ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ، براؤن یونیورسٹی کو دی جانے والی نصف ارب ڈالر سے زائد کی امداد اور معاہدوں کو روکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
EPAPER
Updated: April 04, 2025, 7:02 PM IST | Inquilab News Network | Washington
ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ، براؤن یونیورسٹی کو دی جانے والی نصف ارب ڈالر سے زائد کی امداد اور معاہدوں کو روکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
امریکی حکومت نے براؤن یونیورسٹی کی ۵۱۰ ملین ڈالر کی وفاقی امداد منجمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ ہارورڈ یونیورسٹی کی وفاقی فنڈنگ جاری رکھنے کیلئے سخت شرائط کا اعلان کیا ہے۔ یہ اقدامات امریکی کالج کیمپسز میں مبینہ یہود دشمنی سے نمٹنے کیلئے ٹرمپ انتظامیہ کی تازہ ترین کوششوں کی تازہ کڑی کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ انسانی حقوق کے وکلاء اور تعلیمی ماہرین نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ان اقدامات پر شدید تنقید کی اور انہیں آزادیِ رائے اور تعلیمی آزادی پر بے مثال حملہ قرار دیا۔
براؤن یونیورسٹی کی فنڈنگ منجمد
ایک وائٹ ہاؤس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ٹرمپ انتظامیہ، براؤن یونیورسٹی کو دی جانے والی نصف ارب ڈالر سے زائد کی امداد اور معاہدوں کو روکنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ آئیوی لیگ اداروں کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں تازہ قدم ہے جو پرنسٹن یونیورسٹی کے خلاف اس ہفتے کئی درجن تحقیقی امداد معطل کئے جانے اور گزشتہ ماہ کولمبیا یونیورسٹی کی ۴۰۰ ملین ڈالر کی وفاقی فنڈنگ منسوخ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ جمعرات کو کیمپس لیڈران کو بھیجے گئے ایک ای میل میں، براؤن کے پرووسٹ فرینک ڈوئل نے حکومتی اقدامات کے بارے میں "پریشان کن افواہوں" کا ذکر کیا اور نوٹ کیا کہ یونیورسٹی کو ابھی تک سرکاری طور پر مطلع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا، "ہم امداد سے متعلق اطلاعات پر گہری نظر رکھ رہے ہیں، لیکن ابھی مزید کچھ بتا نہیں کر سکتے۔"
ہارورڈ یونیورسٹی کو سخت انتباہ
دریں اثنا، ہارورڈ یونیورسٹی کے ۹ ارب ڈالر کے معاہدوں سمیت وفاقی امداد برقرار رکھنے کیلئے امریکی انتظامیہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے سامنے کئی شرائط رکھی ہیں۔ جمعرات کو جاری کردہ ایک خط میں، امریکی محکمہ تعلیم، محکمہ صحت اور جنرل سروسیز ایڈمنسٹریشن کے حکام نے مطالبہ کیا کہ ہارورڈ انتظامیہ، کیمپس میں ماسک کے استعمال پر پابندی لگائے، تنوع، مساوات، اور شمولیت (ڈی آئی ای) پروگرامز ختم کرے اور حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کرے۔ خط میں مزید کہا گیا کہ ہارورڈ کو ان پروگراموں اور شعبوں کا جائزہ لینا اور ان میں تبدیلیاں کرنی ہوں گی جو "یہود دشمنی کو ہوا دیتے ہیں" اور طلبہ کو اس پالیسی کی خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔ ہارورڈ نے خط موصول ہونے کی تصدیق کی لیکن اس کے جواب پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں `فاشسٹ حکمرانی ایک معمول: اسکالر ہیلیہ دوتاغی
یونیورسٹی نے حال ہی میں ہارورڈ انڈرگریجویٹ فلسطین یکجہتی کمیٹی کو پروبیشن پر رکھا اور جولائی تک اسے عوامی تقریبات منعقد کرنے سے روک دیا جس کی وجہ احتجاج کی پالیسیوں کی خلاف ورزیوں کو قرار دیا گیا۔ مزید برآں، گزشتہ ہفتے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ ہارورڈ کے سینٹر فار مڈل ایسٹرن اسٹڈیز کے دو لیڈران، ڈائریکٹر جمال کفادار اور ایسوسی ایٹ ڈائریکٹر روزی بشیر اپنے عہدوں سے دستبردار ہو جائیں گے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا کریک ڈاؤن
واضح رہے کہ امریکی انتظامیہ کا یونیورسٹیوں اور فلسطین حامی سرگرمیوں اور طلبہ پر کریک ڈاؤن، غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائیوں سے منسلک کیمپس احتجاج کو دبانے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں۔ ٹرمپ نے بارہا فلسطین نواز مظاہرین کو یہود دشمن اور حماس کے ہمدرد قرار دیا ہے اور انہیں امریکی خارجہ پالیسی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے۔ احتجاج کرنے والوں، جن میں کچھ یہودی طلبہ گروپس بھی شامل ہیں، کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اقدامات پر تنقید اور فلسطینی حقوق کی وکالت کو غلط طور پر یہود دشمنی اور حماس کی حمایت سے جوڑا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبیا یونیورسٹی: محمود خلیل کی رہائی کیلئے یہودی طلبہ کا انوکھا احتجاج
ٹرمپ انتظامیہ کا جارحانہ موقف فنڈنگ کٹوتیوں سے آگے بڑھ گیا ہے۔ امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (آئی سی ای) ایجنٹس نے حالیہ ہفتوں میں کئی غیر ملکی طلبہ مظاہرین کو حراست میں لیا اور ان کو ملک بدر کرنے کی کوشش کی، جس سے کیمپسز پر کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ ماہ، امریکی محکمہ تعلیم نے براؤن یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی سمیت ۶۰ یونیورسٹیوں کو خبردار کیا تھا کہ یہود دشمنی کے الزامات پر ان کے خلاف اقدامات کئے جا سکتے ہیں۔ کولمبیا یونیورسٹی، جو اس کریک ڈاؤن کا ابتدائی مرکز تھی، نے اپنی ۴۰۰ ملین ڈالر کی فنڈنگ کی بحالی کیلئے گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ کے کئی مطالبات مان لئے جن میں طلبہ کے نظم و ضبط کے قواعد کی تبدیلی اور مشرق وسطیٰ کے مطالعاتی شعبے کا جائزہ شامل ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اقدامات تعلیمی آزادی کو کمزور کرتے ہیں اور اختلاف رائے کی آوازوں کو خاموش کرتے ہیں۔