Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹرمپ نے ایک غیر آباد جزیرے پر بھی ٹیرف عائد کیا جہاں صرف پینگوئن رہتے ہیں، انٹرنیٹ پر میمز کا سیلاب

Updated: April 04, 2025, 10:08 PM IST | Inquilab News Network | Washington

برطانیہ کے دور دراز علاقے، فاک لینڈ آئی لینڈز، جہاں ۱۰ لاکھ پینگوئن رہتے ہیں اور جو ۱۹۸۲ء کی جنگ کیلئے مشہور ہے، کو حیرت انگیز طور پر ۴۱ فیصد برآمداتی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ برطانیہ پر صرف ۱۰ فیصد بنیادی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر طنزیہ اور مزاحیہ پیغامات کا سیلاب آگیا ہے۔ انٹرنیٹ پر میمز وائرل ہو رہے ہیں جس کی وجہ ٹرمپ کا ایک غیر آباد جزیرے، ہرڈ اینڈ میکڈونلڈ آئی لینڈز پر ۱۰ فیصد ٹیرف لگانا ہے۔ آسٹریلیا کے اس دور دراز علاقہ میں صرف پینگوئن کی ابادی پائی جاتی ہے، یہاں کسی انسان کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔

جمعرات کو سوشل میڈیا پر ایک تصویر بہت زیادہ شیئر کی گئی جس میں اوول آفس میں یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کی جگہ ایک پینگوئن کو دکھایا گیا ہے۔ اس تصویر میں امریکی صدر اور نائب صدر جے ڈی وینس بھی ہیں۔ واضح رہے کہ اصل تصویر گزشتہ ماہ کھنچی گئی تھی جب زیلنسکی کی ٹرمپ اور وینس کے ساتھ لفظی جھڑپ ہوگئی تھی۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی جارہی ایک اور تصویر میں خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ کو ایک ایمیپرر پینگوئن کو گھورتے ہوئے دکھایا گیا جو کنیڈا کے سابق وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی جگہ لے رہا تھا جبکہ ٹرمپ اسے حیرت سے دیکھ رہے تھے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’ٹرمپ ٹیریف‘ کے نرغے میں کئی ممالک ، ہندوستان پر ۲۶؍ فیصد ٹیریف عائد

عجیب و غریب فیصلے پر حیرت

ٹرمپ کے بدھ کو عالمی ٹیرف کے اعلان میں دنیا کے کچھ انتہائی دور دراز علاقوں کو نشانہ بنائے جانے پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ صارفین حیران ہیں کہ ٹرمپ نے ہرڈ اینڈ میکڈونلڈ آئی لینڈز کی تمام برآمدات پر ۱۰ فیصد ٹیرف کیوں عائد کردیا جو سب انٹارکٹک خطہ کے قریب واقع ایک بنجر آسٹریلوی علاقہ ہے جہاں کوئی انسانی آبادی پائی نہیں جاتی، البتہ پینگوئنز کی چار مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر انتھونی اسکاراموچی نے ٹرمپ کے اس فیصلہ پر طنز کرتے ہوئے لکھا، "پینگوئنز برسوں سے ہمیں لوٹ رہے ہیں۔" واضح رہے کہ اسکاراموچی ٹرمپ کے پہلے دور صدارت میں ۱۱ دن تک محکمہ مواصلات کے سربراہ رہ چکے ہیں اور ٹرمپ کے ناقد بن کر ابھرے ہیں۔

امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے پوسٹ کیا، "ڈونالڈ ٹرمپ نے پینگوئن پر ٹیرف لگا دیا لیکن پوتن پر نہیں۔" شومر کا اشارہ، امریکی ٹیرف کی فہرست کی طرف تھا جس میں روس شامل نہیں ہے۔ روس پر ٹیرف عائد نہ کئے جانے کے فیصلے پر وائٹ ہاؤس نے صفائی پیش کرتے ہوئے کہا کہ صدر ولادیمیر پوتن کی یوکرین پر جنگ کی وجہ سے روس پر پابندیاں عائد ہیں اس لئے وہاں سے "معنی خیز" تجارت نہیں ہوتی جس پر ٹیرف لگایا جا سکے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: فلسطین حامی مظاہروں پرٹرمپ کے شکنجہ کے خلاف ۲۰۰؍ سے زائد تنظیمیں زبردست ریلی نکالیں گی

دیگر غیر معروف علاقوں پر بھی ٹیرف

ٹرمپ نے نورفک آئی لینڈ پر بھی ۲۹ فیصد ٹیرف لگا کر سبھی کو حیرت میں ڈال دیا۔ آسٹریلیا کا یہ چھوٹا سا علاقہ، بحرالکاہل میں واقع ہے جہاں کی انسانی آبادی محض ۲ ہزار کے آس پاس ہے۔ آسٹریلوی وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا، "مجھے یقین نہیں آتا کہ نورفک آئی لینڈ، اپنی حیثیت کے لحاظ سے، امریکہ کی عظیم معیشت کا تجارتی حریف ہے۔" اس کے علاوہ، برطانیہ کے دور دراز علاقے، فاک لینڈ آئی لینڈز، جہاں ۱۰ لاکھ پینگوئن رہتے ہیں اور جو ۱۹۸۲ء کی جنگ کیلئے مشہور ہے جب برطانیہ نے ارجنٹائنی حملہ آوروں کو پسپا کیا تھا، کو حیرت انگیز طور پر ۴۱ فیصد برآمداتی ٹیرف کا سامنا کرنا پڑا، حالانکہ برطانیہ پر صرف ۱۰ فیصد بنیادی ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ نے ٹیرف کی فہرست جاری کی، ہندوستان پر ۲۶؍ فیصد ٹیرف، جوابی کارروائی نہ کرنے کی دھمکی دی

"ٹرمپ ٹیرف" کے معاشی اثرات

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے "لبریشن ڈے" کے تحت نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے تمام درآمدات پر ۱۰ فیصد کا بنیادی ٹیرف عائد کیا۔ اس کے علاوہ، مختلف ممالک پر اضافی مخصوص ٹیرف بھی نافذ کئے۔ ہندوستان پر ۲۶ فیصد، چین پر ۳۴ فیصد، یورپی یونین پر ۲۰ فیصد، جاپان پر ۲۴ فیصد، اور ویتنام پر ۴۶ فیصد ٹیرف عائد کئے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔ تاہم، ٹرمپ کے ٹیرف عالمی منڈیوں کیلئے کوئی مذاق نہیں ہیں، کیونکہ ٹرمپ کے اعلان کے بعد امریکی اسٹاکس کو ۲۰۲۰ء میں کووڈ-۱۹ وبائی مرض کے بعد سب سے بدترین دن کا سامنا کرنا پڑا۔ ماہرین نے خبردار کیا کہ ٹیرف کے باعث عالمی معاشی ترقی کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور عالمی سطح پر تجارتی جنگ، قیمتوں میں اضافہ اور کساد بازاری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK