تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان ٹیرف سے عالمی تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
EPAPER
Updated: April 03, 2025, 8:02 PM IST | Washington
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان ٹیرف سے عالمی تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مختلف ممالک کیلئے باہمی ٹیرف کا اعلان کردیا ہے۔ ان کے اس اقدام کی عالمی سطح پر سخت مذمت کی جارہی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کے اس اقدام سے مہنگائی اور عالمی سطح پر تجارتی جنگ کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ جبکہ ٹرمپ انتظامیہ نے ممالک کو دھمکی دی ہے کہ وہ جوابی کارروائی نہ کریں ورنہ ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
امریکہ کی جانب سے نئے ٹیرف کا اعلان کئے جانے کے بعد کنیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی نے بدھ کو کہا کہ ان کا ملک ٹرمپ کے ٹیرف کا مقابلہ کرنے کیلئے جوابی اقدامات کرے گا۔ انہوں نے کنیڈا کے ردعمل پر بات کرنے کیلئے کابینہ کے اجلاس سے قبل صحافیوں کو بتایا کہ امریکی ٹیرف کا مقابلہ کرنے کیلئے مقصد اور طاقت کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے اور ہم یہی کریں گے۔" میکسیکو کی صدر کلاڈیا شین بام نے بیان دیا کہ وہ جوابی کارروائی کرنے سے قبل جمعرات تک انتظار کریں گی جب تک یہ واضح ہو جائے گا کہ ٹرمپ کے اعلان کا میکسیکو پر کیا اثر پڑے گا۔ انہوں نے بدھ کی صبح ایک نیوز بریفنگ میں کہا، "ایسا نہیں ہے کہ اگر آپ ہم پر پر محصولات عائد کرتے ہیں تو ہم آپ پر محصولات عائد کریں گے بلکہ ہماری دلچسپی میکسیکو کی معیشت کو مضبوط بنانے میں ہے۔"
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں `فاشسٹ حکمرانی ایک معمول: اسکالر ہیلیہ دوتاغی
امریکہ کے تجارتی حریف چین، جس پر ۳۴ فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے، نے ٹیرف کے اعلان پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ بیجنگ میں چینی وزارت تجارت نے ایک بیان میں کہا کہ چین اپنی برآمدات پر نئے امریکی محصولات کی سختی سے مخالفت کرتا ہے اور "اپنے حقوق اور مفادات کے تحفظ کیلئے انسدادی اقدامات" کرنے کیلئے پر عزم ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ امریکی محصولات "بین الاقوامی تجارتی قوانین کی تعمیل نہیں کرتے اور متعلقہ فریقوں کے جائز حقوق اور مفادات کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔" چین نے انتباہ جاری کیا کہ امریکی ٹیرف عالمی اقتصادی ترقی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں جس سے امریکی مفادات اور بین الاقوامی سپلائی چینز کو نقصان پہنچے گا۔ اس نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ٹیرف کو "فوری طور پر منسوخ" کرے۔
امریکی ٹیرف کے جواب میں برازیل کی کانگریس نے ایک قانون منظور کیا ہے جس کے تحت حکومت کو تجارتی رکاوٹوں کا جواب دینے کی اجازت دی گئی ہے۔ برازیلی حکومت نے کہا کہ یہ دعویٰ غلط ہے کہ امریکی محصولات باہمی تعاون کیلئے ہیں۔ اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے متعارف کرائے گئے محصولات "غلط" ہیں اور اس سے امریکہ کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے فیس بک پر ایک بیان میں کہا، ہم امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے کی سمت کام کرنے کیلئے ہر ممکن کوشش کریں گے جس کا مقصد تجارتی جنگ سے بچنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہر صورت میں، ہمیشہ کی طرح، ہم اٹلی اور اس کی معیشت کے مفاد میں کام کریں گے اور دوسرے یورپی شراکت داروں کے ساتھ بھی شامل ہوں گے۔
`غیر منصفانہ، غیر قانونی، غیر ضروری`
یوروپی پارلیمنٹ کی بین الاقوامی تجارتی کمیٹی کے سربراہ نے یونین کی برآمدات پر ۲۰ فیصد ٹیرف عائد کرنے کے اعلان پر سخت تنقید کی۔ برنڈ لینج نے ایک بیان میں کہا، "اگرچہ صدر ٹرمپ ایک عام شہری کے نقطہ نظر سے آج کے دن کو `آزادی کا دن` کہہ سکتے ہیں، لیکن یہ `افراطی دن` ہے۔" انہوں نے امریکی ٹیرف کو "غیر منصفانہ، غیر قانونی اور غیر متناسب اقدامات" قرار دیا۔
