خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ کوئی `بڑی رئیل اسٹیٹ سائٹ` نہیں ہے جو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے قبضہ میں چلی جائیگی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے لاکھوں فلسطینی، نسلوں سے اپنا گھر کہتے آئے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 15, 2025, 9:54 PM IST | Inquilab News Network | Washington
خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ کوئی `بڑی رئیل اسٹیٹ سائٹ` نہیں ہے جو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے قبضہ میں چلی جائیگی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے لاکھوں فلسطینی، نسلوں سے اپنا گھر کہتے آئے ہیں۔
امریکہ میں سرگرم ۷۰ سے زیادہ قومی، مقامی سطح کی شہری حقوق اور مذہبی تنظیموں نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اپنے غزہ منصوبہ کو ترک کرنے کی اپیل کی ہے۔ تنظیموں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ غزہ پٹی پر "قبضہ" کرنے اور وہاں کی فلسطینی آبادی کے زبردستی انخلاء کی اپنی تجویز ترک کر دیں۔ تنظیموں کے سربراہان نے جمعرات کو امریکی صدر کو بھیجے گئے ایک دستخط شدہ خط میں ٹرمپ کی حالیہ تجاویز پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا جس میں تقریباً ۲۰ لاکھ فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کرنے کی وکالت کی گئی۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ خطہ میں عدم استحکام لانے والی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونے کی بجائے غزہ میں جنگ بندی کا باعث بننے والی سابقہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھائے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی یہودی علماء وشخصیات نےمذمت کی
دستخط کنندگان میں کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز، امریکن مسلمز فار فلسطین، پیس ایکشن اور یو ایس کونسل آف مسلم آرگنائزیشنز کے ساتھ متعدد تنظیمیں اور وکالتی گروپ شامل ہیں۔ جمعہ کو عوامی سطح پر شیئر کئے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ میں نسلی تطہیر اور امریکی قبضہ، عرب اور مسلم دنیا میں شدید رد عمل پیدا ہوگا، امریکی فوج کو نئی جنگوں میں ہمیشہ کیلئے الجھانے کے باعث امریکی وسائل ضائع ہوں گے اور فلسطینی ریاست کا پرامن قیام ناممکن ہو جائے گا جس سے خطہ میں مزید تنازعات پیدا ہوں گے۔" تنظیموں نے متنبہ کیا کہ ٹرمپ کا منصوبہ جنگ بندی معاہدے کے پیچھے کار فرما پیش رفت کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ بھی پڑھئے: اقوام متحدہ کے نمائندہ برائے فلسطین کو حقوق انسانی کا اعلیٰ اعزاز تفویض
خط میں کہا گیا ہے کہ غزہ کوئی `بڑی رئیل اسٹیٹ سائٹ` نہیں ہے جو سب سے زیادہ بولی لگانے والے کے قبضہ میں چلی جائیگی۔ یہ وہ سرزمین ہے جسے لاکھوں فلسطینی، نسلوں سے اپنا گھر کہتے آئے ہیں۔ خط میں ٹرمپ پر زور دیا گیا کہ وہ علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر غزہ کے رہائشیوں کو بے گھر کئے بغیر تعمیر نو کیلئے اقدامات کام کریں۔ خط میں کلیدی اہداف کے ساتھ ایک وسیع تر امن ایجنڈے کا بھی خاکہ پیش کیا گیا ہے جس میں مستقل جنگ بندی، غزہ کی انسانی بنیادوں پر تعمیر نو، فلسطینی ریاست کیلئے ایک بین الاقوامی ترقیاتی فنڈ، فلسطینی ریاست کیلئے مکمل امریکی تسلیم اور اسرائیلی قبضے اور امتیازی پالیسیوں کا خاتمہ شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۶۴ فیصد افراد نے ٹرمپ کے غزہ پر قبضے کرنے کے منصوبے کی مخالفت کی: سروے
واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو سے واشنگٹن میں ملاقات کے بعد ٹرمپ نے ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ امریکہ غزہ پر قبضہ کرے گا اور ایک غیر معمولی تعمیر نو کے منصوبے کے تحت فلسطینیوں کو دوسرے ممالک (مصر اور اردن) میں آباد کرے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ غزہ پٹی کو "مشرق وسطی کے سیاحتی مقام" میں تبدیل کردیں گے۔ فلسطینیوں، مسلم اور عرب ممالک اور کئی دیگر ممالک سمیت اقوام متحدہ کی جانب سے ٹرمپ کی تجویز کی بڑے پیمانے پر مذمت کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ سے فلسطینی بچے علاج کیلئے بحفاظت اٹلی منتقل
اقوام متحدہ کے مطابق، ۷ اکتوبر ۲۰۲۳ء کو فلسطینی گروپ حماس کے اسرائیل پر حملے اور غزہ میں جنگ کے آغاز کے بعد اسرائیل کے ۱۵ ماہ جاری رہنے والی جنگی کارروائیوں میں ۴۸ ہزار ۲۰۰ سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔ مہلوکین میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔ نسل کشی پر مبنی جنگ نے غزہ کو کھنڈرات میں تبدیل کرکے رکھ دیا ہے اور تقریباً ۲۰ لاکھ باشندے بے گھر ہو چکے ہیں۔ غزہ کی آبادی خوراک، پانی اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا کررہی ہے۔ اسرائیل نے برسوں سے غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور مؤثر طریقے سے اسے دنیا کی سب سے بڑی اوپن ایئر جیل میں تبدیل کر دیا ہے۔