فلسطینی شہری دفاع کے اہلکار نے فلسطینی طبی اہلکاروں کے قتل پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ہلاکتوں پر بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے گروپوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 10:09 PM IST | Gaza
فلسطینی شہری دفاع کے اہلکار نے فلسطینی طبی اہلکاروں کے قتل پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ہلاکتوں پر بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے گروپوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔
فلسطینی شہری دفاع ایجنسی نے رفح میں اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے گئے فلسطینی ڈاکٹروں کی دریافت شدہ لاشوں کے متعلق بتایا کہ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے اور سروں پر گولیوں کے نشانات تھے۔ ترجمان محمود بصل نے غزہ شہر میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈاکٹروں نے امدادی کارکنوں کی مخصوص زرد وردیاں پہن رکھی تھی۔ ان کی لاشوں کو تباہ شدہ شہری دفاع اور ہلال احمر سوسائٹی کی تباہ شدہ گاڑیوں سے ۲۰۰ میٹر دور دفنایا گیا تھا۔" بصل نے مزید کہا کہ "کچھ ڈاکٹروں کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے اور ان کے سروں اور سینوں پر گولیوں کے واضح نشانات تھے، جن سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ انہیں قریب سے انتہائی بے دردی سے ہلاک کیا گیا"۔ ترجمان نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ایک لاش کا سر تن سے جدا پایا گیا۔
ہلال احمر سوسائٹی نے اتوار کو بتایا تھا کہ انہوں نے اسرائیلی بمباری کے بعد رفح سے ۸ ڈاکٹروں، ۵ شہری دفاع کے کارکنوں اور ایک اقوام متحدہ کے ملازم کی لاشیں برآمد کی ہیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ یہ گاڑیاں "مشتبہ انداز" میں "بغیر ہیڈ لائٹس یا ایمرجنسی سگنلز کے" ان کی فورسیز کی طرف بڑھ رہی تھیں اور ان کی حرکت سے انہیں مطلع نہیں کیا گیا تھا۔ فوج کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ۲۳ مارچ کے واقعے میں حماس اور اسلامی جہاد کے ۹ ارکان ہلاک ہوئے تھے۔ تاہم، اقوام متحدہ کی ٹیموں کی جانب سے بعد میں حاصل کی گئی گاڑیوں کی تصاویر سے واضح ہوتا ہے کہ یہ ایمبولینس، فائر ٹرک اور اقوام متحدہ کے نشانات والی گاڑیاں تھیں۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کا غزہ کے بڑے حصے پر قبضے کا اعلان، زمینی حملوں میں شدت
عالمی سطح پر مذمت
شہری دفاع کے اہلکار نے فلسطینی ڈاکٹروں کے قتل پر بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان ہلاکتوں پر بین الاقوامی حقوق کی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے گروپوں نے سخت مذمت کرتے ہوئے اس کی وضاحت طلب کی ہے۔ جرمنی نے بدھ کو غزہ میں فلسطینی طبی اہلکاروں کے قتل کی "جامع تحقیقات" کا مطالبہ کیا۔ وزارت خارجہ کی ترجمان کیتھرین ڈیشور نے برلن میں صحافیوں سے کہا کہ "یہ واقعات انتہائی پریشان کن ہیں"۔ اسپین نے بھی ۱۵ امدادی کارکنوں کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے اس کی مکمل تحقیقات، انصاف اور متاثرین کے خاندانوں کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ:اسرائیل نے جبالیہ میں یو این آر ڈبلیو اے شفاخانےپر بمباری کی،۱۹؍ افراد شہید
اقوام متحدہ نے منگل کو اسرائیل کی جانب سے جنوبی غزہ میں بچاؤ کے مشن پر موجود فلسطینی طبی اہلکاروں اور فرسٹ رسپانڈرز کے قتل کو "ناقابل قبول" قرار دیا۔ ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے بتایا کہ "۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے اب تک غزہ میں انروا کے ہمارے ۲۸۳ ساتھی ہلاک ہو چکے ہیں"۔ انہوں نے کہا کہ "کسی بھی امدادی کارکن یا ایمبولینس ڈرائیور کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے"۔
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریسس نے بھی فلسطینی طبی اہلکاروں کے قتل پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ "غزہ میں ہلال احمر کے ۸ ایمبولینس کارکنوں کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے۔ ہم اپنے ان ساتھیوں کی موت پر سوگ مناتے ہیں اور صحت اور امدادی کارکنوں پر حملوں کے فوری خاتمہ کی اپیل کرتے ہیں۔" بین الاقوامی ریڈ کراس اور ریڈ کریسنٹ فیڈریشن نے بھی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ "یہ سلسلہ کب رکے گا؟"۔ دنیا کے سب سے بڑے انسانی ادارے نے اپنے بیان میں کہا کہ "ہلال احمر کے ۸ طبی اہلکاروں کی ہلاکت پر ہمیں سخت غصہ ہے۔"