدنی حقوق کے معاہدے پر سرد مہری پر ڈونالڈ ٹرمپ کی زیلنسکی کو دھمکی

سابق یو ایس ایڈ سربراہ سمانتھا پاور نے انسانی امداد فراہم کرنے والی اس ایجنسی کو ختم کرنے کیلئے انتظامیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے امریکہ کی قومی سلامتی اور عالمی حیثیت کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ انہوں نے فروری میں نیو یارک ٹائمز میں لکھا، "ہم امریکی تاریخ کی بدترین اور مہنگی ترین خارجہ پالیسی کی غلطیوں میں سے ایک کے گواہ بن رہے ہیں۔" پاور نے خبردار کیا کہ اگر اس عمل کو نہیں روکا گیا تو "آئندہ نسلیں حیران ہوں گی کہ امریکی حیثیت اور عالمی سلامتی کو چین کے اقدامات نے نہیں بلکہ ایک امریکی صدر اور ارب پتی شخص نے کمزور کیا جسے بغیر پہلے فائر کرنے اور بعد میں نشانہ لینے کی آزادی دی گئی۔"

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK