ضرورت سے زیادہ ریلز دیکھنے کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے، ماہرین امراض چشم ۲۰-۲۰-۲۰ اصول اپنانے، پلک جھپکنے کی شرح میں اضافہ کرنے، اسکرین ٹائم کم کرنے اور ڈیجیٹل ڈیٹوکس لینے کا مشورہ دیا۔
EPAPER
Updated: April 02, 2025, 7:40 PM IST | Inquilab News Network | New Delhi
ضرورت سے زیادہ ریلز دیکھنے کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے، ماہرین امراض چشم ۲۰-۲۰-۲۰ اصول اپنانے، پلک جھپکنے کی شرح میں اضافہ کرنے، اسکرین ٹائم کم کرنے اور ڈیجیٹل ڈیٹوکس لینے کا مشورہ دیا۔
شارٹ فارم ویڈیوز کے ذہنی صحت پر منفی اثرات کے انکشاف کے بعد، ڈاکٹروں اور محققین نے ایک نئے ابھرتے بحران، "ریلز سے آنکھوں کو پہنچنے والے نقصان" کے خلاف انتباہ جاری کیا ہے۔ بہت زیادہ اسکرین ٹائم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے انسٹاگرام، ٹک ٹاک، فیس بک اور یوٹیوب پر گھنٹوں ریلز دیکھنے کی عادت تمام عمر کے افراد میں آنکھوں کے مسائل میں اضافے کا باعث بن رہی ہے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں میں اس کے انتہائی منفی اثرات دیکھنے ملے ہیں۔ منگل کو یشو بھومی - انڈیا انٹرنیشنل اینڈ کنونشن ایکسپو سینٹر میں ایشیا پیسیفک اکیڈمی آف آفتھلمولوجی (اے پی اے او) اور آل انڈیا آفتھلمولوجیکل سوسائٹی (اے آئی او ایس) کے مشترکہ اجلاس میں ماہرین نے اس کے تئیں تشویش کا اظہار کیا۔
اے پی اے او کی ۲۰۲۵ کانگریس کے صدر ڈاکٹر للت ورما نے ڈیجیٹل اسکرین کے زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے آنکھوں کے مسائل کو `خاموش وبا` قرار دیتے ہوئے خبردار کیا: "ہمارے پاس خشک آنکھوں کے سنڈروم، مایوپیا (قریب کی نظر کی کمزوری)، آنکھوں کے تھکن اور حتیٰ کہ بچوں میں بھینگے پن کے بڑھتے ہوئے کیسز آ رہے ہیں۔" انہوں نے ایک واقعہ بتاتے ہوئے کہا، "ایک طالب علم مسلسل آنکھوں میں جلن اور دھندلاہٹ کی شکایت لے کر آیا۔ معائنہ کے بعد پتہ چلا کہ ریلس دیکھنے اور اسکرین کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے اس کی آنکھیں مناسب مقدار میں آنسو نہیں بنا رہی تھیں۔ ہم نے اسے فوراً آنکھوں کی دوائی اور ڈراپس دیئے اور ۲۰-۲۰-۲۰ اصول (ہر ۲۰ منٹ بعد ۲۰ سیکنڈ کیلئے ۲۰ فٹ کی دوری پر دیکھنا) پر عمل کرنے کیلئے کہا۔"
یہ بھی پڑھئے: اگلے ۳؍ برسوں میں ۵؍جی صارفین کی تعداد ۷۷؍کروڑ ہوجائے گی
آل انڈیا آفتھلمولوجیکل سوسائٹی کے صدر ڈاکٹر ہربھانش لال نے مسئلے کی سنگینی کو واضح کرتے ہوئے کہا کہ مختصر دورانیہ کی ریلس کی وجہ سے آنکھوں کی پلکیں کم جھپکتی ہیں، جس سے خشک آنکھوں کا سنڈروم اور دیر تک نظریں مرکوز کرنے میں دشواری پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ عادت طویل مدتی بینائی کے مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔ ڈاکٹر لال نے مزید کہا کہ جو بچے روزانہ گھنٹوں ریلس دیکھتے ہیں، ان میں آنکھوں کے جھپکنے کی شرح ۵۰ فیصد کم ہو جاتی ہے، قریب اور دور کی چیزوں پر توجہ مرکوز کرنے میں دشواری آتی ہے اور جلدی