جاپان کے وزیر تجارت و صنعت یوجی موٹو نے کہا کہ انہوں نے اپنے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ جاپانی درآمدات پر ۲۴ فیصد ٹیرف سمیت نئے محصولات میں اضافہ "انتہائی افسوسناک" ہے۔ موٹو نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ انہیں جاپان پر لاگو نہ کرے۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز نے کہا کہ ان کے ملک پر امریکی محصولات مکمل طور پر غیرضروری ہیں لیکن آسٹریلیا جوابی کارروائی نہیں کرے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے باہمی محصولات کا حوالہ دیا۔ ایک باہمی ٹیرف صفر ہوتا ہے، ۱۰ فیصد نہیں۔
ہندوستان میں ایک کاروباری فورم سے خطاب کرتے ہوئے، چلی کے صدر گیبریل بورک نے خبردار کیا کہ اس طرح کے اقدامات، غیر یقینی صورتحال پیدا کرتے ہیں اور "باہمی طور پر متفقہ اصولوں" اور "بین الاقوامی تجارت کو کنٹرول کرنے والے اصولوں" کو چیلنج کرتے ہیں۔
پر سکون اقدامات
امریکی ٹیرف کے اعلان کے بعد متعدد ممالک نے ان اقدامات کی مذمت کی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیا ہے۔ برطانیہ کے ایک وزیر نے کہا کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ اقتصادی معاہدے پر مہر لگانے کیلئے پرعزم ہے جس سے برآمدات پر عائد ۱۰ فیصد امریکی ٹیرف کو "کم کرنے" میں مدد مل سکتی ہے۔ جنوبی کوریا کے قائم مقام صدر ہان ڈک سو نے وزارت صنعت کو ہدایت کی کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ فعال طور پر مذاکرات کریں تاکہ امریکی محصولات کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔
نیوزی لینڈ نے بھی ٹرمپ کے ٹیرف کی منطق کا مسئلہ اٹھایا۔ وزیر تجارت ٹوڈ میک کلے نے انتظامیہ کے چارٹ پر نیوزی لینڈ کی طرف سے لگائے گئے ٹیرف کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا اور کہا کہ انہوں نے اپنے ملک کے حکام سے اس کی وضاحت کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم بدلہ لینے کی کوشش نہیں کریں گے۔ اس سے نیوزی لینڈ کے صارفین کیلئے قیمتیں بڑھ جائیں گی۔"
یہ بھی پڑھئے: ہارورڈ یونیورسٹی پر۹؍ ارب ڈالر کے وفاقی فنڈ منسوخ ہونے کا خطرہ
ٹرمپ کے ٹیرف
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے "لبریشن ڈے" کے تحت نئی تجارتی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے تمام درآمدات پر ۱۰ فیصد کا بنیادی ٹیرف عائد کیا۔ اس کے علاوہ، مختلف ممالک پر اضافی مخصوص ٹیرف بھی نافذ کئے۔ ہندوستان پر ۲۶ فیصد، چین پر ۳۴ فیصد، یورپی یونین پر ۲۰ فیصد، جاپان پر ۲۴ فیصد، اور ویتنام پر ۴۶ فیصد ٹیرف عائد کئے گئے ہیں۔ ٹرمپ کے مطابق، ان اقدامات کا مقصد امریکی معیشت کو تحفظ فراہم کرنا اور تجارتی خسارے کو کم کرنا ہے۔
ٹرمپ کے اس فیصلے کا ہندوستانی روپے کی قدر پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔ امریکی اعلان کے بعد نان-ڈیلیوریبل فارورڈ مارکیٹ میں روپے کی قدر میں کمی دیکھی گئی، جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آن شور مارکیٹس کھلنے پر روپے کی قدر مزید کم ہو سکتی ہے۔ ہندوستانی حکومت نے اس معاملے پر غور کرنے کا اشارہ دیا ہے اور وہ ممکنہ طور پر امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف عائد کرنے پر غور کر سکتی ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی تجارتی جنگ سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگر کوئی ملک جوابی کارروائی کے طور پر امریکی مصنوعات پر ٹیرف عائد کرتا ہے تو امریکہ اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کرے گا۔ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ممالک کو جوابی کارروائی نہیں کرنی چاہئے۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ان ٹیرف سے عالمی تجارتی جنگ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