حال ہی میں زمانہ جنگ کے ایک غیر واضح قانون کے تحت ملک بدری کی پروازوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کرنے والے ڈسٹرکٹ جج جیمز بواسبرگ پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے تنقید کی اور انہیں "ڈیموکریٹ کارکن" قرار دیا۔
EPAPER
Updated: March 20, 2025, 10:00 PM IST | Inquilab News Network | Washington
حال ہی میں زمانہ جنگ کے ایک غیر واضح قانون کے تحت ملک بدری کی پروازوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کرنے والے ڈسٹرکٹ جج جیمز بواسبرگ پر وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے تنقید کی اور انہیں "ڈیموکریٹ کارکن" قرار دیا۔
وائٹ ہاؤس نے ڈونالڈ ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف متعدد فیصلوں کے بعد ججوں پر ایگزیکٹیو طاقت کو "کمزور کرنے" کا الزام لگایا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے بدھ کو الزام لگایا کہ انتہائی بائیں بازو کی جانب سے ٹھوس کوشش کی گئی تھی کہ ایسے ججوں کو منتخب کیا جائے جو ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف "واضح طور پر تعصب کا مظاہرہ کر رہے ہیں" اور ریپبلکن انتظامیہ کے معاملات کو متاثر کر رہے ہیں۔ لیویٹ نے ایک بریفننگ میں کہا کہ وہ نہ صرف ہمارے ملک کے صدر اور چیف ایگزیکٹیو کی مرضی کو غصب کر رہے ہیں بلکہ امریکی عوام کی مرضی کو بھی کمزور کر رہے ہیں۔ لیویٹ نے خاص طور پر ڈسٹرکٹ جج جیمز بواسبرگ پر تنقید کی اور انہیں "ڈیموکریٹ کارکن" قرار دیا۔ حال ہی میں بواسبرگ نے زمانہ جنگ کے ایک غیر واضح قانون کے تحت ملک بدری کی پروازوں کو معطل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر دستاویزی تارکین وطن کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے پروگرام کے ایک حصے کے طور پر وینزویلا کے گینگ کے ارکان کو ملک بدر کرنے کیلئے ایلین اینیمیز ایکٹ ۱۷۹۸ء کا حوالہ دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ہندوستانی ماہر تعلیم بدر خان گرفتار، ’’حماس پروپیگنڈہ‘‘ پھیلانے کا الزام
صدر ٹرمپ نے منگل کو ذاتی طور پر جج بواسبرگ کے مواخذے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک پریشانی پیدا کرنے والے شخص ہیں جنہیں سابق صدر براک حسین اوبامہ نے مقرر کیا تھا۔ ٹرمپ نے بدھ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم `ٹروتھ سوشل` پر بواسبرگ کی ایک دفعہ پھر تنقید کی، حالانکہ انہوں نے مواخذے کے اپنے مطالبہ کو نہیں دہرایا۔ ٹرمپ نے لکھا، "اگر ایک صدر کو قاتلوں اور دیگر مجرموں کو ہمارے ملک سے باہر پھینکنے کا حق نہیں ہے کیونکہ ایک بنیاد پرست بائیں بازو کا پاگل جج صدر کا کردار سنبھالنا چاہتا ہے، تو ہمارا ملک بہت بڑی مصیبت میں ہے، اور ناکامی اس کا مقدر ہے!"
ییل سے تعلیم یافتہ ۶۲ سالہ جج بواسبرگ کو سب سے پہلے ریپبلکن صدر جارج ڈبلیو بش نے بنچ میں مقرر کیا تھا۔ بعد ازیں، ڈیموکریٹ صدر اوبامہ نے انہیں ڈسٹرکٹ کورٹ کا جج نامزد کیا۔ واضح رہے کہ وفاقی ججوں کو صدر کی طرف سے تاحیات نامزد کیا جاتا ہے اور انہیں صرف ایوان نمائندگان "اعلیٰ جرائم یا بدعنوانیوں" کی بنیاد پر مواخذہ اور سینیٹ کی طرف سے مجرم قرار دے کر ہٹایا جا سکتا ہے۔ تاہم، وفاقی ججوں کا مواخذہ انتہائی نایاب ہے اور آخری بار کسی جج کو کانگریس نے ۲۰۱۰ء میں ہٹایا تھا۔
مسک نے اسے "عدالتی بغاوت" قرار دیا
وفاقی ججوں کے فیصلوں پر صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے حامیوں کی جانب سے شدید تنقید جاری ہے۔ امریکی ارب پتی اور ٹرمپ انتظامیہ میں محکمہ برائے حکومتی کارکردگی (ڈاج) کے سربراہ ایلون مسک نے اپنے سوشل نیٹ ورک ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پوسٹ کرکے ججوں کے ٹرمپ مخالف فیصلوں کے خلاف احتجاج درج کرایا اور اسے "عدالتی بغاوت" قرار دیا۔ انہوں نے لکھا، "ہمیں ججوں کے مواخذے اور لوگوں کی حکمرانی بحال کرنے کیلئے ۶۰ سینیٹرز کی ضرورت ہے۔" تاہم، انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سینیٹرز کی اصل تعداد ۶۷ ہے، جو مواخذے کیلئے درکار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گروک نے ایلون مسک کو غلط معلومات پھیلانے والی سب سے بڑی شخصیت قرار دیا
وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے بھی عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ضلعی عدالت کے ججوں نے گویا سیکریٹری دفاع، سیکریٹری آف اسٹیٹ، سیکریٹری ہوم لینڈ سیکیورٹی اور کمانڈر ان چیف کا عہدہ سنبھال لیا ہے۔ ملر نے اسے "پاگل پن" اور "خالص لا قانونیت" قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جمہوریت پر سب سے بڑا حملہ ہے۔ اسے روکنا ضروری ہے۔