مایوپیا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس عادت کی وجہ سے بالغ افراد میں نیلی روشنی کی وجہ سے سر درد، مائیگرین اور نیند کے مسائل بھی بڑھ رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ۲۰۵۰ء تک دنیا کی ۵۰ فیصد سے زائد آبادی میوپیا کا شکار ہوگی، جو بینائی کے مستقل نقصان کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ ڈاکٹر لال نے کہا کہ اب بڑھتے ہوئے اسکرین ٹائم کے ساتھ، ہم ۳۰ سال کی عمر تک لینس کی تعداد میں اتار چڑھاؤ دیکھ رہے ہیں، جو چند دہائیوں پہلے 21 سال کی تھی۔
مختلف تحقیقی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد، خاص طور پر طلبہ اور پیشہ ور افراد، تیز رفتار، بصری طور پر محرک مواد کو زیادہ دورانیہ تک دیکھنے کی وجہ سے آنکھوں کے تناؤ، پُتلیوں کے جھومنے اور نظر کی خرابی سے دوچار ہیں۔ ڈاکٹرز نے سوشل میڈیا کے دیگر منفی اثرات جیسے سماجی تنہائی، ذہنی تھکاوٹ اور مسلسل ریلز دیکھنے سے وابستہ علمی اوورلوڈ کے پریشان کن رجحان کو بھی نوٹ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: بل گیٹس نے۱۰؍ سال میں۲؍ دن کام کے ہفتے کی پیش گوئی کی،جانئے چیٹ جی پی ٹی کا خیال
اے آئی او ایس کے صدر اور سینئر ماہر امراض چشم ڈاکٹر ثمر باساک نے ضرورت سے زیادہ اسکرین ٹائم کے سماجی اور نفسیاتی نقصانات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایک متعلقہ نمونہ دیکھ رہے ہیں جہاں لوگ ریلز میں اس قدر ڈوب ہو جاتے ہیں کہ وہ حقیقی دنیا کی بات چیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں، جس سے خاندانی تعلقات کشیدہ ہوتے ہیں اور تعلیم اور کام پر توجہ کم ہوتی ہے۔"
سینئر ماہر امراض چشم اور اے آئی او ایس کے اگلے صدر، ڈاکٹر پارتھ بسواس نے کہا، "مصنوعی روشنی، تیز بصری تبدیلیوں، اور طویل عرصے تک قریب کی توجہ کی سرگرمی کا امتزاج آنکھوں کو زیادہ متحرک کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ایک ایسا رجحان پیدا ہوتا ہے جسے ہم `ریل ویژن سنڈروم` کہتے ہیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہم اسے سنجیدگی سے لیں، اس سے قبل کہ یہ صحت عامہ کے مکمل بحران میں بدل جائے۔"
یہ بھی پڑھئے: محکمۂ انکم ٹیکس سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر باریک نظر رکھے گا
ضرورت سے زیادہ ریلز دیکھنے کے منفی اثرات سے نمٹنے کیلئے، ماہرین امراض چشم ۲۰-۲۰-۲۰ اصول پر عمل کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پلک جھپکنے کی شرح میں اضافہ، اسکرین دیکھتے ہوئے زیادہ کثرت سے پلکیں جھپکنے کی شعوری کوشش اور ڈیجیٹل ڈیٹوکس لینا، اسکرین ٹائم کم کرنے اور طویل مدتی نقصان کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
کئی گھنٹوں تک لگاتار ریلز دیکھنے کی وجہ سے آنکھوں کے امراض میں اضافہ کے بعد، ماہرین صحت نے والدین، ماہرین تعلیم اور سوشل میڈیا صارفین سے فوری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔ ڈاکٹر لال نے خبردار کیا کہ "ریلز چند سیکنڈز کی ہوتی ہیں، لیکن آنکھوں کی صحت پر ان کا اثر زندگی بھر رہ سکتا ہے۔"